قرآن اور اس کے ترجمے کی اہمیت

يَآ اَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ ۔القرآن!
ہمارے علاقوں میں اکثریت کو بچپن میں جو قرآن پڑھایا جاتا ہے، بلوغت اور جوانی کے بعد ترجمہ، تفسیر اور لوحِ مقدس میں بیان کیے گئے احکامات پر زندگی بسر کرنا تو دور کی بات، مجھ جیسے اکثر اُسے صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا تک بھول جاتے ہیں۔ مڈل کلاس طبقہ رزق کی تلاش میں سرگرداں جبکہ امیر تسکین کے نت نئے طریقے آزما رہا ہے اور غریب، غریب کو غربت نے رونے پر لگا رکھا ہے پر یہ وہ طبقہ ہے جو اللہ کے سامنے زیادہ ہوتا ہے پر زور دعاؤں پر ہی ہوتا ہے اور انتظار معجزوں کا۔ میرا یہ خیال ہے کہ دین ان طبقات اور لوگوں کی اپنی کمزوری کے باعث صحیح معنوں میں اللہ کے پسندیدہ پر بہت کم ہی لوگوں کے پاس ہے اور ہم جیسے پیدائشی مسلمان بس نمائشی عبادات تک محدود رہ جاتے ہیں ساری زندگی۔ کیونکہ ہماری طرف سے نہ طلب ہے اور تڑپ اور نہ یہ احساس کہ ہم کیا کررہے ہیں زندگی کے ساتھ، سب کچھ مولوی پر چھوڑ دیا، ہماری زندگیوں میں ایسا اسلام، انقلاب نہیں لاسکتا کیونکہ ہم اسےسمجھنے اور عمل کرنے میں ناکام ہیں۔

قرآن مجید کی بہت ہی کم آیات ہیں جن کے معنی مجھے آتے ہیں اور اس پر شرمندگی ہے کہ میں بھی انہی نام کے مسلمانوں میں سے ایک ہوں ،پر اس کے ذکر سے شاید مجھ میں غیرت پیدا ہو اور باقی قرآن کو بھی ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھ سکوں، ایک عرصے سے تفسیرِ عثمانی پڑی ہے پاس پر نہ وقت ہے اور نہ ہی پڑھنے کا وہ جنون اور شوق۔درج بالا آیت کا ذکر اس لیے کیا کہ جب اس دفعہ نبی کریم ﷺ کو اس عاصی جسم اور گندی روح کے ساتھ سلام کی غرض سے باب السلام میں مغرب کی نماز کے بعد داخل ہوا تو وہاں قریب پہنچتے پہنچتے کافی وقت لگا، غالبا” عشاء کی نماز کا وقت تھا تو زیارت کے لیے لائن لگنے والوں کو صفیں سیدھی کرنے کا حکم ملا اور اندھے کو کیا چاہیے ، بس دو آنکھوں والی مثال تھی، ہمیں اس مبارک گھڑی وہاں نماز کی سعادت ملی، وہاں اور کسی چیز کی طلب نہیں تھی پر جب اس آیت کے الفاظ سماعتوں سے ٹھکراگئے تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا،۔۔

ایک ایک لفظ دل کے آر پار ہورہاتھا، یو ں لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ماں اپنے پاگل، وحشی، بد کردار اور گناہوں میں لتھڑے بیٹے سے کہہ رہی ہو کہ تمھیں کیا ہوگیا ہے، کس چیز نے تمہیں مجھ سے بیزار کردیا ہے، کیوں ہے یہ لاپرواہی۔ ایک گناہ گار کی توبہ کے لیے ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں پر افسوس کہ باقی پوری آئتیں میرے سر سے گزر گئیں کیونکہ ایک آیت کا بھی مجھے ترجمہ نہیں آتا تھا اور اندازاہ ہوا اُس وقت کہ قرآن کو سمجھنا کتنی برکات کا باعث ہوسکتا ہے اور ہماری زندگیاں کیسی بدل سکتی ہیں۔ اُس نماز کے بعد سوچا کہ اللہ کرے ملک میں قرآن مجید فرقانِ حمید کے پیغام کے پھیلاؤ کے لیے جگہ جگہ سینٹرز کھلیں جہاں ہر طبقے والا دن کو وقت نکال کر آسانی سے جاسکے کیونکہ اگر قرآن سمجھیں گے نہیں تو عمل کیسے ہوگا اور جب سمجھ جائیں گے تو زندگی کا بدلنا ممکن ہوجا ئے گا، اس پر عمل ہی اُس انقلاب کی نوید ہے جس سے دونوں جہانوں کی کامیابی وابستہ ہے۔میں نہ ہی عالم اور نہ ہی کوئی طالبعلم پر اس روداد کا ذکر قرآن مجید کو بامعنی سمجھنے کی برکات کے لیے کیا جس سے ہم میں سے اکثر محروم ہیں۔

Avatar
عبدالبصیر خان
فاٹا کے حالات پر گہری نظر رکھنے والا، اُردو، اُردو سے جڑے لوگوں کی محبت دل میں لئے، دوبئی میں حصولِ رزق کی خاطر صحراؤں کی خاک چاننے والا ایک ادنیٰ سا طالبعلم۔۔۔ غزل، سگریٹ اور کتابوں کو ہی زندگی کہنے والا، اندر سے درویش۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *