جمہوریت کا جمود! ۔۔۔۔ شاھد علی قمر

بخدا مجھے جمہوریت دشمن نہ سمجھا جائے۔ نہ ہی میں آمریت کے لیئے کوئی نرم گوشہ رکھتا ہوں ۔ اک سوچ ہے جو اہل فکر کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ میرے لکھے الفاظ سے اگر مکالمہ کے چمن میں کہیں مکالمے کی بجائے مناطرے کی کوئی چنگاری بھڑک اٹھے تو میرے لکھے الفاظ کو جلا کر راکھ کر دیا جائے لیکن اگر مکالمہ سے محبت کرنے والوں کی فکرکا الائو مزید بھڑکے تو مکالمے کا یہ تسلسل جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیئے۔

جمہوریت کا نام زبان پر آتے ہی ذہن میں اک خاکہ ابھرتا ہے کہ یہ وہ نظام ریاست ہے کہ جس میں ہر فیصلے کو جمہور یعنی عوام کی تائید حاصل ہو گی ۔ وہ جمہوریت جس کو اک دانا فلاسفر سقراط نے اپنے حلق میں جام زہر اتار کر دوام بخشا تھا ۔ جو افلاطون کےذہین دماغ میں ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے ارسطو کے مکتب میں اک تنا آور درخت بن کرعوام کے لیئے عدل و انصاف کا اک خوبصورت نظام بن چکی تھی۔

بدقسمتی سے یہی جمہوریت جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امور ریاست چلانے آئی تو جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہو کر رہ گئی ۔ جمہوریت کے مطابق عوام اپنی منشاء سے ریاست کا سربراہ مقرر کرنےکے مجازہیں مگرمملکت خداد پاکستان میں نوٹ سے ووٹ خریدے جاتے ہیں یا دھاندلی سے ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ الف کو ڈالا جانے والا ووٹ ب کے تھیلے سے برآمد ہوتا ہے ۔ برادری قبیلے کا ووٹ وڈیرے ، جاگیردار اور سرمایہ دار کی اہمیت کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے ۔ یاں پھر انکل سام اور اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت سے رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے۔ یوں ووٹ کے نام پر جمہوریت کے منہ پرطمانچے مارے جاتے ہیں۔

اب جمہوریت رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح وارد ہو کر لوٹ مار کر کے مال و اسباب سمیٹ کر دیار غیر کی رنگینوں میں کھو جاتی ہے ۔ جمہوریت کا نام لے کر پارٹیوں کے سربراہاں بھی ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔ اب تو جمہوریت کے لبادے میں موروثیت کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ جمہوریت کے حسن کو مزید داغدار کیا جا سکے ۔ نواب ابن نواب اور غلام ابن غلام کے تصور سے بچ کے نکلنا محال ہے ۔ اب تو کچھ اہل قلم یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ مملکت پاکستان میں’’ موروثیت ‘‘ کا ٹیکہ جمہوریت کی ضرورت بن چکا ہے۔ وہ جمہوریت کہ جس کے ریاستی امور میں ہر ادارہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کا پابند ہو گا، وہ اب فرد واحد کے فیصلے تسلیم کرنے کا پابند ہو چکا ہے ۔ ہر ایم پی اے، ایم این اے اپنی مرضی سے تھانے کچہری ، پٹوارر خانے اور عدالتوں میں اپنی پسند کے لوگ بھرتی کرواتا ہے اور ہم جمہور کی منشاء کا لالی پاپ چوستے جا رہے ہیں۔

آمریت تو ہے ہی بری شے مگر اب جو جمہوریت آمریت کے سانچے میں ڈھل رہی ہے اسے کون روکے گا؟ وہ یار لوگ جنکا کام حکومت وقت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا تھا وہ بھی اب جمہوریت کی بندربانٹ کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ وہ جو ہر وقت ارتقاء کی تسبیح پڑھتے ہوئے تھکتے نہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں جی جمہوریت آہستہ آہستہ پروان چڑھے گی۔ پتا نہیں انکا ارتقاء کا فلسفہ کہاں چلا گیا ہے؟ ۔ کیا اب کوئی سقراط نہیں ہے؟ کیا افلاطون نے ارسطو کو پڑھانا بند کر دیا ہے؟ ۔ کیا اہل علم و دانش کوئی نظام نہیں وضع کر سکتے کہ جس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے غریب ملک میں اربوں روپے سے قائم ہونے والے جمہوری نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ الیکشن کے نام پر چور بازاری اور فراڈ کا کاروبار بند کیا جا سکے ۔

خلافت کے نظام کی بات کروں گا تو یار لوگ چڑ جائیں گے۔ چلیئے میں ایک سیکولر ملک کی مٹی سے جنم لینے والے سیناسی گرو اوشو کی زبان سے جمہوریت کی تعریف بیان کیئے دیتا ہوں ۔ اوشو نے کہا تھا جمہوریت کی تعریف کی جاتی ہے کہ لوگوں کی ، لوگوں کی طرف سے ، لوگوں کے لیئے حکومت، جمہوریت ہے ۔ اس میں سے کوئی بھی بات سچ نہیں ۔ نہ تو یہ لوگوں کی طرف سے ہے ۔ اور نہ ہی لوگوں کے لیئے ہے۔ یار لوگوں کی خدمت میں التجا ہے حضور دنیا اب ایک کمپیوٹر کی کلک سے گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہم ابھی تک اسی بوسیدہ گلے سڑے نظام کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں ۔ کیا جمہوریت میں کوئی ارتقاء ممکن نہیں؟کیا جمہوریت کے ساتھ ساتھ اب جمہور بھی جمود کا شکار ہے؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *