اے کاش میں آپ جیسا بن سکتا

ماضی قریب ہی کا قصہ ہے شہنشاہ غزل مہدی حسن مرحوم کی طرف سے حکومت پاکستان کو علاج معالجے کی درخواست دی گئی جو حکام بالا کی سرد مہری کی نذر ہوگئی پھر کسی دن کسی خبار میں دو کالمی خبر چھپی تو وزیر اعلی صاحب کو خواب غفلت سے بیداری نصیب ہوئی اور پانچ لاکھ کا چیک خاں صاحب کی نذر کیا اور فوٹو سیشن کروایا اور پھر یہ جا وہ جا۔
میں وحید مراد مرحوم کی آخری ایام کی آوارہ گردی کو بھی چشم تصور سے محسوس کرتا ہوں جب میلوں تنہا چلتے اور راہ گیروں روک روک کر بتاتے کہ میں وحید مراد ہوں تمہارے گزرے کل کا مایہ ناز ہیرو جس کی ایک جھلک دیکھنے کو اک زمانہ بیقرار ہوتا تھا کبھی مجھے ممتاز بےبی (مدھو بالا) لندن کے ایک فلیٹ میں کسی چشم منتظر کیلئے گھائل محسوس ہوتی ہے۔
نجانے کتنے نام ہیں۔ ببو برال،مستانہ،لہری مرحوم جو زمانے کی ناقدری کا شکار ہوئے۔
زمانہ اُس وقت تک ان فنکاروں،گلوکاروں کاقدر دان ہوتا ہے جب تک گلے میں سلر ہوتا ہے ،جب تک اعضاء کی شاعری میں دم ہوتا ہے جب تک چہرے پر حُسن کی دھنک باقی ہوتی ہے لیکن جونہی عروج کا سورج زوال کی طرف ڈھلنا شروع ہوتا ہے لوگ بھی اِن فنکاروں کو قصۂ پارینہ سمجھ کر تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیتے ہیں۔
فنا تو ہر جاندار کامقدر ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔
مگر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ جن کی زندگی اور موت دونوں پر اک زمانہ رشک کرے اور کیوں نا کرے کہ یہ موت تو سب کی محبوب ہے۔
محترم بھائی انعام رانا نے کہا کہ جنید بھائی مجھے آپ جیسا نہیں بننا لیکن میری رب کریم سے التجا ہے کہ آپ جیسا ظرف، آپ جیسی سادگی اور آپ جیسی عشق حقیقی کی تڑپ کا عشرِ عشیر بھی نصیب ہوجائے تو شاید روزِ محشر میں بھرم رہ جائے۔
یہاں تو لوگ دوسو لائکس مل جانے پر خود کو سقراط کا ہم پلہ سمجھے لگتے ہیں ذرا سی شہرت ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور ایسی ایسی بونگیاں مارنا شروع کردیتے ہیں کہ الامان الحفیظ مگر قربان جاؤں اُس درویش پر جو ملنگی راستہ اُس وقت اختیار کرتا ہے جب اس کی شہرت کا سورج نصف النہار پر ہے۔
پھر کوئی طمع کوئی لالچ اور کوئی دباؤ اُس کے پایۂ استقلال میں لغزش نہیں آنے دیتا۔
ہمارے آقا و مولا وجہ کون ومکاں،سرورِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت تک سب کو قبول تھے جب تک آپ کی ذات غیر جانبدار تھی لیکن جیسے ہی آپ کو خلعت نبوی کا پروانہ ملا اور آپ نے جھوٹے خداؤں کی خدائی سے لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلایا تو پھر سب سے پہلے مخالفت اپنوں نے کی ۔
پھر ظلم وستم کے وہ کوہ گراں ٹوٹے کہ زمیں بھی روپڑی اور آسماں بھی۔
آج بھی سنتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جاری ہے عمل کی صورت میں بھی اور ظلم اور زیادتی برداشت کرنے کی صورت میں بھی۔
جنید بھائی کے ساتھ زیادتی اُن لوگوں نے کی تھی جن کی مصنوعی دینداری اور دوکانداری کو خطرہ تھا اور وہ اج بھی طعن وتشنیع کے نشتر لئے برسرِ پیکار ہیں لیکن اے میرے مرحوم شہید بھائی تجھے مرحوم لکھتے ہوئے دل کانپ اٹھتا ہے اور تو مرحوم ہے بھی کہاں اللہ رب العزت نے تجھے اپنا مہماں بنایا شہید بنا کر۔
یقیناََ آپ کامیاب ہوئے اور آپ کو کامیابی مبارک ہو۔۔
کاش میں آپ جیسا بن پاتا۔

Avatar
محمد عمر عافی
آپ کے محروم قبیلے کا آپ جیسا فرد جو لفظوں کی جھیل کا ہلکا سا شناور ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *