ڈیجیٹل لو۔۔۔۔فیضان متین

سیف : “یار قسم سے بس دیکھ کے ڈیلیٹ کردوں گا”
سحر: “تمھیں پتا ہے سیف میں ایک اچھی فیملی سے ہوں ، میں نے آج تک کسی انجان انسان سے فیس بک پہ بات تک نہیں کی ۔۔ تم پہلے شخص ہو جس کی باتیں دوسروں سے الگ لگیں  ۔۔ اسی لئے تو میں تمھیں پسند کرتی ہوں” ۔۔ سیف : “یار اسی لئے تو کہا میرا یقین رکھو میری اپنی بھی ماں بہنیں ہیں ، اگر میں تمھاری  تصویر کے ساتھ کچھ غلط کروں گا تو میرے ساتھ بھی غلط ہوسکتا ہے۔”

سیف اور سحر کی فیس بک پہ ایک ہفتے پہلے ہی بات ہوئی تھی۔ اور اتنے کم عرصے میں دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے۔ اور آج سیف نے موقع  دیکھ کے سحر سے تصویر  کی ڈیمانڈ کردی۔

سحر: ” یار تم سمجھ نہیں رہے سیف ۔۔”
سیف: “اوکے یار مرضی ہے تمھاری تم شاید مجھے غلط انسان سمجھتی ہو”

اور تاش کا آخری پتا پھینکا گیا ۔۔۔

“اچھا بابا ناراض نہ ہو میں بھیجتی ہوں”

اور پھر چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ میسنجر میں سحر کی کسی ایونٹ کی تصویر نمودار ہوئی ۔ سیف کی نظریں سکرین پہ جمی ہوئی تھیں ۔۔
“یار یہ تو میری توقع سے زیادہ حسین ہے ، اُف”
سیف کا اَن ریڈ میسج سکرین پہ تھا ” جی جناب تو کیسی لگی میں ۔۔ اور پلیز اب جلدی سے ڈیلیٹ کردو”

سیف : ” ارے تم تو بہت پیاری ہو۔۔ اور ڈیلیٹ تو میں نے اسی وقت کردی تھی”۔

سیف : “شکریہ ۔۔ اور اب تم اپنی ریئل  تصویر  بھیجو”
سیف یہ سن کہ چونکا ” اسے کیسے ۔۔۔”
“کیا مطلب رئیل پک ۔۔ یہ جو ڈی پی پہ لگی ہے وہ پلاسٹک کی ہے کیا ”
سحر : “ہا ہا ۔۔ ارے میں سمجھی کسی ایکٹر کی پک لگائی ہے تم تو بہت ہینڈسم ہو یار”
سیف : “ہاں بس کبھی غرور نہیں کیا۔۔ ہاہا”

سیف گہرے خیالات میں گم ہوگیا اور آگے کی پلاننگ کرنے لگا ۔۔ شکار جال میں خود پھنستا جارہا تھا۔۔۔۔
اسے سحر کی بے وقوفی پہ ہنسی آرہی تھی۔۔ ” ہاہا ہا ۔۔۔یار اسے میری پروفائل دیکھ کہ بھی اندازہ نہیں ہوا۔۔بے وقوف کہیں کی ۔۔ لیکن اگر اسے یہ راز پتا چل گیا تو ؟ ”
سیف پھر سوچ میں چلا گیا ۔۔

“یار پتا لگ بھی گیا تو کیا ہوا تب تک تو میں فل انجوائے کرچکا ہوں گا ، اور کون سا یہ اکیلی ہے ایف بی پہ ۔۔ اپنے ٹیلنٹ سے کسی بھی لڑکی سے کچھ بھی کرواسکتا ہوں ہاہاہا” ۔۔

دوسری طرف سحر ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھی ، کم از کم اب اس کی وقت گزاری کا کوئی ذریعہ تو تھا۔۔ ویسے بھی ستائیس سال عمر ہونے اور گھر میں سب سے بڑی ہونے کے بعد بھی کوئی معقول رشتہ نہ ملنے پر وہ اب تھک چکی تھی۔۔ ایسے میں سیف سے کی گئی باتیں اسے اچھی لگنے لگی تھیں  کہ کوئی تو ہے جو مجھے سمجھتا ہے اور اہمیت دیتا ہے۔
شاید  یہی وجہ تھی کہ وہ صرف ایک ہفتے میں سیف سے اتنی  قریب  ہوگئی تھی۔۔ وہ اس کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔ اسے خود پہ حیرانگی بھی تھی کہ اسےکیا ہوتا جارہا ہے ۔۔۔
ابھی ہفتہ پہلے تو ‘سیف خان’ نام کی ایک آئی ڈی سے گروپ میں ایک پوسٹ شئیر ہوئی ” کمنٹ میں ہیلو ٹائپ کریں میں آپ سے انباکس میں ایک سوال کروں گا” اس کے کمنٹ میں ہیلو لکھنے کی دیر تھی کہ  میسج ریکویسٹ میں ایک اَن ریڈ میسج نظر آنے لگا ۔۔ ریڈ کرنے پہ سیف خان کا سلام وہاں موجود تھا ۔۔۔

” وعلیکم السلام ۔۔ جی کیا سوال تھا آپ کا ” ،

سیف خان:
“سوال تو ایک پہیلی ہے لیکن اگر آپ جواب نہ دے سکیں  تو پھر میں کچھ اور سوال کروں گا”

سحر انصاری:
” اوکے پوچھیں میں ویسے بھی رڈلز میں ماہر ہوں”

سیف خان:
” جی تو بتائیں انگلش میں ای کے بعد کیا آتا ہے؟”

سحر انصاری:
“ارے کیا بچوں والا سوال ہے ، ایف آتا ہے ”

سیف خان:
“ہاہاہا غلط ۔۔۔ انگلش میں ای کے بعد این آتا ہے۔۔ چلیں اب میرے باقی سوالوں کے جواب دیں”

سحر انصاری:
” یہ تو چیٹنگ ہے ۔۔ خیر میں ہارگئی تو اب جواب دینا پڑیں گے”

اس کے بعد عمر ، شہر ، تعلیم ، بہن بھائیوں کی تعداد، والد کا پروفیشن اور بات چلتی رہی۔۔ سیف نے بتایا کہ وہ اکلوتا بیٹا ہے اور اس کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کی کسی انسان کو خواہش ہوتی ہے۔۔
اب وہ دونوں گھنٹوں باتیں کرنے لگے۔ سحر محسوس کررہی تھی کہ اسے سیف سے بات کرنا اچھا لگنے لگنے لگا ہے ۔۔ اور دبےدبے لفظوں میں دونوں نے پسندیدگی کا اظہار بھی کردیا تھا۔۔ اور پھر اس دن جب سیف نے  تصویر کا کہا تو وہ انکار نہ کرسکی۔۔۔

“سحر میں نے سنا ہے تم نے وٹس ایپ پہ پروفائل پکچر بہت خوبصورت لگائی ہے”

“ہیں! کیا مطلب بھئی ۔۔ تم نے میرا وٹس ایپ کیسے دیکھ لیا ۔۔۔ میرا نمبر تو تمھارے پاس سیو نہیں ہے-”

“وہ تو تم ابھی دینے والی ہو نا تا کہ میری کہی ہوئی بات سچ ہوسکے”

“ہاہا بہت چالاک ہو یار ، اچھا طریقہ ہے نمبر مانگنے کا”

“جی تو 03 کے  آگے کا بتا ؤ  تاکہ تمھاری ڈی پی دیکھ سکوں”

“لیکن سیف اگر کسی کو پتہ چل گیا تو ؟ ”

“ارے پتا تو تب چلے گا جب تم بتاؤگی”

“نہیں یار میری بہن بھی کبھی کال کے لئے فون مانگ لیتی ہے اس لئے کہا”

“تو میرا نمبر صوفیہ لکھ کے سیو کرلو۔۔ سمپل”

“ہاہاہا حد ہے  صوفیہ۔۔ میری ہنسی نہیں رک رہی”

“ہاں تو بتاؤ پھر نمبر”

“تم اپنا نمبر دو میں ٹیکسٹ کرتی ہوں”

اوکے ٹائپ کرکے سیف نے انٹر کیا اور فاتحانہ انداز میں ہاتھ کو لہرا کر خود سے گویا ہوا ” یس ! ویلڈن سیف صاحب ۔۔ نمبر بھی ہاتھ آگیا۔۔ ہاہاہا”

سحر کی   اب ہر چیز سے دل چسپی ختم ہوتی جارہی تھی ، صرف موبائل پہ وٹس ایپ اوپن ہوتا تھا اور سیف سے باتیں ہوتی تھیں ۔ وہ دونوں پوری پوری رات باتیں کرتے تھے اور صبح کے وقت سوتے تھے۔۔ بات پہلے میسجز کی حد تک تھی لیکن اب ایک دوسرے کے ساتھ پکس اور ویڈیوز بھی شئیر ہونے لگی تھیں ۔۔

ایک بات سحر کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ سیف نے وٹس ایپ پہ اپنی پک نہیں لگائی ہوئی تھی اور نک نیم بھی ‘پلیئر’ لکھا ہوا تھا ۔۔۔ سیف سے پوچھنے پر اس نے بس یہ کہا کہ “بھئی نظر لگ جاتی ہے نا ، کیا کروں ہینڈسم جو ہوں”۔

ان کو بات کرتے   ہوئے اب ایک مہینہ ہوگیا تھا ۔۔دونوں کے بیچ بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی۔۔ اور پھر سحر نے اسے آزمانے کا فیصلہ کرلیا۔۔

“سیف تم مجھے چھوڑو گے تو نہیں نا؟”

“کیسی بات کررہی ہو یار ۔۔ تم نے مجھے ایسا سمجھا ہوا ہے کیا؟”

“نہیں یار بس دل گھبرا رہا تھا سوچا  کہ “۔۔۔

“تم بالکل بے فکر رہو میری جان”

سیف نے آج پہلی دفعہ اسے جان کہا تھا۔۔اور اسے اچھا لگا تھا۔۔

“سیف ایک بات پوچھوں ۔۔ پلیز مائنڈ نہیں کرنا ”

” ہاں یار پوچھو نا ”

سحر کا سوال سن کے سیف حیرت سے باقاعدہ اچھل گیا تھا
“سیف کیا ہم مل سکتے ہیں؟”

اب پریشان ہونے کی باری سیف کی تھی ۔۔ “یار کیا بہانہ بناؤں اسے۔۔۔ ملنے کے بعد تو اسے میری اصلیت پتا چل جائیگی اور پھر یہ بات نہیں کرےگی”

“ہاں ملے گے نا ، کیوں نہیں لیکن میں نے شاید  تمھیں بتایا تھا نا  کہ نیکسٹ ویک میرا ٹرانسفر اسلام آباد ہورہا ہے تو اب کراچی بہت کم آنا ہوگا”
سیف نے ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔

“یار صرف ایک دفعہ کی تو بات ہے کون سا بار بار ملنے کا کہہ  رہی ہوں۔ میں تم سے مل کے ہماری آگے کی لائف کے بارے میں ڈسکس کرنا چاہتی ہوں۔۔ کیا تم سیریس نہیں ہو”

“ایسا مت کہو جان ! اچھا اگر  ممکن ہوا تو میں تمھیں بتادوں گا”۔۔

“یار تم نے اس دن ویڈیو کال کا بھی منع کردیا تھا ، میں تمھیں دیکھنا چاہتی ہوں سیف”

“یار میری جان جی بھر کے دیکھ لینا بس کچھ ٹائم دو پھر تم ہمیشہ کے لئے میری ہوگی”

“یار بس ایک دفعہ اپنے وجود کا یقین دلادو ۔۔ مجھے پتا نہیں کیوں لگتا ہے کہ یہ سب ایک سراب ہے جو ختم ہوجائے گا۔۔ میں اس رشتے کو انٹرنیٹ کی دنیا سے اصلی دنیا میں لانا چاہتی ہوں”

“اس کا مطلب تمھیں مجھ پہ بھروسہ نہیں؟”

“یار تم کیوں نہیں سمجھتے مجھے۔۔۔”

“کیونکہ تم میتھ کا سوال تو ہو نہیں” سیف نے ٹاپک بدلنے کی کوشش کی۔۔

“ایک تو تمھارا یہ ہر بات میں سینس آف ہیومر” سحر نے اکتاہٹ سے جواب دیا۔۔۔ سیف رات کو کال کرنے کا کہہ کر کسی کام سے چلا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو چار بجے فون کی وائبریشن پہ سحر کی آنکھ کھلی ، سکرین پہ ‘صوفیہ کالنگ’ لکھا ہوا آرہا تھا ۔ سحر نے پہلے باہر نکل کر  چیک کیا سب سورہے تھے، اس کے بعد کال اٹینڈ کی ۔۔

” یہ وقت ملا ہے فون کرنے کا؟”سحر نے خفگی کا اظہار کیا۔

“ارے میری جان ہمارا تو سارا وقت آپ کے لئے ہے” سیف کے لہجے میں خمار اور بے تکلفی تھی۔

” آو کچھ پیار بھری باتیں کرتے ہیں۔۔”

“تمھیں تو مجھ سے پیار ہے نہیں تبھی نہیں اپنا رہے”

“ارے ہے نا  پیار ۔۔ کیا میں تمھیں کر کے  دکھاؤ ں  فون پہ؟ ”

سحر نے اتنا بے تکلف ہو کر کبھی کسی لڑکے سے بات نہیں کی تھی ۔۔ ایسی باتیں اور رات کا وقت اس پہ سیف کا جادو چلانے کے لئے کافی تھا۔۔

“سیف مجھے اپنالو ۔۔ ہمیشہ کے لئے اپنا بنالو”

“تم میری ہی تو ہو جانو۔۔ اچھا ذرا بتاو تم نے کیا پہنا ہوا ہے اور ابھی کیا کررہی ہو؟”سیف کی بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔

اور پھر رات گزرتی رہی اور دونوں کی بے تکلفی بڑھ کے بہت آگے پہنچ گئی۔۔ سیف آج اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب راتوں کو فون پہ اس طرح کی باتوں کا معمول بن چکا تھا ۔۔۔ سحر نے کئی بار سیف سے ملنے کا کہا لیکن وہ ہر بار ٹال دیتا ۔ سحر اب اس کے بغیر جینے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔۔ وہ اس کے ساتھ زندگی کے خواب دیکھنے لگی۔۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر ایک دن اس کی دوست کا میسج آیا۔

“سحر یہ جو سیف خان نام کی آئی ڈی تمھارے پاس ایڈ ہے یہ کون ہے؟”

سحر اسکا سوال سن کے چونکی ۔۔ “ایسے ہی ایف بی فرینڈ ہے کیوں کیا ہوا؟ سب خیریت ”

“یار اس نے یہ جو ڈی پی لگائی ہوئی ہے اس کی اپنی ہے؟”

“ہاں اپنی ہے کتنا کیوٹ ہے نا”

“ہاں لیکن تمھیں کیسے پتا یہ اس کی اپنی ہے؟”

“یار اس نے مجھے اپنی کافی پکس بھیجی ہیں ۔۔ ویسے ہوا کیا؟”

“یار سچ سچ بتانا تم اس میں انٹرسٹڈ ہو نا ۔۔ میں نے اس کے کافی کمنٹس  پڑھے   ہیں تمھاری پکس پہ”

“او اچھا تو آپ جیلس ہورہی ہیں ۔۔ ہمم”

“یار جیلس نہیں تمہیں خبردار کررہی ہوں۔۔ تم اتنی بے وقوف ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا”

“یار کیوں ٹینشن دے رہی ہو بھئی۔۔ ہاں میں اسے پسند کرتی ہوں۔ اور وہ بھی مجھے۔۔ لیکن تم ابھی کسی کو نہیں بتانا”

سحر کی دوست کو اندازہ نہیں تھا کہ معاملات پسند سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ اور فون پر ہی ‘بہت کچھ’ ہوچکا ہے۔

“یار میری یہ بات دھیان سے سنو ۔۔ کیا  تم نے کبھی اسے پکس کے علاوہ دیکھا ہے۔۔ مطلب ریئل میں یا ویڈیو میں؟”

ایسا تو واقعی کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔ وہ کتنی بار سیف کو کہہ  چکی تھی لیکن وہ ہمیشہ ٹالتا تھا۔ سحر پریشان ہو کر بولی۔۔
“نن۔۔ نہیں۔۔ لیکن اس نے کہا تھا کہ ملے گا”

“یار وہ تم سے کبھی نہیں مل سکتا کیوں کہ جو پک اس نے تمھیں اپنی بھیجی ہیں نا  وہ اس کی ہیں اور نہ اس کا نام سیف ہے۔۔ بلکہ یہ آئی ڈی ہی فیک ہے۔۔

سحر تقریبا ً چکراکر  زمین پہ گرنے والی تھی ۔۔” یا خدا یہ جھوٹ بول رہی ہو ۔۔ سیف ایسا کیسے کرسکتا ہے ”
اس نے خود پہ قابو پاتے ہوئے پوچھا۔۔
“لیکن تم اتنے یقین سے یہ بات کیسے کہہ  رہی ہو ؟ ”

“ویٹ میں کچھ دکھاتی ہوں ۔۔ ”
کچھ دیر بعد اس کی دوست نے ایک لنک سینڈ کیا ۔۔
“اسے اوپن کرو”

سحر نے کانپتے ہاتھوں اور پھٹی نظروں سے لنک اوپن کیا تو وہ ٹھٹک کے  رہ گئی۔۔

سکرین پر ایک پروفائل ‘جمشید شیخ’ کے نام سے اوپن تھی ۔۔ اور اس کی ڈی پی اور ساری تصاویر وہی تھیں  جو سیف نے اسے بھیجی تھیں ۔
سحر کی آنکھوں سے اب آنسو رواں تھے۔۔ آخری تنکے کا سہارا لیتے ہوئے بولی۔۔
“یہ بھی ۔۔ تو ہو سکتا۔۔ ہے نہ۔۔ کہ یہ بندہ سیف کی پکس ۔۔ مطلب یہ آئی ڈی فیک ہو”

“یہ فیک نہیں ہوسکتی کیوں کہ ان کے میوچل فرینڈز میں میرے بھائی بھی ایڈ ہیں اور میں ان سے کنفرم کرچکی ہوں”

“اگر یہ پکس کسی اور کی ہیں تو پھر سیف اصل میں کون ہے ؟ میں اتنی بڑی بےوقوفی کرسکتی ہوں مجھے اندازہ نہیں تھا” سحر روہانسی ہو کے  بولی۔۔

اس نے غصے اور اداسی کی ملی جلی کیفیت میں سیف کو میسج میں وہ پروفائل لنک سینڈ کیا ۔۔ “وٹ از دز؟ جواب دو مجھے؟ کون ہو تم ؟ ۔۔۔ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا ۔۔ کچھ تو جواب دو ۔۔ میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی دھوکے باز”

کچھ دیر بعد میسج ‘سین’ ہوا اور اس کے بعد میسنجر پہ ‘یو کین ناٹ ریپلائی ٹو دس کنورسیشن’ لکھا ہوا آیا ۔۔۔ اس نے فوراً  وٹس ایپ  اور نمبر ٹرائی کیا۔۔ وہ ہر جگہ سے بلاک ہوچکی تھی۔۔

سحر نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ۔۔ سیف سے کی گئی سب باتیں ، وعدے اور دعوے اس کے ذہن میں منڈلانے لگے۔۔ ‘یا اللہ مجھے معاف کردے میں نے ایک انسان کی محبت میں خود کو برباد کرلیا۔۔۔ میں شاید تھی ہی اسی قابل۔۔ میں اسے بد دعا نہیں دوں گی بس تو انصاف کرنے والا ہے۔۔میں بہت بری ہوں میرے مولیٰ۔۔ بہت بری۔۔ میں نے ایک حلال رشتے کا انتظار نہیں کیا اور حرام کام میں پڑی۔ یہ یقینا ً اسی کی سزا ہے۔۔ مجھے معاف کردے” ۔۔۔

‘ سحر کو ‘ڈیجیٹل لو’ کا بہت گہرا سبق مل چکا تھا۔

کچھ دن بعد ایک دوسرے گروپ میں پوسٹ ہوئی۔۔۔”کمنٹ میں ہیلو ٹائپ کریں اور اپنا انباکس چیک کریں”۔۔۔۔۔ بہت سی لڑکیوں کے کمنٹس  آنے لگے۔۔۔

Avatar
فیضان متین
بلاگر کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے ، پیشے کے لحاظ سے ایک فیڈرل گورنمنٹ ادارے میں انجینئر ہیں اور شوق کے لحاظ سے اردو لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *