دیوارِ نسواں کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔۔ عظمت نواز

  •  اگلے دن دیکھا کیے کہ خواتین کے حقوق پر بہت لے دے ہو رہی تھی کہ بہت ہی مظلوم و مجبور خلقت ہے یہ اور لحظہ لحظہ مشکلات سے دو چار ہیں – ہر طرف سے مردان خدا کے ظلم و ستم کا شکار ہیں وغیرہ وغیرہ – بندے نے فی الفور اس گھمبیرتا کا جائزہ لینے کے لیے اپنے آس پاس بسنے والی صنف نازک ( ویسے خدا جانے کس کل موہے نے صنف نازک کا لقب دے دیا ورنہ در حقیقت یہ کوئی موجود حقیقت ہی نہیں ) کے حالات و واقعات کا بغور مشاہدہ فرمایا – تو یہ عقدہ وا ہوا کہ یہ جو انکے مظلوم ہونے والا ہمارا عقیدہ ہے، یہ اپنی اصل میں ناقص ہے – مثال کے طور پر آپ فیسبک کی حسین دنیا کو لیجیے – بخدا سوشل میڈیا پر آکر میں درست طور پر اندازہ کر پایا ہوں کہ مرد در معاملات خواتین کس قدر وسیع القلب اور وسیع الظرف واقع ہوئے ہیں (میں بھی چونکہ حوادث زمانہ کے باعث ایک مرد ہی واقع ہوا ہوں سو میں بھی بعینہ دوسری مرد برادری کی طرح اس معاملے میں وسیع القلب و وسیع النظر ہوں سو پریشانی والی ایسی کوئی بات نہیں )-

    ایک خاتون اگر بریانی کی دیگ فیسبک پر لٹکا دیتی ہیں تو میری برادری وہاں بریانی کے فضائل کچھ اس ادا سے بیان کرتی ہے کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے – وہ اپنا ایک ایک دکھ جیسے کہ سر درد، نزلہ زکام، امتحانات، پسندیدہ لباس کے دوران استری جل جانے جیسے اندوناک واقعات کا ایک سٹیٹس ڈالتی جاتی ہیں اور بندگان خدا وہاں قسما قسم کے نسخہ جات، ورود و وظائف بلا تعطل بیان کرتے چلے جاتے ہیں اور تب تک جی ٹی روڈ پر بریک نہیں لگاتے جب تک وہ اگلا کوئی دکھڑا بیان نہیں فرما دیتیں –

    ایسی چیزوں کو میری برادری خواتین کا حق سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر پیش آتی ہے پھر بھی ان سے یہ گلے کہ حقوق نہیں مل رہے؟ یعنی ہائیں؟ وہ کسی تھکڑ شاعر کا بونگا شعر بھی وال مبارک پر چپکا دیں تو حسن انتخاب کے لیے کمنٹس و لائکس ایسے آتے ہیں جیسے بھڑولے کا ڈھکن کھل جانے پر گندم کے دانے باہر آتے ہیں – مگر کوئی مرد مسکین عروض و اوزان پر پوری اترتی پوری غزل تخلیق فرما کر ٹانک دیں تو بھی دیوار مرداں ویران کی ویران رہتی ہے – کوئی درد کا مارا اپنی آنجہانی محبت کے غم میں دو لفظ لکھ کر چپکا دے تو یار بیلی اس کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں تاآنکہ وہ مرد محبت اپنا سٹیٹس ہی ڈیلیٹ کر دیتا کہ ایسے اظہار سے چپ ہی بھلی – مگر یہی کام کوئی خاتون کر لے تو تسلی، آنے والی زندگی کی رونقیں، پچھلے کو بھول کر کمنٹنے والے کی جانب نظر التفات کرنے کی استدعا سے لے کر صبر و شکر کی تلقین کے ساتھ ساتھ بنا کسی تاخیر کے فوراً سے کھوپچے میں حفظ ما تقدم کے طور پر انکی تصویر کے لئے بھی درخواست پیش کر دی جاتی کیونکہ یار دا دیدار مینو لکھ کروڑاں حجاں ہو والا حساب ہوتا ہے – سچ ہے کہ ہمت مرداں مدد خدا –

    ہمارے معاشرے میں ڈھیر سارے طبقات ہیں یعنی پڑھا لکھا طبقہ، دانشور طبقہ، نیم پڑھا لکھا طبقہ، ان پڑھ طبقہ، لبرل طبقہ، مولوی طبقہ، فلاسفر طبقہ، شعراء کا طبقہ، ادباء کا طبقہ، استاد طبقہ، شاگرد طبقہ، الغرض ہر ایک گروہ عمومی طور پر اپنے اپنے ہم خیال لوگوں کے علاوہ کسی دوسرے کی دیوار مہربانی پر نظر کرم خال خال ہی فرمایا کرتے ہیں، جیسے کہ کئی بہت بڑے لکھاری، کئی دانشور جو کسی دوسرے کی دیوار پر جانا اپنے علم کی توہین سمجھتے ہیں یا اپنے شایان شان نہیں سمجھتے – مگر جیسے کوئی سایہ دار شجر رہگزار فیسبک میں انکو ایک ساتھ میسر آجاتا ہے تو بارہا دیکھا کے یہ وہاں فوراً سے پیشتر سستانے کے لیے رکتے ضرور ہیں اور انکے پاس وقت بھی فوراً ہی میسر آ جاتا اور وہاں نوک جھونک بھی کر لینے کو مباح نہیں سمجھتے ورنہ کوئی مرد مسکین پورا کانٹ نامہ لکھ مارے تو یہ وہاں پھٹکتے تک نہیں کہ لکھنے والے کو دو لفظ شاباشی کے ہی عنایت کر آئیں –

    گاھے گاھے بڑے سیاسی دانشور بھی اپنی رائے فقط دیوار نسواں پر ہی دیتے نظر آتے ہیں خدا جانے وہ مردوں کی سیاسی حس کے قائل نہیں ہوتے یا کیا – اور کچھ مفتیان گرامی کا ظہور تو ہوتا ہی صرف دیوار نازک پر ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کے بے کار ہے دیوار مرد تو جہاں نہ صورت ہے نہ سیرت ہے – مولوی برادری کو ویسے دور جدید کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ پرانے فتوی جات کو منسوخ کر کے تصاویر کو جائز قرار دے دیا اور کار فیسبک کو مزید آسان اور دلکش بنا دیا ہے – اگر میرے احباب اس سب کو کچھ غلط رنگ نہ دیں تو مدعا فقط اتنا تھا کہ یہ سب حقوق نسواں ہی تو ادا کر رہے ہوتے ہیں اور ہم ایسے کم فہم اس کو کوئی دوسرا نام دے دیتے ہیں – گویا جتنے حقوق خواتین کو سوشل میڈیا کی بدولت حاصل ہوئے اتنے ایک پوری صدی کی تگ و دو کے بعد کل ملا کر بھی استحصالی مردوں نے نہیں دیے تھے جتنے فقط ایک گزشتہ عشرے میں الشیخ و المرشد موجد فیسبک کی بدولت ان کو ملے ہیں پھر یہ گلہ کہ انکو حقوق نہیں دیے جا رہے؟.

    انفرینڈنگ سے خوگر ہوا تو مٹ جاتا ہے انساں
    صلواتیں اتنی پڑیں کہ زندگی پریشاں ہو گئی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *