پاکستان کا مظلوم ترین طبقہ۔۔رانا اورنگزیب

SHOPPING

 کاشتکار پاکستان کا وہ کم ترین درجے کا شہری ہے کہ جس کے حقوق اقلیت کے برابر بھی نہیں۔شہروں میں بلدیہ کا صفائی کرنے والا عملہ کسان سے زیاده سہولیات اور مفاد رکھتا ہے۔بلدیہ کا عملہ صفائی اگر ایک دن احتجاج کردے تو حکومت ان کے آگے الٹی لیٹ جاتی ہے جبکہ کسان چاہے خودکشی کر لیں مگر کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔پہلے کسان اپنے کھیت کی فصل کھاتا تھا اب کسان کو فصل کھاتی ہے۔ کاشتکار کوئی  بھی فصل بوۓ چاہے چاول ہو یا گندم،کپاس ہو یا گنا اس کو جوان کرنے میں کاشتکار کی سانس اکھڑنے اور پھولنے لگتی ہے۔کہیں بیماریاں فصلوں پر حملہ آور ہوتی ہیں کہیں سنڈیاں اور دیگر حشرات کہیں جنگلی سور اور گیدڑ تو کہیں چوہے غرضیکہ فصل پکاتے پکاتے کاشتکار کی زندگی بھی پکنے لگتی ہے۔ وہ ہی فصل جب پک کے تیار ہوجاتی ہے تو کاشتکار کی خوشی کا کوئی  ٹھکانا نہیں رہتا ۔اس کی پیشانی آنے والے دنوں کا سوچ کے دمکنے لگتی ہے۔وہ من ہی من  میں سینکڑوں منصوبے ترتیب دیتا ہے کہیں بیٹی کی شادی کا سپنا تو کہیں بیٹے کی پڑھائی کا خواب،کبھی ادھورے مکان کو مکمل کرنے کی خواہش تو کبھی والدین کے حج کی حسرت!

مگر جب وہ اپنی فصل کو منڈی کی طرف لے کے چلتا ہے تو اس کے سارے خواب سارے سپنے اس کی آنکھوں میں مر جاتے ہیں خواہشیں دم توڑ دیتی ہیں حسرتیں پھر سے تشنہء تکمیل رہ جاتی ہیں۔جس فصل کو وہ ہر قسم کے موسمی حالات بیماریوں کے حملے جنگلی جانوروں کی یلغار سے بچا کے لے نکلتا ہے اسی فصل پر کہیں منڈی کے گدھ حملہ آور ہوجاتے ہیں کہیں دلالی کے چوہے کہیں دفتروں میں بیٹھے جنگل والے سوروں سے زیادہ نقصان دہ جانور کہیں صنعتکاری کے گیدڑ سب کے سب کاشتکار کی فصل پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس کے ہاتھوں سے چھین جھپٹ کر اپنے اپنے پیٹ بھرتے ہیں۔اس وقت کماد کی فصل مارکیٹ میں ہے اور کاشتکار تنہا اس پر حملہ آور جانوروں کا مقابلہ کرتے ہانپ رہا ہے حکومت کی طرف سے 180روپے فی من قیمت طے کی گئی ہے۔مگر ملز انتظامیہ کاشتکار کو 147 روپے فی من سے سی پی آر بنا کے دے رہی ہے۔حکومت کی طے کردہ قیمت انتہائی ظالمانہ اور کاشتکار کے ساتھ ایک بے رحم مذاق کے علاوہ کچھ نہیں ۔

کماد کی فصل ایک ایکڑ کا سالانہ ٹھیکہ کم از کم20000 زمین کی تیاری کا خرچ 6000 بیج کا خرچ 15ہزار سارا سال پانی کھاد سپرے پر اٹھنے والا خرچ 50ہزار کم از کم کٹائی کا خرچ فی من 20 روپے مل تک کم از کم کرایا 15 روپے فی من کل پیداوار فی ایکڑ 1000من ملز میں کٹوتی کم از کم 50من کسان کو ملنے والی قیمت فی من 120زیادہ سے زیادہ یہ 120 روپے وہ قیمت ہے جو باہر بیٹھے شکاری کسان کو تین سے چار دن میں ادا کرتے ہیں۔جبکہ ملز147 روپے کا سی پی آر بنا کے دیتی ہے کل حاصل شدہ رقم 114000 کل خرچ 126000 پہلے سال کا خسارہ 12000 اگلے سال کماد کی فصل میں کچھ خرچے کم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے کسان کو کوئ بیس تیس ہزار روپے بچ جاتے ہیں بتائیں سرکاری قیمت طے کر نے والے کیا گھاس کھانے والے گدھے ہیں جن کو کسان کی مشکلات کا اندازہ نہیں۔ کس ڈگری کس پڑھائی اور کس بزنس اصول کے تحت گنے کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ اب کوئی  یہ نہ کہے کہ حکومت نے تو 180روپے قیمت مقرر کی ہے۔جو حکومت شوگر ملز مافیا سے مزدور کی کم از کم مقرر شدہ اجرت نہیں لے کے دے سکی( یادرہے کہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت 16000ہزار ہے جبکہ شوگر ملز اپنے مزدوروں کو دس سےتیرہ ہزار ادا کرتی ہیں)وہ کاشتکار کو گنے کی قیمت کیسے لے کے دے ۔

ارباب اختیار بتانا پسند کریں گے کہ  کس کلیے کس فارمولے کے تحت کسی فصل کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔سنو! تم حکومت کے خرچ پر گرمی میں سردی کا مزہ دیتے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے اسکی قسمت کے فیصلے لکھتے ہو جو سارا دن پسینہ بہاتے ہوۓ اپنے کھیت میں کھڑا رہتا ہے اور سردی میں ہیٹر چلا کر دنیا کی بہترین کافی پیتے ہوۓ اس کے گنے کی قیمت متعین کرتے ہو جو ساری ساری رات سردی میں ٹھٹھرتے اپنی فصل کو پانی لگا رہا ہوتا ہے۔ کبھی غور بھی کیا کہ آخر کماد کیسے پلتا ہے؟ کماد کی فصل جو کسان کی رگوں کا لہو ماتھے کا پسینہ بچوں کے حصے کی روٹی بیوی کا سنگار ،والدین کی دوائیں حج وعمرہ کی خواہشیات و حسرتیں کھا کے جوان ہوتی ہے۔اسی فصل کو جوان کرنے کا صلہ کسان کو دھکوں جھڑکیوں اور دھمکیوں کی صورت ملتا ہے۔تم لوگ چند ٹکوں کی خاطر اپنی اولادوں کو بہتر مستقبل دینے کیلئے کسان کے پورے خاندان کو بھوک کے حوالے کر دیتے ہو ۔ دنیا میں ہونے والے ہر قسم کے کاروبار میں تاجر یاصنعت کار اپنا ذاتی سرمایہ خرچ یا انویسٹ کر کے جنس خریدتا ہے اور بعد میں اسے بیچ کر اپنا منافع کماتا ہے جبکہ شوگر ملز مالکان کسان کا گنا صرف سی پی آر کے عوض خریدتے ہیں اور گنے سے حاصل ہونے والے رس سے مختلف مصنوعات تیار کرکے اسے بیچنے کے بعد کاشتکار کو قسطوں کی شکل میں اس کے گنے کی رقم ادا کرتے ہیں لیکن پھر بھی اسے پر مٹ کے حصول میں مشکلات اور سی پی آر کو کیش کرانے میں تاخیری حر بے استعمال کر کے رسوا اور پریشان کرتے ہیں ۔

ملوں کے بند ہونے کے قریب کاشتکار کی حالت مزید خراب ہوجاتی ہے کیونکہ مارچ اپریل میں پڑنے والی گر می سے ایک طرف گنے کا وزن کم ہورہا ہوتا ہے اور دوسری طرف کاشتکار کو گر می کے باعث گنے کی کٹائی کیلئے لیبر ‘دگنی مزدوری ادا کر کے بھی مشکل سے میسر آتی ہیں جبکہ مل بند ہو جانے کا خوف اس کے علاوہ ہوتا ہے کیونکہ ملز بند ہوجانے کے نتیجے میں اس کی پورے سال میں تیار ہوپانے والی گنے کی فصل ضائع ہوجانے کا احتمال پیدا ہوجاتا ہے حد تو یہ ہے کہ جب مل بند ہوجاتی ہے پھر بھی کاشتکاروں کے پاس پورے سیزن میں اس کے گنے کے عوض جاری ہونے والے سی پی آرز میں سے تقریباً دوتہائی  سے زیادہ گھروں میں پڑے ہوتے ہیں جن کی ادائیگی آنے والے سیزن تک ہوتی رہتی ہے ۔ مرے پر سو درے کے مصداق جس مل مالک کا دل چاہتا ہے جمعہ بازار میں دکان یا سٹال لگانے والے کی طرح اپنی مل کہیں دور دراز منتقل کرکے لوٹ مار شروع کردیتا ہے شوگر ملز نہ ہوئی  جعلی دوائی بیچنے والے شعبدہ باز کی مداری ہوگئی

SHOPPING

جو ایک جگہ بھولے  بھالے  لوگوں کو طاقت کی گولیاں اور بواسیر کے چھلے بیچنے کے بعد نئے شکار کی تلاش میں چل پڑتا ہے۔ حکومت اور حکمران اس سارے فراڈ ظلم اور لوٹ مار میں برابر کے شریک ہیں۔خادم اعلیٰ پنجاب کے پچھلے دس سال کے بیانات اٹھا کے دیکھ لیں ہر سال شوگر ملز کو کسانوں کے حقوق دینے کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں۔دلالوں سے ہر سال آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کی باتیں کرتے ہیں مگر ہر بار آہنی ہاتھوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ہر بار کہتے ہیں کہ گنے کے وزن میں کمی بیشی اور کٹوتی کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔مگر نہ جانے کون راتوں رات اجازت نامے وزن کانٹے پر بانٹ جاتا ہے۔خادم اعلیٰ صاحب آپ کے بڑے بھائی  کو ملکی خزانہ بیدردی سے لوٹنے پر نکال دیا گیا۔مگر وہ پچھلے چھ سات ماہ سے   گلی گلی قریہ قریہ روتے پھر رہے ہیں کل ہی انہوں نے درفنطنی چھوڑی ہے کہ دل پر لگے زخموں کو بھولنے والا نہیں۔کیا آپکو غریب اور مجبور کاشتکار کے معصوم بچوں کے دلوں پر لگاۓ گئے زخم نظر آتے ہیں کیا آپ کاشتکار کو بتانا پسند کریں گے کہ اسے زندگی کی سرحدوں سے کیوں نکالا۔کاشتکار کوبتائیں کہ انہیں انسانوں کی کیٹیگری سے کیوں نکالا؟

SHOPPING

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *