سارک کہانی۔۔۔فیصل عظیم

سارک تو گویا خواب ہوا اور ایسا ہونا کوئی حیرت کی بات بھی نہیں مگر سارک کے نام پر تہذیبی اور ثقافتی سطح پر کئی چھوٹے بڑے کام ہوئے جن کا اثر دیرپا ہے اور ایسے کاموں کا اثر اور سفر ہر حال میں کسی نہ کسی صورت اور نام، جاری رہتا ہے۔ ’’سارک کہانی‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور بہت اہم کڑی ہے۔ اور ایسے معاملات کی اہمیت کو شہرت سے ناپنے کی کوشش کرنا بڑی زیادتی ہوتی ہے مگر ہوتی ہے اور افسوس، کہ ہوتی رہتی ہے۔ میں تو یہ بحث کر کر کے سر پھوڑ چکا اور اب اس سے بحث جسے ہو سو ہو، جو لوگ اہمیت کا مفہوم سمجھتے ہیں، وہ زیادہ اہم ہیں، کام کی اہمیت کو شہرت کی سو میٹر دوڑ والے کیا جانیں۔ اس معاملے میں میرا ہم خیال ایک شخص جو مجھ سا کاہل اور بے عمل ہرگز نہیں ہے، ایک دیوانہ ہے جو اطراف کے پاگل خانے سے بے نیاز وہی کرتا ہے جو اسے کرنا ہے۔ اس شخص کا نام ہے سہیل احمد صدیقی۔

ہائیکو پکڑی  اور رسالہ جاری کر دیا۔ کوئز میں گاڑی جیتی اور پھر ایک دن خود کوئز کا میزبان بن گیا۔ پاک چین سیاسی اور معاشی دھماکوں میں ایک ادبی تنظیم بنا ڈالی اور رسالہ بھی شائع کردیا اور یہ فہرست نامکمل ہے ورنہ یہ حضرت اپنی زنبیل میں بہت کچھ رکھتے ہیں کیونکہ ’’ان کا پیغام محبّت ہے جہاں تک پہنچے‘‘۔ اسی  دیوانے  پن کے کاموں میں ایک کام اس نے ایسا کیا جس کی طرف توجّہ کم یا نہیں دی گئی، مگر وہ کام میری نظر میں بڑا اہم ہے۔ حکیم محمد سعید جیسے لوگ ہمارا وہ سرمایہ ہیں جس کا اندازہ ہم بونے نہیں کر سکتے۔ ایسے دیدہ ور اور صاحبِ بصیرت و بصارت ہی ہوتے ہیں جو ماضی کے بجائے مستقبل پر نظر رکھتے اور مستقبل کے معماروں کی تربیت پر اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ ان کے راستے پر چلنے والوں کی قلّت قحط الرّجال کا نتیجہ بھی ہے اور سبب بھی۔ مگر اس راستے پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑنے والے محض کم ہیں عنقا ہرگز نہیں ہیں۔ اس کی مثالیں آج بھی ہمارے درمیان کئی ناموں سے ہیں اور آج بھی آپ بچوں کے لیے لکھی جانے والی نئی کتابیں دیکھ سکتے اور حاصل کر سکتے ہیں۔ لہذا کارواں صرف سست رفتاری کا شکار ہے، جمود کا نہیں اور سہیل صدیقی کی یہ تدوین ’’سارک کہانی‘‘ اس بات کا زندہ ثبوت ہے۔

’’سارک کہانی‘‘ ؁۲۰۰۸ میں چھپی بچوں کی کہانیوں کی وہ کتاب ہے جس میں سارک مالک کی منتخب کہانیاں جمع کر کے انہیں ایک کتاب کی شکل دی گئی ہے، ان میں اردو میں لکھی گئی کہانیاں بھی ہیں اور دیگر زبانوں کی کہانیاں بھی جن کو ترجمہ کی صورت میں شامل کیا گیا ہے۔ چھوٹے بچّوں اور بڑے بچّوں کے لیے علیحدہ حصوں میں شامل چھتّیس ۳۶ کہانیاں ہیں جن کا تعلّق سارک کے آٹھ ممالک یعنی پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور افغانستان سے ہے۔ یہ کہانیاں بچوں کے لیے لکھے جانے والے ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہیں جن میں کہانی کے معیار کا بھی خیال رکھا گیا ہے اور بچوں کی دلچسپی کا بھی۔ یہ بات میری عمر کا شخص کسی بھی کتاب کے لیے آسانی سے کہہ  سکتا ہے کیونکہ ایسی کتابیں کم لکھی جاتی ہیں اور ہم جیسے لوگ بچوں کی کہانی کے نام پر جو چھپ جائے، اسے غنیمت جان کر تعریف کر دیتے ہیں، چاہے اس میں بچوں کی دلچسپی کا سامان ہو، نہ ہو۔ مگر میں یہ بات ایک بالغ (عمر کے اعتبار سے) کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے بچوں کو یہ کہانیاں پڑھانے اور سنانے والے باپ کی حیثیت سے بھی کہہ  رہا ہوں کیونکہ میں نے یہ سب کہانیاں خود پڑھی ہیں اور بچوں کو سنائی اور پڑھائی ہیں اور ان کی دلچسپی ہی ہے جس نے مجھے یہ چند سطریں لکھنے پر مجبور کیا۔

اس کتاب میں چونکہ ایسی کہانیاں شامل کی گئی ہیں جو بظاہر مختلف علاقوں میں مشہور ہوں گی یا رہی ہوں گی، اس لیے ان کہانیوں میں مختلف علاقوں کی تہذیب، زبان اور انداز کی جھلکیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ ایک بین الثقافتی قسم کا ماحول بناتی ہے جو ہمارے آج کے بچوں کو بغیر نصیحت کے، بہت کچھ سکھا سکتا ہے اور بہت کچھ سمجھا سکتا ہے۔ اردو بولنے اور سمجھنے والے بچوں سے ،ان کے معاشرے اور تعلیمی نظام نے، ادب کو ناانصافی کی حد تک دور رکھا ہے (اردو بولنے والے یعنی وہ سب جن کی مادری زبان اردو ہو یا نہ ہو، اردو بولتے اور سمجھتے ہیں کہ تمام گروہ بندیوں سے بالاتر ہو کر، میں ان سب کو اردو کا اہلِ زبان مانتا ہوں) اور ان کا یہ حق ہے کہ ان بچوں کو یہ کہانیاں اور اس جیسا ادب پڑھنے کا موقع دیا جائے اور برِّ صغیر کی تہذیب اور ثقافت کے عکس ان کے لیے سجائے جائیں۔

’’سارک کہانی‘‘کے مصنّفین اور مترجمین میں بڑے اہم نام شامل ہیں جن میں سرفہرست ڈاکٹر جمل جالبی ہیں جبکہ ان میں سے کئی کہانیوں کے ترجمے سہیل صدیقی نے خود کیے ہیں ۔ اس میں جو کہانیاں شامل کی گئی ہیں، وہ مختلف زبانوں میں سنائی یا لکھی گئی کہانیاں ہیں اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید سہیل صدیقی یا ان کےساتھ جو اس کارِ خیر میں شریک رہے ہوں گے، انھوں نے باقاعدہ ایک منصوبے، ایک دائرہ ء کار کے تحت ان کے ترجمے کیے اور کرائے ہیں اور ان میں سے بعض یا تمام کہانیاں، خاص اس کتاب کے لیے لکھی یا ترجمہ کی گئی ہیں تو ان اہلِ علم سے لکھوانا اور ترجمہ کروانا بجائے خود ایک اہم کام ہے۔ ان کہانیوں میں جو لوک کہانیوں والا کچّاپن اور بےساختہ پن ہے، وہ بچوں کو اپنی طرف کھینچتا بھی ہے اور جوڑے بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بچے یہ کہانیاں سننا شروع کردیں تو وہ انھیں بار بار سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں اور میں خود اس کا گواہ ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی سہیل صدیقی کی گرم رفتاری ایسے اور راستے ہموار کرتی چلی جائے گی اور یہ آشفتہ سری گل کھلانے کی اپنی ہی روایات میں اضافہ کرنے سے کبھی باز نہیں آئے گی۔ شکریہ سہیل صدیقی اور زندہ باد۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”سارک کہانی۔۔۔فیصل عظیم

  1. میری کم علمی مجھے اس بارے کچھ معلوم نہیں تھا ۔ فیصل عظیم کے اس مضمون سے سہیل صدیقی صاحب کی کاوش کا معلوم ہوا اور اسے سراہے بغیر آج کا دن گزر نہیں سکتا ۔ فیصل عظیم اور سہیل صدیقی دونوں زندہ باد ۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *