زندہ رہنے کا حق۔۔۔۔ شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

زندہ رہنے کے حق کو انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس حق کے متعلق وطن عزیز پاکستان میں زمینی حقائق کیا ہیں؟
روزانہ بھوک  پیاس سے لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں، پینے کا صاف پانی تک بعض علاقوں میں دستیاب نہیں-
روزانہ علاج سے محرومی کی وجہ سے لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں- روزانہ بیروزگاری اور غربت سے تنگ انسان خودکشی کر رہے ہیں-
نیم فاقہ کشی اور آلودہ پانی پینے پر مجبور، صحت، تعلیم، مواصلات (سڑکوں، ٹرانسپورٹ وغیرہ)، یکساں روزگار وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گذارتے موت کے منہ میں چلے جانے والے بھی اسی ملک کے باشندے ہیں-
ملک کے تمام باشندے برابر کے شہری ہیں اور صاف پانی، صحت، تعلیم، مواصلات (سڑکوں، ٹرانسپورٹ وغیرہ)، یکساں روزگار کے مواقع سب کا برابر حق ہیں اور جب تک ملک کے سب علاقوں میں بسنے والے باشندوں کو یکساں طور پر یہ سب مہیا نہیں کیا جاتا اس وقت تک کسی ایک علاقے / شہر پر نام نہاد ترقی کے نام پر ریاستی وسائل خرچ کرنا ناانصافی ہے-
ایک طرف مصنوعی فواروں، آبشاروں اور سڑکوں پر چھڑکاو کے لئے بھی صاف پانی بے تحاشہ و بے دریغ “خرچ” کیا جاتا ہے اور کہیں اسی ملک کے باشندے اپنے جانوروں کے ساتھ جوہڑ کا گدلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں-
سوچیں اور عمل کیجئے- صاحب ثروت احباب اپنے والدین، بزرگوں اور پیاروں کے ایصال ثواب کے لئے ہی پسماندہ علاقوں میں پانی، صحت، تعلیم اور روزگار وغیرہ کی سہولیات ضرور مہیا کریں-
جزاک اللہ- سلامت رہیں، شاد و آباد رہیں آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *