جو سچ بولے گا وہ مرے گا۔۔۔۔اے وسیم خٹک

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جتنا چاہو جھوٹ بو لو ، مزے میں رہو گے کامیابی بھی مقدر   ہوگی ۔دنیا بھی اُسی کی ہوگی ۔ جو اصولوں پر چلتا ہے اُس کا اس ملک ناپرسان میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ سچ بولنے  والے ہمیشہ زیرعتاب رہے ہیں ۔ ظلم کے پہاڑ سچ بولنے والوں پر ٹوٹتے ہیں جھوٹو ں کی ہمیشہ واہ واہ ہوتی ہے دنیا انہیں سر پر بٹھاتی ہے مگر جب کبھی سچ کے پرچارک بنو گے ۔قبر پھر آخری آرام گاہ ہوگی ۔اور یہ میرے خیال میں پوری دنیا میں ہوتا آرہا ہے پہلے دنیا سچے لوگوں کی ہوتی تھی ۔ آج کل دنیا جھوٹے لوگوں کی آماجگا بن گئی ہے ۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور جب حد سے تجاوز کیا جاتا ہے تو پھر لازم ہے کہ پر کاٹنے پڑتے ہیں ۔ ملکی حالات کا بھی یہی حال ہے ۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جس پر خاموش رہنا پڑتا ہے۔ کیونکہ خارجہ پالیسی کے بھی اصول ہوتے ہیں ۔ ملکی سالمیت سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے ۔ جس کے لئے حکومت اور فوج ایک پیج پر ہوتی ہے ۔ کبھی کبھار ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوتے ہیں اور اُس کےلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ بات کی جاتی ہے کہ طالبان کو پاکستان نے پیدا کیا کیونکہ افغانستان میں روس کے تسلط سے آزادی حاصل کرنی تھی ۔ پھر جب وہی طالبان پاکستان میں ابھرے ،حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا تو آپریشن ضرب عضب ، آپریشن راہ راست کے ذریعے اُن کی کمر توڑی گئی اب جو کچھ ہورہا ہے وہ ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ ہورہا ہے ۔

سوشل میڈیا کے اُبھرنے سے ایک بڑی تعداد خود کو سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے نام سے جان رہی ہے ۔ وہ معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے اپنی طرف سے کوششوں میں مصروف ہیں ۔ مگر کچھ لوگ اس ایکٹوازم میں اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ پھر اُن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا ہے۔ برائی کے خلاف میڈیا کا پہلے بھی استعمال ہوتا تھا مگر اب سوشل میڈیا کے آنے کے بعد بہت زیادہ ہونے لگا ہے ۔ اور جوپوسٹ سوشل میڈیا پر کی جاتی ہے وہ ایک نظام کے تحت چلتے چلتے منزل مقصود پر پہنچ جاتی ہے ، جو مقصد ہوتا ہے وہ پورا ہوجاتا ہے ۔ کئی مثالیں یہاں موجود ہیں جس میں سوشل میڈیا نے ایک طاقت کا روپ دھارا ہے اور سب لوگوں نے اکٹھے ہوکر آواز بلند کی ہے تو مسئلہ حل ہوا ہے ۔ بہت سے لکھنے والے سوشل میڈیا نے پیدا کیے ہیں ۔ جن کو مین سٹریم میڈیا پر کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ وہ اپنے پیج سے اپنی آواز کو بلند کر رہا ہے ۔ اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوجاتا ہے ۔ دنیا انہیں پہچاننے لگی ہے ۔ جس طرح جھوٹ لکھنے والے سوشل میڈیا پر موجود ہیں اُسی طرح سچ کے شیدائی بھی سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں ۔ جن کو حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض ہوتا ہے ۔ جن کو سیکورٹی فورسز کی کارکردگی پر تحفظات تو عدلیہ اور دیگر شعبہ جا ت پر بھی انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ جن کی باتیں صحیح ہوتی ہیں ۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں باتیں ہوتی ہیں مگر وہ چونکہ سچ ہوتی ہیں اس لئے وہ کڑواہٹ رکھتی ہیں اور اداروں کے لئے وہ ناقابل قبول ہوتی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی پوسٹ جب آپ شئیر کرتے ہیں تو یہ مت سوچیں کہ یہ آپ تک محدود ہے وہ آپ تک محدود نہیں ہوتی وہ نکل کر نقار خانوں میں آگ لگادیتی ہے ۔ اور پھر یہ آگ چلتے چلتے واپس ہوکر آپ کو آگ لگا دیتی ہے ، جس کی تپش کے آلاﺅ میں عمر بھر پھر آپ کے خاندان ، بیوی بچے جلتے ہیں ۔ کیونکہ وہ آگ آپ کو جلا کر جلا بخش دیتی ہے مگر وہ عمر بھر جلتی رہتی ہے ۔ اور یہ دنیا چونکہ جھوٹوں کی دنیا ہے اس لئے یہاں ضمیر کو مار کر جھوٹ کی دنیا میں خود کو ایڈجسٹ کرنا سیکھ لیں کیونکہ اس دنیا میں جو سچ بولے گا وہ مرے گا۔ کل طاہر داروڑ مرا تھا آج بلال خان مرا ہے کل کوئی اور سچ کی پاداش میں جان کی بازی ہاردے گا۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنیں گے۔ میڈیا پر کچھ دن ٹکر چلیں گے۔ قاتلوں کی گرفتاری کے دعوے ہونگے ۔ مگر ہوگا کچھ بھی نہیں ۔ اور پھر لوگ بلال خان کو بھول کر ایک نئے بلا ل خان کا انتظار کریں گے جو میں بھی ہوسکتا ہوں یا آپ میں سے بھی کوئی ہوسکتا ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *