مولانا الیاس گھمن اور ایک حقیقت۔۔۔اکرام الحق ربانی

مولانا الیاس گھمن صاب ایک انسان ہے اور ان سے ممکن ہے کہ غلطیاں ہوئی ہوں۔ ان کے حوالے سے علماء دو طرفہ تقسیم کا شکار نظر آرہے ہیں، ایک طرف وہ طبقہ جن کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کے بعد اگر روئے زمین پر کوئی بڑا عالم ہے تو وہ الیاس گھمن ہی ہیں۔  اطمینان رکھنا چاہئے کہ تازہ واقعہ ان کی علمیت سے انکار کے نتیجے میں رونما نہیں ہوا بلکہ ان کو عالم مانتے ہوئے نوحہ ہے غیر عالم ہوتے تو حسن کی منڈی میں یہ سب کچھ جائز طریقے پہ ہوتا ہے____جو لوگ ان کی قابلیت اور صلاحیت کی داستانوں کو طول دے رہے ہیں ممکن ہے ان کے پاس علم ہو کیونکہ ذاتی طور سے میں مناظرین کے علم کا قائل نہیں یہ کوئی خوامخواہ کا دعوی نہیں بلکہ ان کے ساتھ قریب رہ کر یہ لکھ رہا ہوں۔

الیاس گھمن صاب کو پہلی مرتبہ قریب سے دارالعلوم کراچی میں دیکھا تھا جب وہ کراچی آئے تھے اور جامعہ نے اپنے اسٹیج سے انہیں تقریر کی اجازت نہ دی، سو کچھ جیالوں کو لیکر ایک چمن میں ان کے سامنے کچھ بیان فرمایا جو میں نہ سن سکا____ البتہ ان کی شخصیت شروع سے ہی متنازع آرہی ہے اور آج کا نہیں بلکہ دو تین سال پہلے بھی ان کا ایک غیر اخلاقی اسیکنڈل علماء کے حلقے میں گونجتا رہا۔ سو پیران حرم کی پاسبانی سے وہ منظر سے غائب ہوا تو یہ نیا واقعہ منہ کھولے کھڑا ہے____ ایک آدمی پر بار بار اس نوعیت کے الزامات کا لگنا کیا عجیب نہیں؟؟ مگر کب تک اپنوں کے کرتوت پردے میں رکھے جاتے سو یہ معاملہ سوشل ہوا تو وضاحتیں شروع ہوگئیں۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو شاید بغض یا اخلاص کی وجہ سے گھمن صاحب کی ذات پر مولویوں کی تمام تر سیاہ کاریاں ڈالنے میں لگے ہیں اور انہیں کوڑے لگانے پر بضد ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر واقعہ افک کے حوالے سے بے بنیاد باتیں کرنے والوں کو اللہ نے کتنی سخت جھاڑ پلائی…. اذ تلقونہ بالسنتکم و تقولون بافواھکم ما لیس لکم بہ علم۔  سو سوچنے کا مقام ہے محض سنی سنائی باتوں کو یقین کے درجے میں رکھ کر انہیں پھیلانا کتنی بری بات ہے۔

جو نادان دوست صرف اس وجہ سے گھمن صیب کی حمایت میں کمر کس کر میدان میں اتر چکے ہیں کہ گھمن صیب کے مجروح ہونے سے یا اسلام خطرے میں پڑ سکتا ہے یا دیوبند کی مضبوط عمارت میں دراڑ پڑسکتی ہے انہیں ٹھنڈا پی لینا چاہئے_____ ایک گھمن کے نہ ہونے سے اسلام پھر بھی خطرے سے باہر ہی ہوگا اور دیوبند کی وہ عمارت جس کی تعمیر میں انورشاہ کشمیری مرحوم جیسے لوگ تھے کبھی منہدم نہیں ہوسکتی۔ مولانا انور شاہ کشمیری کے سوانح میں لکھا ہے ایک دفعہ مدرسے سے ملحقہ اپنے مکان تشریف لے جارہے تھے دروازہ بجایا اور گھر میں جیسے ہی داخل ہوئے تو مولانا طیب صاحب مرحوم کی والدہ پر نظر پڑی الٹے قدموں لوٹے استغفار پڑھتے ہوئے درسگاہ تشریف لائے اور فرمانے لگے آج غلطی سے مولانا طیب صاحب کی والدہ پر نظر پڑ گئی اللہ سے استغفار کررہا ہوں اور سوہان روح کی بری اذیت سے گزر رہا ہوں۔ جب جب بخاری شریف میں احصان کی حدیثیں آتی تو یہ واقعہ ذکر فرما کر استغفار فرما لیتے جبکہ شادی کے وقت سن وسال 45 سے متجاوز ہوچکے تھے۔ ایسے اکابر کی چھتری استعمال کرنے والے گندے لوگوں کی ان ہستیوں سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔  علماء کرام کو شاید و باید سے کام لئے بغیر ان واقعات کی فوری تحقیق کرا لینی چاہئے یہ نہ صرف دین کی بدنامی کا ذریعہ ہے بلکہ مستقبل قریب میں لڑکیوں کی دینی تعلیم پر بھی برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں.

 تسلیم ہے کہ عصری تعلیم گاہوں میں اس سے بھی کالے کارنامے انجام پزیر ہوتے ہیں مگر ان کا دعوی پارسائی کا تو نہیں، وہ جبرا خدا کے سیکرٹری بننا قبول بھی تو نہیں کرتے۔  دوسروں کے لئے ” رجم” کی آواز لگانے والے اپنے حلقے میں کسی کو رجم کریں تو بات بنے گی……. وفاق المدارس جیسی ناکام تنظیم کو بھی حرکت میں آنا چاہئے….. خیر اسکی ناکامی کی داستان پھر سہی.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *