تُکے سے جیتنے کا مزہ نہیں آنا۔۔۔۔حسین مرزا

مجھے کرنا کیا ہے؟ سب سے پہلے تو  بڑا سوال یہ ہے، باقی باتیں بعد کی ہیں کہ  کون سی انڈسٹری میں اپنا  رنگ جمانا ہے۔ ایک دم پورا پکا کر کے، ایک سہی بات بتاؤں مجھے نہ آج اپنے لیے  لکھنے میں مشکل ہو رہی ہے وہ جو میں اکثر لکھا کرتا تھا کہ آج میں نے یہ غلطیاں کیں اور زندگی سے یہ اسباق سیکھنے کو ملے اور آگے جینے کے لئے ایسے حکمتِ عملی بنانی ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ کچھ سوچ میں ہلکی پھلکی پختگی آ رہی ہے اور اس کے علاوہ پیسے کمانے کا ہنر بھی کچھ نہ کچھ سیکھ لیا ہے تو زندگی میں کچھ ٹھہراؤ لایا جائے جو کہ مجھے شاید کبھی پسند نہ تھا ، مگر سوچ ابھی بھی ڈگمگاتی ہے اس بات کا حقیقی طور پر نہیں پتا ہوتا کہ میں نے کرنا کیا ہے، صرف پیسہ کمانا ہی تو مقصد نہیں ہے ناں! کام میں نکھار ہونا بہت حد تک ضروری ہے۔
اب یوں کہوں کہ  بادہ نوں اکثر
ہر لغو بُھلا کر ہوش میں رکھتا ہے

لکھاری بننے کے لیے اگر اچھا سُننا اور پڑھنا ضروری ہے تو میں نے ہر چلتی پھرتی چیز کو پڑھنا شروع کر دیا اور اُس کے بعد ہاتھ خود بخود جس طرح لکھتے گئے میں ہاتھ چلاتا گیا ہاں، ایک بات ضرور ہوتی تھی کہ جب میں لکھنا شروع کرتا تھا بس ایک بات کو دیکھتا تھا کہ کتنا لکھنا باقی ہے اور کتنا لکھنا ضروری ہے۔ بہت دیر بعد جا کہ یہ احساس ہوا کہ نہ ہر بات لکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی ہر بات یاد رکھی جا سکتی ہے۔
کبھی منظر بھول جاتا ہوں تو کبھی بات کی رمز لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ یاد رہ جاتا ہے شاید  وہ ہی ضروری ہوتا ہے۔ اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنی  طرز سے جینا تو  بہت آسان ہے، کوئی بھی کر سکتا ہے مگر اُس راستے کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہو جا تا ہے جس میں سب کی بھلائی ہو۔ اور اس راستے کو ہم اکثر چُننے سے گبھراتے ہیں۔
منظر میں نے ایک یہ بنایا تھا اُس وقت   جب میں مکمل تھک چکا تھا اور بس نیند میں گُم ہونے والا تھا۔ کوئی وقت تھا شام کا اور میں جنگل میں جھاڑیوں کا راستہ صاف کرتے کرتے آگے بڑھ رہا ہوں اور ساتھ یہ بھی سوچ تھی کہ یہ زمین کا حصہ کسی مخلوق کے تو کام آئے گا۔
اور بھی تھے ایک دو خیال جیسے کہ اشارہ بند تھا اور میری موٹر سائیکل پیچھے تھی اور میں اگلے والے کو یوں ہی ہارن دیئے جا رہا تھا جبکہ میرا اشارہ توڑنے کا کوئی منصوبہ بھی نہیں تھا، لیکن پھر بھی مجھے ساتھ جا کر کھڑے ہونا تھا۔ اُس  وقت سوچ یہ تھی کہ میں اُس قوم کا باشندہ ہوں جو پیچھے رہنا پسند نہیں کرتی لیکن بعد میں خیال آیا کہ میں صحیح  طریقے سے بھی آگے نہیں آیا تھا۔زندگی آپ کا ہر صورت امتحان لیتی رہتی ہے۔۔خود کو تیار رکھیے !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *