• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • ہمارا کائناتی سفر۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/تیسرا ،آخری حصہ

ہمارا کائناتی سفر۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/تیسرا ،آخری حصہ

ہم نے پچھلے حصے میں جانا کہ کیسے نظام شمسی کے شروع میں ایک بھیانک ٹکراؤ کے نتیجے میں ہمارا چاند وجود میں آیا۔۔۔ ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسا کونسا سیارہ موجود ہے جس پہ روز قیامت اترتی ہے، جہاں روزسورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔۔۔۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ کیسے زمین کا ماضی میں ایک بھائی بھی تھا، مگر ایک بھیانک واقعے نے ان دونوں کی راہیں جُدا کردیں، مگر اب ایک ارب سال بعد دونوں سیارے دوبارہ ایک جیسے بننے جارہے ہیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ ایک ارب سال بعد زمین جہنم کی مانند گرم سیارہ بن چکی ہوگی،اگرچہ انسانی ٹائم اسکیل پہ دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی مدت ہے مگر ہم جب اسے کائناتی ٹائم اسکیل پہ دیکھتے ہیں تو یہ واقعہ “بہت نزدیک” معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔ یہ تو طے ہے کہ اگر اُس وقت انسان موجود ہوئے تو وہ یقیناً آج کے دور کے انسانوں سے بالکل مختلف ہونگے، یہی وجہ ہے کہ سائنسدان پُرامید ہیں کہ اگر ایک ارب سال بعد بھی کوئی intelligent مخلوق موجود ہوئی تو وہ اس مصیبت سے چھٹکارا پاسکے گی۔۔۔۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک جسم کی کشش ثقل دوسرے جسم پہ اثر انداز ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ چاند کی کشش ثقل زمین پہ اثر انداز ہورہی ہے جس وجہ سے زمین کی اپنے axisپر گھومنے کی رفتار دن بدن سست پڑتی جارہی ہے، اور اسی وجہ سے چاند ہر سال ہم سے 4 سینٹی میٹر دور بھی ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔ اسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اُس وقت کے انسانوں کے پاس یہ آپشن موجود ہوگاکہ مریخ کے نزدیک موجود لاکھوں شہابیوں کا رخ زمین کی جانب اس زاویے سے کردیں کہ یہ چاند کی طرح زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہوجائیں، ان لاکھوں شہابیوں کی کشش ثقل کے باعث زمین پہ زور پڑے گا اور یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے سرکنا شروع ہوجائے گی اور سورج سے دور ہونا شروع ہوجائے گی، اگرچہ ابھی کی ٹیکنالوجی میں یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے اور ہمیں ابھی اس کی ضرورت بھی نہیں، لیکن مستقبل میں اگر کوئی مخلوق اس سیارہ زمین پہ موجود ہوئی تو لازماً اس آپشن کو استعمال کرے گی، اگر زمین کو کسی طرح ہٹا کر مشتری کے نزدیکی مدار تک لے جایا گیا تو زمین کے بچ جانے کے امکانات ہونگے، لیکن یہاں ایک اور مصیبت بانہیں پھیلائے ہمارا انتظار کررہی ہوگی،وہ یہ کہ زمین کا مریخ یا کسی بھی بڑے سیارچے سے ٹکراؤ لازماً ہوجائے گا، کیونکہ اس عمل کے دوران زمین کو اُس مدار سے ہٹایا جائے گا جہاں پہ اربوں سال تک یہ رہی اور راستے میں آنے والے پتھروں کا صفایا کرتی رہی ہے۔

بہرحال یہ ایک theoretical option ہے جس پہ سوچا جاسکتا ہے۔۔۔ ہم نے اس سیریز کے پہلے حصے میں جانا کہ جب نظامِ شمسی وجود میں آرہا تھا تو اس دوران مادہ یکساں پھیلا ہوا تھا، اسی خاطر سیارہ زہرہ اور زمین ایک سائز کے ہیں تو پھر یہ سوال ذہن کے دریچوں پہ دستک دیتا ہے کہ مریخ چھوٹا سیارہ کیوں ر ہ گیا؟ کیا یہ کوئی نامکمل سیارہ ہے؟(کیونکہ مریخ ہماری زمین کی نسبت آدھے سائز کا ہے)تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب نظامِ شمسی کے شروعاتی ادوار میں شدید جنگ چل رہی تھی، تو کچھ سیاروں نے چھوٹے پتھروں سے ٹکراؤ کے باعث اور کچھ سیاروں نے دوسرے سیاروں کی کشش ثقل کی زد میں آکراپنا محور بدلا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مشتری اور مریخ پہلے کافی قریب تھے، اس دوران مشتری نے بہت سے ایسے پتھر جو کہ مریخ کے محور میں موجود تھے ان کو اپنی جانب کھینچنا شروع کردیا جس وجہ سے مریخ ، زمین کے مقابلے میں کافی چھوٹا سیارہ رہ گیا،بعد ازاں سیارہ زُحل کی کشش ثقل مشتری کو کھینچ کر دُور لے گئی، اسی طرح نیپچون اور یورینس بھی زحل اور مشتری کے نزدیک والے علاقوں میں بنے مگر دیوہیکل پتھروں سے ٹکراؤ کے باعث ان کا بھی محور تبدیل ہوا اور آج یہ نظام شمسی کے کناروں پہ ہیں، تمام سیاروں کا elliptical orbit اور اپنے محور پہ جھکاؤ بھی یہی بتاتا ہے کہ یہ ماضی میں شدید ٹکراؤ جھیل چکے ہیں۔جب تمام سیارے اپنے مداروں کو صاف کرچکے تو اِن چار بڑے اور دیوہیکل سیاروں نے نظامِ شمسی کے کناروں (Kuiper Belt)سے برف کے عظیم پتھروں کو نظام شمسی کے اندر کی جانب کھینچنا شروع کردیا، جس کی وجہ سے 50کروڑ سال تک پورے نظام شمسی پہ پتھروں کی طوفانی بارش ہوتی رہی، ہمارے چاند پہ موجود گڑھے ،زمین پہ موجود پانی اُسی دور کی نشانی ہیں اور شاید “ہم” بھی۔۔۔۔ کیونکہ اوائل میں زمین بالکل سوکھی اور انتہائی گرم تھی، اس پہ پانی موجود نہیں تھا، اس دوران برف کے پتھروں کی انہی Late Heavy Bombardment کے ذریعے زمین پہ پانی آیا، اور ہمیں شک ہے کہ زندگی بھی انہی پتھروں میں قید ہوکر آئی۔

اس کا اندازہ ہمیں ایسے ہے کہ پتھروں کی یہ بارش آج سے 3۔9 ارب سال پہلے تھمی اور اب تک ہمیں سب سے قدیم (تقریباً 4۔2 ارب سال پُرانا)فوسل کینیڈا کے گرم پانیوں سے ملا ہے، اگرچہ یہ فوسل simplest form of life کا بتاتا ہے، لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین پہ اِن پتھروں کی بارش کے فورا بعد simplest form of life اپنا وجود رکھتی تھی۔۔۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ آسمان سے پتھروں کی بارش آج ہمارے لئے جہاں موت کا سامان ہے، وہیں زندگی جیسی انمول شے کی شروعات کی نشانی بھی ہے۔۔۔۔ 2018ء میں انسانوں کا بھیجا گیا اسپیس کرافٹ New Horizon تقریباً 13 سال لگاتار سفر کرنے کے بعدپتھروں کی اسی پٹی میں داخل ہوا جس کے بارے میں گُمان کیا جاتا ہے کہ زندگی اور پانی یہاں سے آئے، اِس اسپیس کرافٹ نے یکم جنوری 2019ء کو یہاں موجود ایک برفیلے پتھر Ultima Thule کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور اس کے متعلق تفصیلی ڈیٹا زمین کو ارسال کرنا شروع کردیا ہے جو اگلے چندماہ میں مکمل طور پہ ہمیں موصول ہوجائے گا جس کے بعد ہم حتمی جان سکیں گے کہ زمین پہ زندگی کی شروعات اور پانی لانے میں ان پتھروں کا کتنا کردار تھا۔۔۔۔۔ جب Late Heavy Bombardment کا واقعہ وقوع پذیر ہورہا تھا ، تو اس کے نتیجے میں تین قسم کے واقعات رونما ہورہے تھے، ایک تو یہ کہ زیادہ تر برفیلے پتھر چاند، سورج اور سیاروں پہ گر رہے تھے، دوسرا یہ کچھ برفیلے پتھر ایسے بھی تھے جو سیاروں کی کشش ثقل میں جکڑے گئے اور آج ان کے چاند کہلاتے ہیں (چاند بننے کے متعلق تین آراء ہیں، ایک نظریہ تو یہ ہے کہ جیسے سیارے بنے ویسے ہی گرد کے بادلوں سے چاند بنے، جبکہ دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ جیسے زمین کا چاند بنا ،ویسے ہی کسی بڑے پتھر کے ٹکرانے سے سیاروں کے گرد چاند بنے، مگر کچھ سیارے ایسے بھی ہیں جن کے گرد 70 سے زائد چاند ہیں ان کے متعلق نظریہ ہے کہ Late Heavy Bombardmentکے دوران ان سیاروں نے ان برفیلے پتھروں کو اپنی کشش ثقل میں جکڑ لیا تھا اور یہ اب ان کے چاند کے طور پہ جانے جاتے ہیں)

بہرحال جہاں اس دوران یہ دو واقعات رُونما ہورہے تھے وہاں تیسرا واقعہ یہ بھی رُونما ہورہا تھا بہت سے برفیلے پتھر سورج کا چکر کاٹ کر اس قدر شدید رفتار حاصل کرچکے تھے کہ سور ج سے کروڑوں کلومیٹر دور اکھٹے ہونا شروع ہوگئے اور آج اورٹ کلاؤڈ کی شکل میں وہاں پہ موجود ہیں، جب بھی کبھی کوئی ستارہ سور ج کے نزدیک سے گزرتا ہے تو Oort Cloud نامی اس برفیلی پٹی کو disturb کردیتا ہے جس وجہ سے کبھی کبھار اس پٹی سے کوئی برفیلا آوارہ پتھر ہماری زمین کا رُخ بھی کرلیتا ہے (اورٹ کلاؤڈ کے متعلق تفصیلی مضمون کا لنک آرٹیکل کے آخر میں موجود ہے)، آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر 75 سال بعد Halley Comet نامی دُم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرتا ہے ،جسے عام آنکھ سے دیکھا بھی جاسکتا ہے، ہمارا اندازہ ہے کہ یہ برفیلا پتھر دراصل Oort Cloudسے ہی آتا ہے۔۔۔۔

بہرحال اس سب کائناتی کھیل سے زندگی کی شروعات ہوئیں اور ایسا ہی کائناتی کھیل ایک بھیانک طریقے سے زندگی کا اختتام بھی کرے گا،ہمارا علم کہتا ہے کہ نسل انسانی کو فی الحال کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ، نہ تو کوئی سیارہ مستقبل قریب میں زمین سے ٹکرانے کا چانس ہے، نہ ہی ہمارے چاند کا زمین سے ٹکراؤ کا کوئی چانس موجود ہے، لیکن چونکہ سورج ہر ایک ارب سال میں پہلے سے دس فیصد زیادہ گرم ہورہا ہے جس وجہ سے اندازہ ہے کہ اگلے 60 کروڑ سالوں میں سورج اس حد تک گرم ہوجائے گا کہ زمین پہ تمام درخت اور پودے جل کر راکھ ہوجائیں گے ، اسکے ساتھ ہی complex اور intelligent لائف کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اورزمین دوبارہ اپنے شروعاتی دور (microorganisms والے era)میں لوٹ جائے گی۔

مزید اگلے چند ارب سالوں میں زمین کتنا خطرناک سیارہ بن جائے گی اس کی منظر کشی ہم پچھلے حصے میں تفصیلاً کرچکے ہیں، ہمارا اندازہ ہے کہ اُس وقت اگر زندگی کے لئے موزوں ترین کوئی جگہ ہوگی تو وہ زحل کا چاند ٹائٹن ہوگا،اس عظیم تباہی سے بچنے کےلئے اُس وقت کی زمینی مخلوق کو کیا کرنا پڑےگا یہ ہم تفصیلاً شروع میں ڈسکس کرچکے ہیں، اگر تو وہ زمین کو اپنے مدار سے ہلانے میں کامیاب نہ ہوئے تو سورج بڑا ہونا شروع ہوجائے گا اور زمین کو نگل لے گا، اگر کسی طریقے سے وہ زمین کا مدار شفٹ کرنے میں کامیاب ہوگئےتو وہ دیکھیں گے پانچ سے سات ارب سال بعد سورج بڑا اور شدید گرم ہوچکا ہوگا لیکن پھر اچانک سے ٹھنڈا ہوکر سمٹے گا اور ایک سفید بونا ستارہ (White Dwarf)بن جائے گا،اس دوران ہماری کہکشاں ملکی وے اور پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا کا ٹکراؤ بھی ہوگا، لیکن اندازہ ہے کہ اس ٹکراؤ میں ہمارا سورج (جو اُس وقت سفید بونا ستارہ بن چکا ہوگا)محفوظ رہے گا(کہکشاؤں کے اس ٹکراؤ کے متعلق مضمون کا لنک آرٹیکل کے آخر میں موجود ہے)،سفید بونا ستارہ بننے کے بعد سورج کی کشش ثقل کم ہوجائے گی جس کے باعث سیاروں کے سورج کے گرد چکر لگانے کی رفتار سست پڑجائے گی، 12 ارب سال بعد اینڈرومیڈا اور ملکی وے ملکر ایک نئی کہکشاں ملکو میڈا بنا چکے ہونگے تو مزید ستاروں کی موجودگی کے باعث عین ممکن ہے کہ کوئی بڑا ستارہ سورج اور اس کے سیاروں کو اپنی جانب کھینچ لے، یوں ہم سب کسی دوسرے ستارے کے گرد چکر لگانا شروع ہوجائیں گے،اس دوران سورج آہستہ آہستہ چمکنا بند کردے گا اور ایک کھرب سال بعد سورج کاربن پہ مشتمل ایک Black dawrfبن کر رہ جائے گا، ڈارک انرجی کی وجہ سے کائنات اتنی پھیل چکی ہوگی کہ دیگر کہکشائیں ہم سے بہت دور جاچکی ہونگی، ہمیں اپنی کہکشاں کے علاوہ پوری کائنات سنسنان دکھائی دے گی۔

یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہےکہ ہم کائنات کے بہترین وقت میں زندہ ہیں، کیونکہ اگر ہم اربوں سال پہلے پیدا ہوتے تو ستاروں کی بھرمار ہوتی اور ہمارا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا جبکہ اگر ہم اربوں سال بعد پیدا ہوتے تو ہمیں یوں لگتا جیسے اس کہکشاں سے باہر کوئی کائنات ہی نہیں، ہم کبھی بھی اپنے سے دور جانے والی کہکشاؤں کو نہ دیکھ پاتے یہی وجہ ہے کہ اُس وقت اگر کوئی مخلوق موجود ہوئی تو اسے علم تک نہیں ہوپائے گا کہ اصل میں کائنات ہماری کہکشاں جیسی اربوں کہکشاؤں سے بھری پڑی ہے، اُس مخلوق کے لئے ملکو میڈا (نئی کہکشاں) ہی کُل کائنات ہوگی، سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس مخلوق کو یہ تک معلوم نہیں ہوپائے گا کہ اِسی ملکو میڈا کے کسی ستارے میں کوئی کبھی بولنے، دیکھنے، سننے اور سوچنے والی مخلوق بھی موجود تھی، وہ مخلوق اس کا احساس تک نہیں کرپائے گی کہ زمین پہ زندگی نے کیا ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ہمارے دائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرنے کے باعث وجود میں آئے ، جبکہ بائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرنے کے باعث بنے، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اسی کائنات کا حصہ ہیں۔۔۔۔ اور ہم کائنات کا وہ انمول حصہ ہیں جو سُن سکتا ہے، دیکھ سکتا ہے، بول سکتا ہے، فیصلے لے سکتا ہے، کائنات کے اس قلیل حصے میں موجود شعور اس کو پوری کائنات سے منفرد بنا دیتا ہے۔۔۔۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آج ہمارے سورج میں بننے والے ایٹمز مستقبل میں ہمارے جیسی مخلوق کی آمد کی تیاری ہو۔
اس سیریز کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے:
https://www.mukaalma.com/66516
اورٹ کلاؤڈ کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کےلئے:
https://www.mukaalma.com/13117
کہکشاؤں کے ٹکراؤ کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کےلئے:
https://www.mukaalma.com/25847

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *