قربانی کریں یا غریبوں کی مدد؟

بکرے کاٹنا چھوڑ کر دوسروں کی مدد کی جائے کے مسئلے  پر ایک بھائی صاحب کے ساتھ مزے دار اور دل چسپ مکالمہ ہوا۔
بھائی صاحب!
“حضور وقت بدل چکا، اب قربانی کے معانی آپ ویلفیئر کے طور پر بھی لے سکتے ہیں، اُس کو ہی سنت ابراہیمی سمجھ کر کر لیں یقیناً  خدا ثواب دے گا، جیسے ہم گھوڑے کا متبادل جہاز استعمال کرتے  ہیں ، لیکن ثواب ہمیں   سواری کرنے کا  ملتا ہے، ایسے ہی اس قربانی کو اگر ہم فلاحی کاموں میں بدل  دیں ؟”
میرا مسئلہ یہاں کسی کو روکنا مقصود نہیں بلکہ اگر اتنی بڑی دولت کا رخ علما کرام کسی اور جانب موڑ دیں تو ضرور کل کلاں کوئی ایسے سوال نہیں اٹھا پائے گا۔
وقار عظیم
“یہ ویلفیئر کی یاد اسی وقت کیوں آتی ہے، جب اللہ کا حق ادا کرنے کی باری ہو؟ یعنی سنت ابراہیمی کے وقت؟ ہزاروں کے موبائلز، بیٹوں بچوں کی سالگرہ، قیمتی شاپنگ، مہنگے لذیذ کھانے، قیمتی گاڑیاں خریدتے وقت یہ ویلفیئر کی یاد کس کونے جا سوتی ہے بھائی؟؟”تب بھی یقیناً آتے ہیں لیکن ایک ساتھ اتنا منوں گوشت؟ حالانکہ دنیا میں ہم پہلے ہی گوشت خوری واسطے مشہور ہیں۔”یہ گوشت معاذ اللہ خدا اور اس کے فرشتے تو نہیں کھاتے۔۔۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ عید الاضحیٰ پر قربانی بذات خود ایک بہت بڑا ویلفیئر ہے۔۔۔۔بکرے بیچنے والے زیادہ تر غریب غرباء لوگ ہیں،ان کے گھر کا خرچہ چلتا ہے،سال بھر کا نہ سہی آدھے سال کا خرچہ نکل آتا ہے اگر وہ بیک وقت ایک عید پر پانچ چھ جانور بیچ دے۔۔۔پھر قربانی کے گوشت کے حصے کیے گئے ہیں،رشتے داروں اور غریبوں کو چھیاسٹھ فیصد گوشت جاتا ہے،جس نے پیسہ لگایا اسے محض 33فیصد حصے میں آتا ہے۔۔۔اس سے بڑا ویلفیئر کیا ہو گا کہ آپ اپنی انویسٹمنٹ کا چھیاسٹھ فیصد بانٹ دو؟”
 
بھائی صاحب
“بکرے کاٹنا حضور اب فیشن بن چکا، اگر یہی کاٹنا ہی اتنی بڑی ویلفیئر ہے آپ کے مطابق تو پھر ، بجلی، تعلیم ، ہسپتالوں اور مادی ترقی کا رونا کیوں؟ اتنے سالوں سے یہ کام ہو رہا ہے خاطر خواہ ترقی کیوں نہیں مل رہی ؟ کیوں غریب دن بدن غریب ہوتا جا رہا ہے اورپھر جب ہم دوسری جانب ایدھی جیسے ، ادیب رضوی جیسے یا پھر شوکت خانم جیسے والوں کی طرف دیکھتے ہیں تو کیوں ہمارے قد خود بخود اونچے ہو جاتے ہیں۔میرا مسئلہ یہاں کسی کو روکنا مقصود نہیں بلکہ اگر اتنی بڑی دولت کا رخ علما کرام کسی اور جانب موڑ دیں تو ضرور کل کلاں کوئی ایسے سوال نہیں اٹھا پائے گا”۔
وقارعظیم
“تو گویا بجلی، تعلیم ہسپتال اور مادی ترقی بھی عوام اپنے پیسوں سے کرے؟ اور حکومت بیٹھ کر رونے روے کہ ہمیں کیوں نکالا؟ کمال کرتے ہو صاحب۔۔۔۔اپنے پوائنٹ کو درست ثابت کرنے کی خاطر خدارا اتنی دانش مندانہ باتیں نہ کریں کہ ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جائیں۔اور بکرے کاٹنے والے کی کیا نیت ہے۔۔وہ نیکی کر رہا ہے یا فیشن؟ اس بات کو آپ خدا پر چھوڑ دیں ،ورنہ آپ میں اور منبر پر بیٹھے دوسروں کو کافر کافر کہنے والوں میں کوئی فرق نہیں،دونوں ہی اپنی مرضی سے لوگوں کو جج کرتے ہیں۔
میرابھی ایک  مشورہ  ہے۔چاند راتوں کو ہونے والی اربوں بلکہ کھربوں کی شاپنگ کا رخ علماء کسی اور جانب موڑیں۔۔۔وہ صیح معنوں میں قربانی کہلائے گی کیوں کہ قربانی ہوتی ہی وہ چیز  ہے  کہ اپنا من مار کر کسی اور کو دے دینا،یہ بکرے بیچارے تو 33 فیصد آپ کے ہوتے ہیں، باقی چھیاسٹھ فیصد معاشرے کے،ہاں وہ جو کھربوں کی شاپنگ پورے ملک میں ہوتی ہے وہ سو فیصد اپنی۔۔کیا خیال ہے اس کا رخ نہ موڑا جائے۔۔اور بکروں کو چھوڑ کر ان کے خلاف کمپین چلائی جائے۔”
بھائی صاحب!
“مطلب ہم اس شو بازی سے باز نہیں آنے والے :
کرتے رہیں ، ہمارا  تو بس کہہ دینا ہے عمل خداوند کریم دے گا”
وقار عظیم!
“عمل نہیں اجر خداوند کریم دیتا ہے۔۔جب اجر اس نے دینا ہے تو بھائی صاحب۔۔بہتر نہیں ہم بیچ مامے خان نہ ہی بنیں،وہ قربانی کا اجر دیتا ہے یا نہیں یہ اس رب کی ذات پر چھوڑ دیتے ہیں”۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *