معصوم پھولوں کو کیسے بچایا جائے ۔۔۔منصور ندیم

آج  پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں خصوصا ًمعصوم بچے اور بچیوں کو بھی معاف نہیں کیا جارہا ،یقیناً اس کے بہت سارے عوامل ہیں, ماضی میں ہمیں کبھی ڈارک ویب کی بتی کے پیچھے لگایا گیا، تو کبھی لبرل ازم کو اس کا مرتکب جانا گیا اور کبھی عصری علوم یا مخلوط تعلیمی  نظام ان مسائل کا سبب گردانا گیا۔ میرے خیال میں ڈارک ویب یا ایسے کوئی عوامل کم ازکم پاکستان میں اس بڑھتے ہوئے رحجان کا اصل مسئلہ نہیں ہیں ۔

میرے نزدیک اس کے بنیادی محرکات یہ ہیں ۔

1- ہمارا معاشرہ جنسی گھٹن کا شکار ہے، روایات و سماجی اسٹرکچر اور مذہبی ملغوبے نے ہماری سوچ کو جکڑا ہوا ہے، اس پر عوام کی تعلیم و تربیت اور ضروریات زندگی (جنسی اور خانگی ) کی کمیابی بھی ایسے جرائم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ مذہبی ملغوبے سے مراد ہم اکثر اپنی علاقائی روایات کو مذہب کے مقابل مقدس بنا کر اور کبھی مذہبی تشریحات کی غلط تعبیر سے آج کے موجود بیشتر مسائل سے حقیقی طور پر رو گردانی کرتے ہیں ۔ ورنہ حقیقت سے کیا بعید ہے کہ اب تک جتنے بھی واقعات میں بچے یا بچیوں کا جنسی استحصال ہوا ہے ، وہ متاثرہ بچے یا بچی کا قریبی جاننے والا یا اس تک رسائی کرنے والا ہی تھا، چونکہ معاشرہ ان افراد کو انسانی ضرورت کی وہ جائز رسائی باآسانی نہیں دے رہا اسے لئے وہ اس طرح کے سنگین جرائم کے مرتکب ہوجاتے ہیں ۔ اور چونکہ وہ کسی نہ کسی صورت متاثرہ بچے یا بچی کو جانتا ہے ، تب ہی مجرم بعد از زیادتی اپنی شناخت کے خوف سے ان معصوم بچوں یا بچیوں کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔

2- قانون کا اطلاق معاشرے کی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ اس کی از سر نو حقیقی تشکیل نو کی ضرورت ہے، کیونکہ موجود عہد میں جنسی، یا جبری جنسی جرائم کی مختلف شکلیں سامنے آرہی ہیں ، جن کے مطابق ہمارے پاس قوانین ہی موجود نہیں ہیں ۔

3- پاکستان میں کوئی بھی  اداراہ حقیقتاً  اپنے فرائض میں سنجیدہ نہیں ہے اور اداروں سے وابستہ افراد کی تربیت بھی نہیں ہے اور وہ خود معاملات سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ بھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس مسائل سے نبرد آزما ہونے کا پلان یا صلاحیت یا اس کو بروئے کار لانے کے لئے ریاستی سطح پر سپورٹ بھی موجود نہیں ہے، اور کم علمی یا وسائل و طاقت کے غیر متوازن استعمال کی وجہ سے بھی یہ مسائل مزید بڑھ رہے ہیں ۔

4- سزائیں یقیناً اس وقت سخت رکھی جائیں، جب معاشرے کو سزاوں کے لئے قابل عمل بنا لیں ، جب انسانی بنیادی ضروریات کا حصول اور معاشرتی خرابیوں کا  ادراک  اور وسائل تک رسائی کا مکمل اختیار عوام کو دیا جائے، بعد از اختیار اور وسائل کی موجودگی کے بعد غلطی کو یقیناً  سزا کا حقدار مانا جائے گا اور اس کے بعد سزاوں کی سختی کا تصور کارگر ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ کئی خلیجی ممالک میں نشہ آور اشیاء کی فروخت، جنسی ہراسگی اور جنسی ریپ یا قتل جیسے معاملات میں،سخت سزائیں ہیں اور وہاں ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

5- ایک عام پاکستانی کی زندگی میں صحت مند تفریحات کی کمی، لاییبریریاں،  پارکس، گراونڈز، اور انسانی احساسات کی لطافت کے ذرائع کی کمی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

6- ہمارے معاشرے میں ہم نے رشتے داریوں اور معاملات میں  جو حفظ مراتب کے اصول طے کئے ہوئے ہیں ،ان میں اکثر زیادتی کا غلبہ زیادہ رہتا ہے،  والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو  اپنے مسائل کی نشاندہی کے لئے شدید فاصلہ ہے ، والدین اور بچوں میں اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر بچوں سے دوستی، ان کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنا اور انہیں کسی بھی غلطی یا پریشانی میں یہ اعتماد دینا کہ ان کے سب سے بہترین دوست ان کے والدین یا بہن بھائی ہی ہیں۔

ایک مزید بات یہ ہے کہ جب بھی ہمارے ملک میں جنسی آگاہی ، یا جنسی ادراک ، یا جنسی ضرورت کی رسائی کا ذکر کیا جاتا ہے ، ہمارا عمومی طبقہ اسے مادر پدر آزادی یا بغیر کسی ضابطے یا قاعدے کے جنسی آزادی کا تصور سمجھتا ہے ، اور روایتی یا مذہبی حلقے صرف اس  پر  تنقید تو کرتے ہیں لیکن لا محالہ فقط بیانیہ یا ماضی کے واقعاتی تصور میں حل پیش کرتے ہیں، موجود عہد کے اعتبار سے انسانی ضرورت و وسائل میں حقیقی اور قابل عمل حل سے چنداں دور رہتے ہیں۔ یا وہ حل ان کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ریاست بھی کسی ایسے اقدام کے لئے نہ تو سنجیدہ ہے نہ ہی انہیں عوام کے مسائل کا شاید حقیقی ادارک ہے کہ تعلیمی نصاب کی تشکیل نو کیسے کی جائے ۔

ویسے اگر واقعی ان معاملات کی حقیقی بنیادی وجوہات اور معاشرے کے رحجانات، اور انسانی ضروریات کے ادراک کے بغیر صرف سزا کا اطلاق کریں (اگر یہ لوگ ہر چوک پر ہر روز کسی کو پھانسیاں بھی دیں) تب بھی یہ معاملات حل نہیں ہونے والے ۔ معاشرے کو حقیقی طور پر جن چیزوں کی ضرورت ہے
اس میں
1۔ ہر سطح کی اور ہر فرد کی بلا تخصیص جنس ، تعلیم کی شدید ضرورت ہے۔
2- انسانی ضروریات تک آسان و جائز رسائی کے وسائل پیدا کرنا ریاست کے لئے بہت ضروری ہے، اگر ریاست یہ اقدام کرے یا اس کے مواقع عوام کو دے کہ وہ خود باشعور ہوکر اپنی ضروریات کا ادراک کرسکیں تو حقیقتاً  ان جرائم میں کمی آسکتی ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *