ایملی زولا۔۔۔احمد عقیل روبی مرحوم

ایملی زولا 2 اپریل 1840ء کو پیرس میں پیدا ہوا لیکن اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے کچھ سال ایکس۔این کے صوبے میں گزرے جو اس کے ناولوں میں Plassans کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1858ء میں ایملی زولا پیرس آیا۔ اسکا باپ اٹلی کا اور ماں فرانس کی تھی۔ 1862ء تک اس نے فرانس کی شہریت نہ لی تھی۔ زولا کا ابتدائی زمانہ بہت غربت میں گزرا۔ بہت سے محکموں میں کلرکی کی۔ آخر کار Therese Raquin نامی اخبار سے منسلک ہو گیا جس سے اسے پیسہ بھی ملا اور شہریت بھی۔ اسی عرصے میں اسے A.G Melley مل گئی جس سے اس نے 1870ء میں شادی کر لی۔ یہ شادی اچھی ثابت نہ ہوئی۔ زولا نے نیچرلسٹ تحریک کی سربراہی کی اور اپنی کہانیاں موپساں اور دوسرے دو لکھنے والوں کے ساتھ مل کر چھپوائیں اور مسلسل اس تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے کام کرتا رہا۔ زولا 1902ء میں فوت ہوا۔ اس کی موت ایک مستری کی نااہلیت کی وجہ سے ہوئی۔ مستری اس کے بیڈروم کی چمنی ٹھیک کرنے آیا۔ چمنی درست کی لیکن اس کے بند پائپ کو صاف کرنا بھول گیا۔ کوئلوں کی ساری گیس کمرے میں بھر گئی اور زولا صبح تک دم گھٹنے سے مر گیا۔

زولا کی زندگی کا ایک سنسنی خیز واقعہ 1898ء میں وقوع پذیر  ہوا جو اس کی تخلیقی زندگی پر بہت اثر انداز ہوا۔ یہ فرانس کے صدر کے نام ایک کھلا خط تھا جو L.Aurore نامی اخبار کے پہلے صفحے پر چھپا۔ یہ فرانس کی فوجی انتظامیہ کی کرپشن کی نشاندہی تھی۔ اس خط نے فرانسیسیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، دنیا میں بدنامی الگ ہوئی۔ حکومت نے زولا کے اس خط کا سختی سے نوٹس لیا اور اس پر مقدمہ قائم کر دیا۔ عدالت نے زولا کو ایک سال کی سزا سنا دی۔ زولا انگلستان بھاگ گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ لے لی۔ یہ سارا ہنگامہ ایک یہودی کیپٹن Drey Fus کے بارے میں تھا جسے ایک سازشی جال میں پھنسایا گیا تھا اور زولا نے اس کی مدد کی تھی۔ سال کے بعد جب کیپٹن کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا اور اسے پورے اعزازات سمیت بری کر دیا گیا تو زولا واپس پیرس آ گیا اور اپنی 20 ناولوں کی سیریز پوری کرنے لگا۔ 20 ناولوں کی سیریز The Rougon Maequqrt کے سارے ناول تو میں نے نہیں دیکھے۔ چند ناول جو ہاتھ لگے یا میں نے پڑھے وہ ناول زولا کی تخلیقی طاقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان ناولوں میں ابھرنے والے کردار ایک ہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ناولوں میں کبھی کم اور کبھی دیر تک سامنے رہتے ہیں یا کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی کردار کی زندگی کے واقعات ناول کا حصہ بنا لیے گئے ہیں۔ زولا نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے حق میں آواز اٹھائی اور مخالف قوتوں سے مقابلہ کیا۔ زولا کہا کرتا تھا کہ ’’ میں نے ہمیشہ سچ اور انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ میری صرف ایک ہی آرزو اور خواہش ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں جی رہے ہیں انہیں روشنی میں لایا جائے۔ جو دکھ میں سانس لے رہے ہیں انہیں خوشی دلائی جائے۔ یہ میری روح کی آواز ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو دن کی روشنی میں میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ فرانس کی حکومت کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اس پر مقدمہ چلا لیکن جب سچائی سامنے آئی تو حکومت کو ہار ماننا پڑی۔ حکومت نے اندر ہی اندر زولا کو سزا دی۔ اس سزا کا انکشاف دس سال بعد ہوا۔ دس سال بعد زولا کے گھر کی چمنی ٹھیک کرنے والے مستری نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ سیاسی وجوہات پر میں نے ہی زولا کے گھر کی چمنی کو بند کیا تھا جس سے گیس زولا کے کمرے میں بھر گئی تھی اور زولا کی موت واقع ہوئی تھی۔ مستری، فرانس کی حکومت اور کمرے میں بھری ہوئی گیس تینوں نے مل کر زولا کو مار دیا لیکن وہ اس سچائی کا گلہ نہ گھونٹ سکے جو صدیوں سے چل رہی ہے اور چلتی رہے گی، زولا اس کے بارے میں خود کہہ گیا تھا: “The Truth is on march and nothing will stop it”.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *