الوداع سندھی نکسلائٹ کامریڈ محمد خان احمدانی

سندھ کے انقلابی سپوت کامریڈ محمد خان احمدانی ہم سے رخصت ہوئے. ان کامادی جسم ہمیشہ کے لیے سندھو دھرتی میں تحلیل ہو کر اس کا جزو لانیفک بن جائے گا، جہاں سے یہ مجتمع ہوا تھا. کامریڈ سے کئی ایک ملاقاتیں رہیں انہی ملاقاتوں میں ان کی زبانی معلوم ہوا کہ انھوں نے کافی عرصہ بھارتی جیلوں میں بھی گزارا اور اسی قید کے دوران غالباً بھارتی زیر قبضہ کشمیر کی جیل میں ان کی ملاقات نکسلائٹ موومنٹ کے کامریڈز سے ہوئی جن سے انھوں نے طبقاتی جدوجہد کا الہام پایا. بھارتی قید سے رہائی کے بعد وہ ملک میں بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانسوں تک محنت کش طبقے اور مظلوم سندھی قوم کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے. ان کی فکر قومی وطبقاتی مبارزے کا حسین امتزاج اور اعلیٰ انسانی آدرش پر استوار تھی.
کامریڈ محمد خان احمدانی نے سندھی زبان میں کئی ایک تحریریں قلم بند کیں. کچھ عرصہ قبل سندھی زبان میں کامریڈ کی ایک کتاب بھی شایع ہو چکی ہے.
فاشسٹ ہندی اسٹیٹ کے خلاف نبرد آزما نکسلائٹ موومنٹ سے ان کی نظریاتی، قلبی وابستگی کا اظہارکرتے ہوئے انھوں نے اس کے متعلق ارون دھتی رائے کی تحریروں کو بھی سندھی کے قالب میں ڈھالا.کچھ عرصہ قبل جب نکسلائٹ موومنٹ کے بانی کامریڈ چارو مجمدار شہید کے متعلق میری ایک تحریر روزنامہ ایکسپریس (سندھی) میں شایع ہوئی تو ان کی مسرت دیدنی تھی. کامریڈ ایک طویل کال پر کامریڈ چارو مجمدار اور نکسل باڑی تحریک سے اپنی انقلابی وابستگی کا اظہار کرتے رہے اور اپنی محبت سے نوازتے رہے .
کامریڈ محمد خان احمدانی نہ صرف عالمی بلکہ خطے کی کمیونسٹ تحریک کی تاریخ سے بھی کماحقہ آگاہی رکھتے تھے. ایک بار وہ سندھ سے خاص طور پر ضلع اٹک کے علاقے حضرو محض اس لیے گئے کہ فروری 1946میں بمبئی کےجہازیوں کی بغاوت کے دوران شہید ہونے والے عظیم کمیونسٹ مساعی پسند کامریڈ میر داد شہید کے بھائی شہینی خان سے ملاقات کر سکیں.
کامریڈ محمد خان احمدانی کی جدائی سندھ کےایک ایسے انقلابی فرزند کی جدائی ہے جو تلنگانہ سے لیکر نکسل باڑی تک سے رشتہ فکرونظر استوار رکھتا تھا.
آئیے سندھ کے اس نکسل وادی کی انقلابی روح کے حضور سرخ سلام پیش کریں.
لال سلام کامریڈ محمد احمدانی

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *