آزای صحافت کا عالمی دن۔۳ مئی

اقوام متحدہ نے 3مئی کو ’آزادیِ صحافت کا عالمی دن‘قرار دیا۔ آزادئ صحافت یعنی (World Press Day) بھی کہا جاتا ہے ۔اس دن پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کی تنظیمیں اپنے لیے آزاد ماحول ، اپنے حقوق ، ذمہ داریوں اور اپنی مشکلات کے حوالے سے پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ اس دن کو ہر ملک میں صحافت کے شعبے سے وابسطہ لوگ اپنی اپنی حکومتوں کو باور کراتی ہیں کہ وہ آزادی صحافت کی اہمیت کو پیش نظر رکھیں۔ ساتھ ہی صحافت کے شعبہ سے وابستہ پروفیشنلز کی فلاح و بہبود کو بھی اہمیت دیں ۔ عالمی دن کا مقصد آزادی صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔اقوام متحدہ نے اپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں دنوں ، ہفتوں ،سالوں اور دس سالوں کا انتخاب کیا جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح کے مسائل اور issuesجن میں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے دلچسپی رکھتے تھے کو اجاگر کرنا تھا۔بسا اوقات یو این کے ذیلی ادروں نے اپنے پروگرام کے مطابق بعض مسائل کو اہمیت د یتے ہوئے مخصوص دنوں کو مقرر کرلیا جیسے عالمی ادارہ صحت WHOنے صحت کا عالمی دن، World No-Tobacco Day، گردوں کا عالمی دن، دل کا عالمی دن،ٹی بی کاعالمی دن، کتاب کا عالمی دن، کتاب کا عالمی دن وغیرہ کے انعقاد کی بنیاد رکھی ۔ اسی طرح یونیسکو نے بھی بعض موضوعات کو اجاگر کرنے اور عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف دنوں کا انتخاب کیا اور اس دن اس موضوع کی مناسبت سے سیمینار، ورکشاپ،کانفرنسیز اور نمائش کااہتمام کیا جانے لگا۔ جیسے ’پانی کا عالمی دن‘، عالمی لٹریسی ڈے‘، عالمی ماحولیاتی ڈے‘، ماں کا عالمی دن، باپ کا عالمی دن،مادری زبان کا عالمی دن اوراسی طرح دیگر موضوعات پر دنوں کا اہتمام کی جاتا ہے۔آزادی صحافت کا عالمی دن سب سے پہلے 1993میں منا یا گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال دنیا کے ممالک میں صحافی برادری کی تنظیمیں اس دن کو مناتی ہیں۔پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔
صحافت(پرنٹ و الیکڑانک میڈیا) کے پیشے کو کسی بھی ملک کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے اس پیشے کی اہمیت اور قدر و قیمت کا احساس بخوبی ہوتا ہے۔ ریاست کے چار ستون میں پہلا انتظامیہ یعنی حکومت وقت، دوسرا ستون مقننہ ، تیسرا ستون عدلیہ اور چوتھا صحافت جسے میڈیا کہا جاتا ہے۔ میڈیا کی طاقت کا اندازہ ہمیں بخوبی ہورہا ہے۔ ملک میں جب سے میڈیا آزاد ہوا ہے اس شعبے کی اہمیت بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ آزاد میڈیا خاص طور پر پرنٹ میڈیا سب پر حاوی نظر آتا ہے۔ میڈیا کی آزادی سے ایک جانب تو بے شمار فوائد ہوئے تو دوسری جانب آزاد میڈیا کے منفی اثرات بھی بے شمار سامنے آئے ہیں۔ برقی میڈیا(الیکٹرانک میڈیا)پاکستان میں آزاد کیا ہو ا، فہاشی، عریانیت، بے حیائی کا کھلے عام دور دورہ ہوگیا۔ جس چینل کا جی چاہتا ہے ڈراموں، اشتہاروں کے نام سے فہش،عریاں اور بے حیا قسم کے سین شامل کرکے کھلے عام دکھاتا ہے۔ ا س پر شرم و ندامت بھی محسوس نہیں کرتے۔ نہیں معلوم اس عریانیت اور فہاشی سے کونسی خدمت وہ کرنا چاہتے ہیں۔ برقی میڈیا کی ا س بے مہار آزادی نے گھر گھر داخل ہوکر ہماری عزت و آبرو اور ہماری مشرقی روایات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ حکومتی مشینری لگتا ہے چین کی بانسری بجارہی ہے۔ اُسے کچھ نظر ہی نہیں آتا مختلف قسم کے اسکینڈلوں سے حکومت کی جان چھٹے تو وہ کسی تعمیری کام کی جانب توجہ دے۔ جو صاحب اختیار ان امور کی نگرانی پر مامور ہیں وہ صرف اس فکر اور تَگا پُو میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طرح ان کا عہدہ برقرار رہے۔ٹی وی چینلز کیا کررہے ہیں، کیا دکھارہے ہیں انہیں اس کی پروا نہیں۔ نجی چینل پر بڑھتی ہوئی عریانیت اور فہاشی کے بارے میں کئی قلم کاروں نے لکھا، حکام بالا کی توجہ اس جانب دلائی، اخبارات نے فہاشی پر مبنی ڈراموں کی تصویریں بھی شائع کیں لیکن حکومتی مشینری کی آنکھوں پر نہ معلوم کس قسم کی پٹی بندھی ہے کہ انہیں کچھ نظر ہی نہیں آرہا۔ نجی چینل کے متعلقہ حکام، ڈرامے لکھنے اور تشکیل دینے والے، بیہودہ سین اسکرین کی ذینت بنانے والے ایماندار ی سے یہ سوچیں کہ کیا یہ آزادی صحافت ہے؟ بیہودہ سین، عریاں قسم کے اشتہارات اپنے گھر میں اپنی فیملی کے ہمراہ، اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہماری مشرقی روایات یہیں ہیں جوہم ٹی وی اسکرین پر ڈراموں میں اور اشتہاروں میں دکھارہے ہیں۔ٹاک شو ز میں جس قسم کی گفتگو ہمارے اکثر سیاست داں کرتے ہیں وہ انہیں ذیب دیتی ہے۔ کیا ہمارا مذہب ہمیں یہی درس دیتا ہے،ہر گز نہیں۔ قرآن کریم میں فہاشی سے ، بے حیائی سے منع کیا گیا ہے۔ارشاد ربانی ہے ’خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو( خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو‘۔(سورۃ النحل آیت 9)۔
آزادئ صحافت کے عالمی دن صحافت کے پیشے وابستہ تما م شعبہ جات کے لوگوں کو خاص طور پر، جن کے ہاتھ میں قلم ہے، جن کو کسی بھی چینل پر بات کرنے کی سہولت حاصل ہے، جنہیں لوگوں کی چلتی پھرتی تصاویر بنانے کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، اینکر ز غرض ہر ذمہ دار کو سوچنا ہوگا کہ کیا ہم آزادی اظہار کا جائز استعمال کر رہے ہیں، ہمارا میڈیا ملک کے چوتھے ستون کی حیثیت سے کیا کردار ادا کررہا ہے۔ ایک دوسرے پر کھلم کھلا تنقید تو دور کی بات ایسے ایسے جملے اور فقرے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جنہیں سن کر تکلیف ہوتی ہے۔خواتین کا احترام تو دور کی بات انتہائی بیہودہ گفتگو ایسے لوگ کرتے ہیں جنہیں معاشرے کا ایسا فرد تصور کیا جاتا ہے جسے ظاہری طور پر دیکھ کر اپنی زندگی میں بہتری لانے کا خیال آئے۔ لیکن ان کی گفتگو سن کر انسان شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔ جس ادارے پر ہم چاہتے ہیں تنقید کے ایسے نشتر چلاتے ہیں کہ جیسے ہم اپنے ہی ملک کے لوگوں سے، اپنے ہی اداروں سے نہیں بلکہ دشمن ملک اور اس کے لوگوں سے مخاطب ہوں۔ یہ آزادی اظہار نہیں۔ آزادئ صحافت کا عالمی دن ہمیں صحافت کے پیشے کی مشکلات کا اظہار کرنے ، مسائل کو بیان کرنے ، صحافت سے وابسطہ لوگ جن خطرات سے دور چار ہیں ان سے کس طرح محفوظ رہا جاسکتا ہے، صحافت کا پیشہ اب پھولوں کی سیج نہیں رہا بلکہ اس پیشہ میں حقائق کوسامنے لانے والوں کو اپنی جان سے بھی جانا پڑجاتا ہے۔ صحافی کو سچ بولنے ، کالم نگار کو سچ لکھنے، تجزیہ نگار کو ایمانداری سے سچ تجزیہ کرنے کی سزا بسا اوقات اس قدر بھیانک ملتی ہے کہ وہ اور اس کا خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔شکیلہ شیخ کی رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں 1992سے2017تک 60صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا تدارک کیسے کیا جائے ، صحافی کیسے محفوظ رہیں ،صحافی جو اس قسم کے ظلم و ستم کا نشانہ بن جائے اس کے بیوی اور بچوں کی فلاح و بہبود کے کیا اقدامات کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے آزادئ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ہر سال ایک نیا موضوع دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دینا ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *