دو نمبر۔ سخاوت حسین

ایک لڑکی بازار سے جا رہی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں چند پھل ہیں۔ آج اسے تنخواہ ملی ہےلہذا اس نے گھر والوں کے لیے کچھ پھل خریدے ہیں۔ وہ بس ہوسٹس ہے لہذا اسی وردی میں ملبوس نظر آرہی ہے۔ اردگرد کھڑے مختلف لوگ اسے ہزاروں زاویوں سے پرکھ رہے ہیں۔ تبھی اسے محلے سے چند قدم دورکچھ لڑکوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔یہ وہی لڑکے ہیں جو روز اپنے دوستوں کے پاس اس کے کردار کو پرکھتے ہیں۔
“یار! یہ بس ہوسٹس کیا ایک نمبر ہوتی ہیں۔؟ “ایک کہتا ہے۔ “ایک نمبر ؟ہاہاہا ارے ایک نمبر ہوتیں تو رات بھر بس میں کیوں پھرتیں۔۔۔؟دوسرے کا جواب ہوتا۔
“ارے تم نہیں جانتے، یہ تو ڈرائیورز کو خوش کرنے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔”
“نہیں بے وقوف !دراصل بس کی سیٹیں تنگ ہوتی ہیں لہذا یہ مسافروں کو مختلف طریقوں سے خوش کرنے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ ” تیسرا کہتا ہے اور سب ہنسنے لگتے ہیں۔
وہ چپ چاپ مردہ جسم کے ساتھ بے جان سیڑھیاں پار کرکے ایک ٹوٹے ہوئے مکان کی تیسری منزل پر پہنچتی ہے۔ تبھی “خالہ آگئیں” کی صدا کے ساتھ چند کھلیلتے ہوئے بچے اس کی طرف لپکتے ہیں۔ ایک بوڑھی ماں شدید طرح سے کھانس کر اس کا استقبال کرتی ہے۔
“اماں باجی آئی ہیں کیا”۔ ؟ وہ بچوں سے پیار کرتے ہوئے ماں کے پاوں دبانے لگتی ہے۔ “ہاں بیٹا،چند دنوں کے لیے آئی ہے۔” ماں کھانستے ہوئے ہی جواب دیتی ہے۔
“تم نے پیسے بڑھانے کی بات کی۔؟ “شدید کھانسی کے عالم میں ایک بوڑھی روح اس سے سوال کرتی ہے۔
“ہاں ماں، روز کرتی ہوں، روز مرتی ہوں۔ طرح طرح کی نظریں، قسم قسم کے سوال، زندگی کی ابتدا سے غربت کی مٹی میں راکھ ہونے والوں کو کون پوچھتا ہے؟۔ اوپر سے بعض سواریوں کی بدتمیزیاں۔۔۔” وہ رونے لگتی ہے۔
“صبر کر میرے بچے، زندگی اتنی آسان کہاں ہوتی ہے؟۔ کھلے تندور میں حوصلے سے کودنا پڑتا ہے۔ ہمارا اللہ کے سوا کون ہے۔؟ مکان کا کرایہ، میری دوائی کے اخراجات، کھانا پینااور تمھاری باجی کا ہڈ حرام شوہر جو ہر تین مہینے بعد اسے گھر بھیج دیتا ہے۔ ابھی پھر کچھ سوٹ اور اسے خوش کرنے کے لیے چند روپے دینے ہوں گے”۔
“مگر ماں یہ بات یہاں کون سمجھتا ہے۔ سب توبس ہوسٹس کو ۔۔۔۔۔”اس کی زبان تک دونمبر کا لفظ آتے آتے رک جاتا ہے۔
اگلے دن تیار ہو کر وہ کام کے لیے روانہ ہوتی ہے۔ بہت سی نظریں اس کا تعاقب کرتی ہیں۔ لیکن اسے ایک ہی جملہ سنائی دیتا ہے۔”بس ہوسٹس دونمبر ہوتی ہیں۔ ”
اگلے ہفتے ماں کی شدید بیماری کی حالت میں اسے ایک پورا ہفتہ ہسپتال میں گزارنا پڑا ۔ تبھی اسے یہ افسوس ناک خبر سننے کو ملتی ہے کہ ایک بس ہوسٹس کو گارڈ نے ذاتی رنجش کی بنا پر قتل کر دیا ہے اور بہادر مسافر بس میں گارڈ اور لڑکی کی ہاتھا پائی کو محظوظ کرتے رہے۔
“ماں،”! وہ ماں کے پاس بیٹھی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب جاری ہے۔ ماں سوئی ہوئی ہے اور وہ ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہتی ہے۔
” ہونہہ! دیکھو تو ماں، ہم بھی تو کسی کی مائیں بہنیں ہیں۔ کوئی ہمیں مارے، تشدد کرے، تماشائی صرف تماشا ہی دیکھیں گے۔ کوئی اٹھ کر نہیں روکے گا۔ کوئی لڑائی نہیں چھڑائے گا۔ بس میں ان کی خدمتیں بھی کرو اور برے الفاظ بھی سنو اور قتل بھی ہو جاؤ۔ یہ ہے ہماری زندگی۔؟۔ایک بس ہوسٹس کی زندگی۔
دو دن پہلے وہ ماں کو ہسپتال سے واپس لے آئی ہے۔ ماں کی بیماری پر اس کے بیس ہزار روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ آج وہ تیار ہوکر گھر سے کام کے لیے نکلی ہے۔ تبھی اسے پھر وہی لڑکے دکھائی دیتے ہیں۔
“یار سنا ہے ایک بس ہوسٹس کو مارا گیا تھا۔”؟ہاں یار ، افسوس کی بات ہے۔ لیکن گارڈ نے مارا تھا۔”۔ دوسرا لاپروائی سے جواب دیتا ہے۔
“کیا وجہ ہوسکتی ہے۔؟” میرے خیال سے اس کا گارڈ کے ساتھ چکر ہوگا اور اس نے موقع پر اسے دھوکہ دیا ہوگا۔ لہذا وہ یہ دھوکہ برداشت نہیں کر پایا ہوگا ۔ لہذا۔۔۔کیونکہ۔۔۔”
اس سے آگے اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔اسے ہر طرف سے ایک ہی صدا آتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔
“اسے مارا گیا کیونکہ بس ہوسٹس دو نمبر ہوتی ہیں۔”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *