آ تیرے جِن کڈاں۔۔۔ ایم بلال ایم

ہم دیہاتی کچھ دن پہلے پنجاب کے سونے (گندم) کی گہائی(Threshing) میں مصروف تھے، اتفاق سے اسی وقت شہر لاہور سے ہمارے دوست رانا صاحب کا فون آیا۔ جناب کو معلوم ہوا کہ گہائی ہو رہی ہے تو فوراً بولے ”کوئی تصویراں شصویراں وی بنائیاں نیں؟“ میں نے جواب دیا ”ایتھے اپنی مت وجی پئی اے، تہانوں فوٹوگرافی دی پئی اے، بلکہ تہانوں تے فوٹوگرافی دا جِن چمڑیا اے“۔
رانا: ”جے تینوں سال بعد کم کرنا پے ای گیا وے تے موت کیوں پئی آ؟ دو چار فوٹواں بنا لے“۔
میں: ”جے تہانوں فوٹوگرافی دا ایڈا ای شوق وے تے ’آ تیرے جِن کڈاں‘۔ تینوں تھریشر تے کھلاواں، توڑی چکاواں۔ جد کنڈ لڑی تے سارے جن آپوں نکل جان دے“۔
بہرحال رانا سے ہنسی مذاق ہوتا رہا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر میری جگہ رانا ہوتا تو لاکھ سخت حالات ہونے کے باوجود وہ تصویریں ضرور بناتا۔ سیانے کہتے ہیں ”اچھا فوٹوگرافر بُرے حالات میں بھی بہترین تصویریں بنا لیتا ہے“۔ اور یہ بات رانا پر صادق آتی ہے۔ خیر گہائی والے دن رانا کو یقین دلایا کہ اس دفعہ گرمی، پیاس اور تھکاوٹ ایسی ہے کہ تصویریں بنانے کی ہمت نہیں۔ البتہ دو سال پہلے کچھ تصاویر بنائی تھیں۔ وہ تمہیں دکھاؤں گا۔ انہیں میں سے ایک تصویر آج پیشِ خدمت ہے۔ ویسے رانا کو یہ بھی کہا کہ باقی لوگ تو کھانے اور فروٹ پارٹیوں کی دعوتیں کرتے ہیں۔ مگر تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے آئندہ برس میں تمہیں گندم کی کٹائی کی دعوت دوں گا۔ ”فیر پتہ لگ سی پئی کی پاء وکدی اے۔“ یعنی پھر آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو گا۔ پھر جی بھر کر فوٹوگرافی کرنا اور دیکھنا کہ ہمارا کسان کس قدر محنت کرتا ہے۔ کیسے مٹی کے ساتھ مٹی ہو کر رزق کماتا ہے۔

دعوت سے یاد آیا کہ اب تو جدید زرعی مشینری ایجاد ہو چکی اور معاملات بہت تبدیل ہو گئے ہیں، ورنہ پہلے بیساکھی کا ڈھول بجتا، جوکہ ایک حساب سے کٹائی کا نقارہ بھی ہوتا اور سارا گاؤں مل کر گندم کی کٹائی شروع کر دیتا۔ گٹھے بناتا اور اس کے بعد گہائی ہوتی یعنی دانے الگ ہو کر گھروں کو پہنچتے اور بھوسہ(تُوڑی) مویشیوں کے لئے محفوظ کر دیا جاتا۔ تاکہ جب چارے کی قلت ہو تو اس بھوسے سے کام چلایا جائے۔ اب وہ ماحول نہیں رہا۔ بہت سارا کام مشینوں کی مدد سے ہوتا ہے، بلکہ اب تو کمبائن ہارویسٹر(کٹائی، گہائی اور صفائی والی مشین) ایکڑوں کے ایکڑ پر پھر کر جھٹ پٹ کام تمام کر دیتی ہے۔ لیکن اس مشین سے وہ بھوسہ حاصل نہیں ہوتا، جو ہم نے مویشیوں کے لئے ذخیرہ کرنا ہوتا ہے۔ گو کہ اس کا بھی حل دریافت ہو چکا ہے اور کمبائن ہارویسٹر نے زمین میں جو تنکے چھوڑے ہوتے ہیں، انہیں ایک دوسری مشین کے ذریعے بھوسے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ مگر اس طرح بننے والا بھوسہ جانوروں کو پسند نہیں آتا۔ وہ کیا ہے کہ اس بھوسے کو ”پِزا“ ہی سمجھیں۔

جس کو شہر کے برگر مویشی تو شوق سے بلکہ دیکھا دیکھی کھائیں گے لیکن گاؤں کے دیسی مویشیوں کے گلے سے بمشکل اترتا ہے۔ لہٰذا جانوروں کے بھوسے کی خاطر ساری تو نہیں مگر کچھ فصل ہم روایتی طریقے سے کاٹتے کٹواتے ہیں اور پھر تھریشر مشین کے ذریعے بھوسہ اور گندم کے دانے الگ کرتے ہیں۔ تھریشنگ کے اس عمل کو گہائی بولتے ہیں۔ اس دوران چند بندے گندم کے گٹھے اٹھا کر مشین تک لاتے ہیں اور ایک یا دو بندے ان گھٹوں کو کھول کر تقریباً تنکا تنکا مشین میں پھینکتے جاتے ہیں۔ مشین اپنی کاروائی کرتی ہے اور پھر ایک طرف بھوسے کا ڈھیر لگتا ہے تو دوسری طرف گندم کے دانے مشین سے باہر آتے ہیں اور ایک بندہ ان دانوں کو اٹھا کر ایک طرف ڈھیر لگاتا جاتا ہے۔ پھر ریڑھے والا آتا ہے اور گندم کے ڈھیر کو تول کر بوریوں میں بند کرتا ہے اور ہر کسی کا یعنی تھریشر، مزدوروں اور اپنا حصہ الگ کرتا ہے۔ باقی گندم مالک کے ٹھکانے پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد بھی اس گندم میں کئی حصہ دار ہوتے ہیں۔ مثلاً گاؤں کے امام مسجد اور شاہوں(سید زادوں) کا حصہ اور درباروں کا چوگ وغیرہ۔ خیر ان حصوں پر پھر کبھی بات کریں گے۔

فی الحال یہی کہ اب تو تقریباً ہر کسان کٹائی و گہائی پر مزدور لگاتا ہے مگر کچھ عرصہ پہلے تک مزدوروں کی بجائے، سارے کسان مل جل کر یہ کام سرانجام دیتے تھے۔ ایک کسان دوسرے کسان بھائی کی مدد کو پہنچتا۔ اس کے علاوہ یار دوست اور تعلق دار بھی شرکت کرتے۔ بعض اوقات باقاعدہ دعوت دی جاتی تھی کہ فلاں دن ہم کٹائی وغیرہ شروع کریں گے، آپ بھی تشریف لانا۔ یوں تشریف لانے والا، تشریف لا کر، تشریف رکھتا نہیں تھا بلکہ کام میں مدد کرتا۔ دوسری طرف جس کی گندم ہوتی، وہ لذیذ پکوان بنواتا اور چونکہ گرمی ہوتی، اس لئے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کبھی شربت تو کبھی چاٹی کی میٹھی لسی پلاتا۔ بس ایسے ہی بھائی چارے اور ہلکے پھلکے رونق میلہ میں کام ہو جاتا۔

بہرحال میں نے ابو جی کو کہہ دیا ہے کہ اگلی دفعہ ہمیں مزدوروں کی ضرورت نہیں ہو گی۔ کیونکہ ہم روایتی طریقے کے مطابق یار دوستوں کو دعوت بھیجیں گے۔ ہاں تو یار دوستو اور دوستنیو! آؤ تہاڈے جِن کڈاں۔ تھوڑے کہے کو بہت جانیں اور خود ہی سمجھ جائیں۔ خاص طور پر لکھاری، سیاح، بلاگر اور فوٹوگرافر دوست اگلے سال بیساکھی کا ڈھول بجتے ہی تشریف لے آئیں اور چناب کناروں پر بیساکھی کا تہوار منانے کے بعد درانتی پکڑیں اور چل سو چل۔ کچھ کٹائی ہو، کچھ فوٹوگرافی۔ کچھ گہائی ہو، کچھ سیاحت۔ کچھ عمل سے گزر کر ادب تخلیق ہو تو کیا ہی کہنے۔۔۔ تپتی دوپہر میں کٹائی اور پھر گہائی کے دوران اُڑتی دھول جب پسینے سے شرابور جسم پر پڑے گی تو اول سارے خود ہی جِن بن جاؤ گے اور دوسرا جب باریک مٹی کی وجہ سے خارش ہو گی تو جنوں کا ناچ دیکھنے والا ہو گا۔ ویسے بھی جن آسانی سے تھوڑی نکلتے ہیں۔ عمل کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔

بہرحال پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بس مذاق کر رہا تھا۔ ورنہ گندم کی کٹائی کے لئے ”ہور بہتیرے“۔۔۔ ویسے کٹائی و گہائی کے دوران ہونے والے عموماً کام تو لکھ دیئے۔ ذرا سوچیں کہ آپ کو کچھ ایسا کرنا پڑے تو کیا کرنا پسند کریں گے اور اس دوران کیسے لگیں گے؟  مجھے تو رانا کام کرتا نظر بھی آنے لگا ہے۔ سر پر کپڑا باندھے، تھریشر میں تنکے پھینک رہا ہے اور پھر سانس لینے رکتا ہے تو ہاتھوں سے اشارے کرتا، آوازیں لگاتا ہے ”اوئے! چھیتی چھیتی گٹھے لیاؤ“۔ حالانکہ تھریشر چلنے کا شور اتنا ہے کہ کسی تک اس کی آواز نہیں پہنچ رہی اور سبھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ رانا کے جِن نکل رہے ہیں۔۔۔

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *