• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حضرت محمد علیہ السلام اور اہلِ اسلام کا فقر۔۔۔حافظ صفوان محمد

حضرت محمد علیہ السلام اور اہلِ اسلام کا فقر۔۔۔حافظ صفوان محمد

حضرت محمد علیہ السلام اور اہلِ اسلام کا فقر…

.
فقر و فقیر، بے زری و بے زر، بدمعاشی و بدمعاش، افلاس و مفلس، قلاشی و قلاش، عسرت و عسیر، حاجت و حاجت مند، احتیاج و محتاج، گدا گری و گدا، فلاکت و مفلوک، ناداری و نادار، دست نِگری و دست نِگر، ٹکر گدائی و ٹکر منگ، بھوک اور بھوکے، بھیک اور بھک منگے، وغیرہ وغیرہ، وہ رنگ ہیں جن سے حضرت محمد علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی تصویر paint کرنا عام آرٹ ہے۔ جسے بھی دیکھیں الا ماشاءاللہ وہ انہی رنگوں سے نبیِ آخر الزماں علیہ السلام اور ان کے چیدہ احباب کی تصویروں میں رنگ بھرتا ہے، اور میرِ میدان وہ ٹھہرتا ہے جس کی paint کردہ لفظی تصویر سب سے درد ناک، حسرت آسا اور نہوت ہو۔ کم خوراکی، غربت اور معاشی تنگی کے چند واقعات کو، جن میں سے کچھ کی استنادی حیثیت میں اہلِ علم نے کلام کیا ہے مثلًا پیٹ پر پتھر باندھنے کا واقعہ اور نماز میں صحابہ کی پوری پوری صف کا بھوک کی وجہ سے غش کھاکر گر جانا وغیرہ، پھیلاکر ایسا دکھایا جاتا ہے کہ یہی احساس ہوتا ہے کہ معاذ اللہ نبیِ مکرم اور ان کے اصحاب دو وقت کی روٹی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ہر آتے جاتے تونگر شخص کو ترساں للچاتی نظروں سے دیکھا کرتے تھے اور آتوں جاتوں کو سلامِ روستائی بھی اس نیت سے کرتے تھے کہ کوئی انھیں ساتھ اپنے گھر لے جائے اور دو روٹیاں کھلا دے۔ اسلام، نبیِ اسلام اور ان کے اصحاب کی یہ وہ sorry picture ہے جس کا تاثر اس قدر گہرا ہے کہ اس کے خلاف ایک لفظ بھی بولنا گویا درجہ کفر سے جا ملاتا ہے۔

حد یہ ہے کہ محتاجی و افلاس کے اس تاثر کو گہرا کرنے کے لیے ام المومنین حضرت عائشہ و دیگر کے بعض واقعات کو، جن کی درایت انھیں ازسر موضوع ثابت کر دیتی ہے، ایسی دلگیری کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے جس کی حد نہیں۔ مثلًا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ام المومنین نے فرمایا کہ دو دو مہینے گزر جاتے تھے لیکن ازواجِ نبی کے مکانات میں چولھا تک نہیں جلتا تھا، اور یہ دریافت کرنے پر کہ آپ لوگ زنده کیسے رہتی تھیں، جواب دیا کہ کھجور اور پانی ہماری غذا تھی یا بعض انصار ہمارے گھروں میں دودھ بھیج دیا کرتے تھے۔ نیز یہ کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ علیہ السلام کے گھر والوں نے مسلسل تین دن تک گیہوں کا استعمال کیا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب کوئی یہ نہیں سوچتا کہ حضرت عائشہ وہ عورت تھیں جن کے والد کی ریشم کے کپڑوں کی مارکیٹ تھی اور جن کا پہنا ہوا لباس مدینہ کی عورتوں کا فیشن بن جاتا تھا۔ مشہور روایت ہے کہ آپ کی شادی کا لباس (آج کے عرف میں برائے گفتگو میں لہنگا چولی کہہ لیجیے) مدینہ کی دو سو لڑکیوں نے عاریتًا لے کر پہنا تھا۔ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ شادی کا جو جوڑا دو سو لڑکیوں نے پہنا ہوگا وہ کس قدر پائیدار، مہنگا، اور فیشن ایبل ہوگا۔ اس پشتینی مالدار عورت کے گھر میں اگر کسی دن کسی وجہ سے چولھا نہیں بھی جلا تو اس کے عالی مقام شوہر کو کھال مست مفلس و قلاش دکھانا اسلام کی کون سی خدمت ہے اور اس خدمتِ اسلام سے حضرت ابوبکر اور حضرت محمد کی کیا تصویر سامنے آتی ہے؟

کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ان خطوط پر بھی سوچے کہ حضرت محمد علیہ السلام نے مکہ کی مالدار ترین بزنس ٹائیکون سیدہ خدیجہ سے شادی کی تھی، اور ازاں بعد بھی آپ کی سب بیویاں مالدار عورتیں تھیں۔ کوئی یہ بھی نہیں سوچتا کہ نبی کریم کی ایک وقت میں کم سے کم 9 بیویاں اور کئی کئی لونڈیاں تھیں اور ان بیویوں کی بھی لونڈیاں تھیں۔ بیک وقت 9 عورتوں کے گھر چلانے والا انسان غریب، نادار، مفلس، بے زر، قلاش، وغیرہ وغیرہ، کیسے ہوسکتا ہے؟ جس شخص کا ایک داماد پانی کے کنویں خرید کر عوام کے لیے وقف کر دیتا ہے اور جہاد کے لیے ایک ہزار گھوڑے اونٹ اور جنگی سامان ایک اشارے پر مہیا کر دیتا ہے اور جس کی دی اشرفیوں کو نبیِ مکرم مسجد کے منبر پر بیٹھے اچھال اچھال کر خوش ہوتے ہیں اور جو اتنے بڑے آفشور بزنس کا مالک ہے کہ اس کے تجارتی قافلے کا پہلا اونٹ مدینہ میں ہو تو آخری اونٹ ابھی مصر میں ہوتا ہے، اور ایسا شخص جس کے جانثار دوستوں کے اتنے بڑے بڑے گنجان باغات ہیں جن میں پرندے اڑتے اڑتے تھک جاتے ہیں لیکن باغ ختم نہیں ہوتے اور ایسے احباب ہیں جن کے ترکے میں شامل صرف سونا اتنا تھا جو کلھاڑوں کے کاٹ کاٹ کر تقسیم ہوا اور جس کا مسجدِ نبوی میں لگا ڈھیر اتنا بلند تھا کی اس کے پرلی طرف اونٹ پر سوار شخص نظر نہیں آتا تھا، کیا یہ شخص فی نفسہٖ قلاش و بے زر ہوسکتا ہے؟ کیا مویشیوں سے بھری ہوئی وادیِ جعرانہ کے سارے جانور ایک اشارے پر ایک کافر کو ہدیہ کر دینے والا شخص خود چیتھڑیا ہوسکتا ہے؟ کیا شتر مرغ کے انڈے کے برابر سونا ہدیہ کرنے والے شخص کو دھتکارنے والا انسان خود ترٹی پونجیک ہوسکتا ہے؟ جس شخص کی بیویاں شہر کی مالدار ترین عورتیں ہیں اور جن کے غلام ملکوں ملکوں تجارتی سامان لے کر گھومتے ہیں کیا وہ شخص کسی اندھی کافر بڑھیا کی کٹیا میں روزانہ جھاڑو دیتا نظر آئے گا؟ کیا ایک دن میں ایک سو اونٹ ذبح کرنے والا شخص تنگ معاش ہوسکتا ہے؟ مجھے کہنے دیجیے کہ منبروں پر بیٹھے تہی علم قلاش العقل ٹٹ پونجیوں نے نادان دوست کا کردار ادا کرتے ہوئے نبیِ مکرم جیسے آسودہ حال شخص کو اپنی والی قلاشی و منگتائی اور للچان و ترسناکی کی سطح پر لا چھوڑا ہے، اور جاہل اجہل عوام ہے کہ توہینِ رسالت و رسالتمآب سے بے پروا ہوکر آہو جی آہو کہے چلی جا رہی ہے۔

افسوس در افسوس یہ کہ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ نبیِ مکرم کو مفلس و بے زر دکھاکر اسلام کی کس قدر بھیانک تصویر سامنے آتی ہے۔ یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسلام اور فقیری باہم مترادف ہیں۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی یہ مسکنت آسا دریدہ لباس تصویر بنانے والے عقل کے پورے یہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت محمد علیہ السلام نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں اپنی قوم سے معاشی دلدر دور ہونے اور وقت کی دونوں سپر پاورز کو اپنا باج گزار بننے کا دعویٰ کیا تھا، اور لوگوں نے سر کی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ وعدہ پورا ہوکر رہا۔ ایسے سچے سٹیٹسمین نبی پر بھوک و افلاس کے بہتان باندھنے والے نادان دوستوں پر خدا کی سنوار۔ وما علینا الا البلاغ۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *