کتا مار مہم سے مردہ انسانیت تک کا سفر۔۔۔۔رمشا تبسم

شادمان ٹاؤن آفیسر نے کتا مار مہم کا آغاز کیا ،کچھ کتوں کو گولیاں ماری گئیں اور کچھ کو  زہر آلود کھانادیا گیا ،کافی دیر کتوں کے جسم میں ہلچل رہی ،سانسوں کے ختم ہونے اور روح کے جسم سے پرواز کرنے کی اذیت کتوں میں بھی صاف دکھائی دے رہی تھی گویا کہ کتوں کے مرنے سے لمحہ بھر کو موت کی اذیت یاد آ گئی  ان میں حاملہ کتیاں بھی شامل تھیں اور جب کتے مر گئے تو زیرِ نظر تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے انہیں کس طرح سے لے جایا گیا۔

اس کامیاب مہم میں اﷲ کی ہی پیدا کی ہوئی  زندگیوں کو درندگی سے مارا گیا اور درندگی کا ہی ثبوت دیتے ہوئے انہیں مارنے کے بعد گھسیٹ کر لے جایا بھی گیا۔

بچپن میں ہماری گلی میں ایک کتیا رہتی تھی اسکا نام ہم بچوں نےلالی رکھ دیا وہ اکثر دوپہر اور شام کو دروازے پر آ جاتی دودھ پیتی اور چلی جاتی ہمیں بھی اس سے محبت اور عادت ہو گئی تھی۔کچھ عرصے بعد اسکے بچے پیدا ہوئے چار بچوں کی ماں بنی تو بھی چار بچوں سمیت دروازے پر آتی اور دودھ پی کر چلی جاتی ،ہر وقت اپنے بچوں کے آس پاس گھومتی انکو اپنے جسم سے لپیٹ کر رکھتی، آخر ماں تو وہ بھی تھی۔ایک دن دوپہر کو معلوم ہوا کہ  اسے گولی مار دی گئی تو ہم بچے بھاگے بھاگے گئے دیکھا تو وہ گلی میں تڑپ رہی تھی ،آہستہ آہستہ اسکا جسم ساکت ہو رہا تھا، پھر صرف آنکھیں حرکت کرتی رہی جن میں آنسو صاف نظر آ رہے تھے۔یوں اچانک اسکی آنکھیں بند ہو گئیں  اور ہماری لالی ہم سے بچھڑ گئی  جو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی تھی۔ آس پاس کھڑے کچھ لوگ خوش تھے کہ مر گئی  ،ہم بچے روتے دل کے ساتھ واپس گلی میں بھاگے کہ دیکھیں اسکے بچے کہاں ہیں ان چار بچوں کو دو آدمی پکڑ کر لے جا رہے تھے ۔پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ  انکو ہم ساتھ لے جائیں گے دل مطمئن ہوا کہ کم سے کم یہ بچ گئے مگر ان کے جانے کا دکھ بھی تھا۔

 

شام کو کھیلتے ہوئے پارک گئے کوڑا دان کے پاس ایک شاپر میں ہلچل محسوس ہوئی اسکے پاس جا کر دیکھا تو حیرانگی سے سانس حلق میں پھنس گئی، کیونکہ وہی چار بچے ایک شاپر میں تھے جن میں تین مر چکے تھے اور ایک مرنے کے قریب تھا۔ شائد شاپر میں گھٹن سے دم نکلا یا  زہر دیا گیا۔ یوں انسانوں نے پانچ   زندگیوں کو ختم کیا۔ ملال کسی کو نہیں نہ مارنے والوں کو نہ دیکھنے والوں کو۔شاید وہ پہلا لمحہ تھا ز ندگی میں جب لگا کہ انسان میں انسانیت ان کتوں کو زہر دینے سے پہلے ہی مر گئی ہو، کتے اپنی کتوں والی حرکات کی وجہ سے کتے کہلاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں جیسا کہ  سائیکل کے پیچھے بھاگنا بلاوجہ بھوکنا تو انسانوں کی درندگی والی ان حرکات کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟

“رات کتوں میں بحث جاری تھی۔۔۔

انسانیت مر گئی  انسانوں میں”

کچھ جانور نقصان پہنچاتے ہیں ان سے بچنا چاہیے  تدابیر کرنی چاہیے، مگر کیا انسانوں, خاص کر دینِ اسلام کے پیرو کاروں کو  زیب دیتا ہے کہ انسانیت کے درجے سے گر کر جانوروں کی جانیں بھی لیں اور انکو مارنے کے بعد بھی انسانیت نہ دکھاتے ہوئے سڑکوں پر گھسیٹیں؟۔۔

اسلام جہاں انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے وہاں جانوروں کے ساتھ بھی ہمدری کا رویہ رکھنے کا درس دیتا ہے۔

قربان جائیں نبیِ اکرم ﷺ پر جنہوں نے آج سے چودہ صدی قبل حیوانات کے حقوق کے تحفظ اور ان کی حمایت کا اعلان فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو بھوکا رکھنے، اسے تکلیف دینے، اس پر سکت سے زائد بوجھ لادنے سے منع فرمایا، نیز جانور کو نشانہ بنانے، جانور پر لعنت کرنے والے کو مجرم قرار دیا، جانوروں کو تکلیف دینے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی سختی میں سے شمار کیا۔جانور کے ساتھ رحم وکرم ان کے ساتھ نرمی کے بے شمار واقعات کتابوں میں مذکور ہیں؛ لیکن ہم چند واقعات واقوال کو بیان کرتے ہیں۔۔

نبی پاکﷺ نے جانوروں کو قید کرکے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے(بخاری: ۵۵۱۴ مایکرہ من المثلة)

ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہم سفر میں تھے، ہم نے نبی پاک ﷺکی غیر موجودگی میں ایک سرخ پرندے کے بچوں کو اٹھالیا، ان چوزوں کی ماں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اپنے بازوہلا کر کچھ کہنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہٴ کرامؓ سے پوچھا کس نے اس پرندے کے بچوں کو اس سے جدا کر کے تکلیف دی ہے، اس کے بچوں کو لوٹا دو (ابوداوٴد۳۶۷۵،کراہیةاحراق العدو بالنار)

ایک دفعہ مثلہ زدہ گدھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا تو آپ علیہ الصلاة والسلام نے اس کے مرتکب پر لعنت فرمائی (مسلم: ۲۱۱۷ باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ)۔

ابوہریرةؓ سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ، ایک گنہگار عورت جو بنی اسرائیل کی تھی، اس نے پیاس سے مرتے کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مغفرت فرمادی، (بخاری:۳۴۶۷) ،

ایک نیک عورت بلی کو بھوکا پیاسا رکھنے اور تکلیف دینے کے سلسلے میں جہنم میں چلی گئی، وہ نہ ہی اس کو چھوڑتی تھی کہ باہر وہ اپنی غذا کا انتظام کرسکے، حتی کہ وہ کمزور ہوگئی اور مر گئی(مسلم: ۲۶۱۹)

سارہ سیرت ایک وکیل ہیں جنھوں نے حال ہی میں دارالحکومت کے میونسپل ادارے کی طرف سے آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن جمع کروائی ہے سارہ اور دیگر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ آوارہ جانوروں کے خلاف اس قسم کی مہمات اکثر چلائی جاتی ہیں لیکن یہ وہ خبریں ہیں جو میڈیا پر کبھی نشر نہیں ہوتیں پاکستان میں اب تک 1860 میں انگریزوں کا بنایا ہوا قانون ہی رائج ہے “لیکن پڑوسی ملک انڈیا نے ناصرف اس قانون میں ترمیم کی بلکہ 2001 میں ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کے تحت کتوں کی زمرہ بندی کر کے ان کو ٹیکے لگوانے کا کام بھی کیا اور ساتھ ہی جانوروں کی صحت کے لیے حکومتی سطح پر کلینک بھی قائم کیے گئے جہاں ان کا علاج بھی کیا جاتا ہے اسی طرح ترکی میں بھی گلیوں میں گھومنے والے کتوں سے لیکر پالتو جانوروں کی درجہ بندی اور دیکھ بھال کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ عام آدمی کے انھیں خطرناک تصوّر نہ کریں۔

آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں کے خلاف مہم چلانا میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے صحت و صفائی کے محکمے کے ذمہ  آتا ہے سارہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اسے ایک صفائی کا مسئلہ سمجھتی ہے اور ’جانوروں کی بہبود سے تو ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ہمارا مقصد صرف قانون کو نہیں، سوچ کو بھی تبدیل کرنا ہے۔‘

اگر ان جانوروں کا بے رحمی سے قتل ہی واحد حل ہے تو بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ اگر کوئی جانور بیمار ہے اور آپ  اسے مار کر لاش کو صحیح طرح دفن نہیں کرتے تو اس کے جراثیم پھیل سکتے ہیں یہ وہ بات ہے جو ان کتوں کو مارنے والے انسان نہیں سمجھتے۔

افسوس کہ  ہم کیسے منافق معاشرے میں رہتے ہیں کہ اشرف المخلوق کا درجہ پانے والی مخلوق ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے خود کو آوارہ  بد چلن کہلوانے پہ بضد ہیں۔ اور دوسری طرف گلیوں میں گھومتے یہ معصوم جانور آوارہ کہہ کر مار دیجئے جاتے ہیں یعنی کہ دور حاضر میں اب آوارہ کی بھی قسمیں ہیں کوئی آوارہ کا کارڈ اٹھا اٹھا کر خود کو آوارہ کہے تو وہ جی سکتا ہے۔۔ایک طرف حکومت “بلی” کو غیر اخلاقی غیر ضروری حرکات کرنے پر تمغئہ امتیاز دیتی ہے ۔اور دوسری طرف مجبور جانور جس کو ہم گلی میں گھومتا پھرتا بھونکتا دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ان کتوں کو آوارہ کہہ کر یا گلے میں پٹہ نہ ہونے پر گولی مار دیتے ہیں۔

کاش کتے بھی اپنے حق کی آواز اٹھا سکتے کوئی کتا پلے کارڈ اٹھا کر کہتا “ہمارا بھونکنا ہماری مرضی” یا “بھونکنا برا لگتا ہے تو اپنے کان تم بند کرو” یا پھر “ہم آوارہ، اپنا پٹہ اپنے پاس رکھو”

امیروں کے کتے ان کے بستر پر آرام کرتے اور مالک کے ساتھ کھاتے ہیں اور بے گھر کتے گولی کھاتے ہیں اب تو کچھ کتوں کے نصیب اور قسمت پر بھی رشک آتا ہے جتنا خرچہ حکمران اپنے دو کتوں کی دیکھ بھال پر کرتے ہیں اتنے خرچے میں گلی میں گھومنے والے سو کتے پالے جا سکتے ہیں۔

اس تحریر کا مقصد صرف یہ تھا کہ بے زبان جانور انسانوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی احسان کے مستحق ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی تکلیف بیانی کے لیے زبان نہیں رکھتے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں انسانوں کے ساتھ احسان کی تعلیم دی ہے، وہیں جانوروں کے ساتھ بھی احسان کی ترغیب دی ہے  بلکہ بعض خصوصی مواقع پر جانوروں کے ساتھ احسان کو مغفرت کا ذریعہ قرار کیونکہ جانور اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے۔

عصر حاضر میں جانوروں کے ساتھ بے رحمی کا ہی   نتیجہ ہے کہ  شاید  ہمارے اسلامی معاشرے میں کوئی بھی کسی بھی انسان کا قتل کرتا ہے انسان انسانوں کا قتل کر کے سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں دن کے اجالے میں درندگی کا کھلے عام پرچار کیا جاتا ہے قبروں کی بے حرمتی ہوتی ہے کفن چوری ہوتے ہیں قومِ ثمود پر اونٹنی اور اسکے بچے کو قتل کرنے کی وجہ سے عذاب نازل ہوا شاید  ہمارا وطن بھی اسی وجہ سے لہو لہو ہے کہ  یہاں بے حسی عروج پر ہے۔ ابنِ ربانی نے کیا خوب فرمایا ہے “آرزو نصف  زندگی ہے اور بے حسی نصف موت ہے” ہم بیشتر انسان نصف موت کی حالت میں ہیں۔

شاعر نے کیا خوب کہا

نہ کوئی خواب نہ خواہش نہ غم نہ خوشی

وہ بے حسی ہے کہ ہر شخص رائیگاں ہے یہاں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”کتا مار مہم سے مردہ انسانیت تک کا سفر۔۔۔۔رمشا تبسم

  1. کتا بچاؤ مہم اچھی ہے۔مگر سیاست دان کی تصویر لگا کر کن کتوں کی طرف اشارہ کیا ہے سمجھ نہیں آ رہی ہے۔رہی بلی کی بات تو بلی اس بلی کو نواذ کرکئی کتوں سے ذیادتی کی ہے۔لہذا اسکا ازالہ کرنا چاہئے۔ کتوں پر رحم کرنا چاہئے

  2. اسلام علیکم!
    بہت خوبصورتی سے تم نے انسانیت کی تذلیل پر روشنی ڈالی ہے ….
    کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
    خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر….

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *