کُُچھ بے ربط باتیں ،بے ربط خیال۔۔۔۔راجہ احسان

فیروز اللغات سے بہتر ہے کہ انسان دل و دماغ کے دریچے کھول لے۔

کبھی کبھی انسان دماغ کے اتنے دروازے کھڑکیاں کھول کر بیٹھ جاتا ہے کہ وہاں رش پڑ جاتا ہے اور اس رش کی وجہ سے وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا یا پھر اسکو چاہت کی کھڑکی کو جانے والا رستہ سجھائی نہیں دیتا۔۔۔۔ تو مقصود کو حاصل کرنے کے لئے یکبارگی تمام کھڑکیاں بند کر کے دماغ کو آزاد چھوڑ دینا چاہئیے کہ وہ خود کوئی کھڑکی کھول لے

کبھی کبھی سب کی نظروں میں بے ہوش شخص ہی با ہوش ہوتا ہے اور کبھی سب کو باہوش نظر آنے والا بے ہوش ہوتا ہے۔

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز کا پیمانہ ہوتا ہے اور پیمانہ ہی کسوٹی ہوتی ہے اسی پر پرکھا جاتا ہے۔۔ اب پیمانے تو ہر قسم کے ہیں اچھے بھی اور برے بھی ۔مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پیمانوں کی بہتات ہے ۔۔۔ ہر سوسائیٹی ہر قوم حتیٰ کہ ہر شخص نے اپنا ایک الگ پیمانہ بنا رکھا ہے اور وہ اس پیمانے پر پرکھتا ہے جب اس کے پیمانے پر کوئی چیز پوری نہیں اترتی تو وہ اسے ریجیکٹ کر دیتا ہے جبکہ وہی چیز شائد کسی اور کے پیمانے پر پوری اتر رہی ہو ۔ تو خالقِ کائنات کے پاس بھی ایک پیمانہ ہے اور دنیا کے پیمانوں سے رد ہوا شخص اس کے پیمانے پر پورا اتر جاتا ہے تو کبھی دنیا کے پیمانوں پر پورا اترنے والا اسکے پیمانے سے رد ہو جاتا ہے ۔ اب شایا آپ  لوگ یہ پوچھو کہ اللہ کا پیمانہ کیا ہے؟

تو اللہ کا پیمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے ، ہمارا ہر عمل اسی کسوٹی پر پرکھا اور تولا جائے گا۔

ایک چیز ہوتی ہے اختلاف برائے اختلاف اور ایک چیز ہوتی ہے وضاحت برائے وضاحت جس کا مقصد اول  تا آخر طوالتِ کلام ہی ہوتا ہے۔

موڈ نہ بنے اور مذاق کا دل بھی چاہے تو ہاتھ میں گلاس پکڑ کر یا چابی پکڑ کر یا کتاب پکڑ کرسی پر اطمیناں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاؤ اور جب گلاس کے گرنے سے آنکھ کھلے تو پھر دیکھو کہ ذوق پیدا ہوتا ہے یا ذوقِ یقیں پیدا۔

تو اس غصے کو ہی مذاق سمجھ لو اور کاغذ پینسل اٹھا کر کچھ لکھ ڈالو۔ رنگ اٹھا لو اور کینوس لے لو اور کچھ آڑھا ترچھا بنا ڈالو اور چاہو تو ایک اور گلاس لے کر پھر سے ٹرائی کرو۔

تمھاری اداسی تمھاری ڈرائینگ سے جھلکتی ہو گی ۔۔ اس طرح تمھارا دماغ اس سمت میں کام کرے گا جس پر اسے تم نے لگا رکھا ہے ۔ خیال ایک پنچھی ہے اور ہم عادی ہیں خیال کو قید میں رکھنے کے۔ اپنی مرضی کے آسماں میں اس پنچھی کے پیروں کے ساتھ ڈور باندھ کر اڑانے کے ۔ ایک بار اس پنچھی کو آزاد کر کے دیکھو اسے اسکی پسند کے آسماں میں پرواز کرنے دو پھر دیکھو وہ کہاں کی خبر لاتا ہے۔

غصے کے بھی اپنے رنگ ہوتے ہیں کُچھ تیکھے پھیکے ۔۔۔۔ غصے کا اظہار کرنا بھی آ جائے  کہ سامنے والے کو بھی غصہ نہ آئے تو یہ بھی ایک  فن ہے۔

عجیب خیال وہ ہوتے ہیں جو جبر کے تحت یا جبلت کے تحت آتے ہیں ۔زرا آذاد خیالوں کا مزا بھی چکھو۔

آزاد خیالی میں انسان زمین پہ کب رہتا ہے ۔ ۔ پر لگا کے اپنی خواہشوں کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔

آزاد خیال وہ ہوتے ہیں جو  بے ہوشی  میں آئیں۔ دماغ کے سبھی دریچوں کو بند کر کے خیال کے پنچھی کو آزاد چھوڑو اور وہ اپنی مرضی سے کسی دروازے پر جا کر دستک دے پھر اس دروازے سے دیکھو کون یا کیا برآمد ہوتا ہے۔

کبھی کسی کی غصے سے بھری شاعری پڑھو ۔ کسی کی غصہ بھری تقریر سنو کسی کی نفرت  زدہ تحریر پڑھو ۔ غصے میں بجتے سازینے کو سنو تو جان جاؤ گے کہ غصے کا اظہار بھی ایک   مذاق ہے۔

غصے کا اظہار کبھی قلم تو کبھی شمشیر کرتی ہے اب قلمکار یا شمشیر زن پہ منحصر ہے کہ اس کے غصے کا اظہار مذاق بنے گا یا۔۔

کبھی خیال کی یہ دستک چونکا دیتی ہے۔ انسان شعوری طور پر وہ بات کبھی نہ سوچے۔

آج جن باتوں کو ہم ریئلسٹک جانتے ہیں کبھی یہ سب بھی اَن رئیلسٹک خیال تھے ،۔آسماں میں اڑنا سمندروں پہ تیرنا چاند اور مریخ پر اترنا ہزاروں میل دور سے باتیں کرنا ہزاروں میل دور دیکھنا ابھی چند سال پہلے تک ہی اَن رئیلسٹک خیال تھے کسی دیوانے کا خواب تھے

تقاضا  کر رہے ہو قہقہوں کا۔۔
یہاں رونے کی آزادی نہیں__

اونگھ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان نہ جاگ رہا ہوتا ہے اور نہ ہی سو رہا ہوتا ہے ایسی کیفیت میں بھی خیال پر ہمارا کُچھ اختیار نہیں ہوتا ۔۔۔ اکثر اس کیفیت میں خیال اپنے من پسند پیڑ پر جا بیٹھتا ہے۔اور آپ کو دیس دیس کی سیر کراتا ہے۔۔۔۔تو آپ کیجیے سیر۔۔۔میں چلااپنے خیال کے ہمراہ۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *