بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔۔ محمد منیب خان

“وہ ایک دہشت گرد ہے، ایک مجرم ہے، ایک انتہا پسند ہے”۔ جیسنڈا آرڈرن 

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں برپا کیے جانے والے سانحے کے بعد وہاں کی حکومت اور سیاسی قیادت نے جس طرح کا رد عمل دیا وہ ہر لحاظ سے نہ صرف  قابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ یوں تو اس سانحے کو بیتے سات دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن نہ تو دکھ کسی طور کم ہورہا ہے اور نہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا عزم متزلزل ہوا۔ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں جہاں بڑے حادثات اور سانحات کو کمیشنوں اور انکوائریوں کی قبر میں دفنا دیا جاتا ہے اس کے برعکس نیوزی لینڈ جیسے ملک کا رد عمل نہ صرف فوری تھا بلکہ پُر اثر بھی۔ سات دن سے کم وقت میں نیوزی لینڈ کی حکومت خودکار اسلحے پہ پابندی لگا چکی ہے۔ مجرم عدالت کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور ایک مضبوط استغاثہ اس کو کڑی سزا دلوانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھے ہوئے۔ جیسنڈا آرڈرن کی پہلی پریس کانفرنس سے لے کر جمعہ کے روز تک کی تمام تقاریر، تمام بیانات اور تمام کے تمام اقدامات اس مظلوم طبقے کے حق میں ہیں جس کی مظلومیت کو شاید پہلی بار اس دنیا نے سنجیدگی سے لیا ہو۔ میں نے مسلمان کو مظلوم طبقہ صرف اس لیے لکھا کہ ہم مسلمان دہشت گردی سے متاثر بھی سب سے زیادہ ہیں اور ہم پہ دہشت گردی کا الزام بھی سب سے زیادہ ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں کسی نہ کسی زاویہ نظر سے درست ہی ہیں۔

ہمارا ایک طبقہ آج بھی جان لینے کے بعد تاویل ڈھونڈ لاتا ہے کہ فلاں اس لیے مارے جانے کے لائق تھا۔ جبکہ اس کے برعکس اللہ کا قرآن ایک انسان کی جان کی حرمت کو اس قدر بلند بیان کرتا ہے کہ کسی ایک بیگناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل سے منسوب ہوتا ہے۔ اب کسی کے گناہگار یا قصور وار ہونے کا فیصلہ یا تو رب کی ذات بروز قیامت کرے گی یا زمین پہ رب کے قانون کے تحت اور معاشرے کی اصلاح و احوال اور قانون کی حاکمیت کے لیے قائم شدہ عدالتیں۔ اس کے علاوہ کوئی شخص، گروہ، قبیلہ یا ادارہ کسی کے قصور وار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن ہم سب اپنی اپنی ذات میں جج ہیں۔ جہاں مغرب کے لوگ ایک دوسرے کی پرائیویسی کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے لا تعلق رہ لیتے ہیں وہاں ہم ایک دوسرے کی پرائیویسی کو روندتے ہوئے ہر بات پہ “جج” کرتے ہیں گویا ہمارے معاشرے کا ہر فرد خود کو منصف ہی سمجھتا ہے۔

خوش فہمی اور غلط فہمی دونوں ہی قوموں کے لیے زہر مہلک ہوتی ہیں اور ہم بے حد خوش فہم قوم ہیں۔ ہمیں آج جیسنڈا آرڈرن اپنی ہیرو محسوس ہو رہی ہے لیکن ہم اپنے ملک میں اقلیتوں کا ناطقہ بند کر کے مطمئن ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت کتنے پارسی، زرتشت اور یہودی خاندان کراچی میں آباد تھے؟ اور اب یہ خاندان کہاں چلے گئے ہیں؟ چلیں یہ سوچیں کہ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں ہندوؤں کی کتنی آبادی تھی اور آج یہ تعداد کتنی ہے؟ اگر سوچنے اور تحقیق کے بعد جذبہ ماند پڑ جائے تو سوچئے کہ آج کل ملک میں جو عیسائیت کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اس ملک کو کس سمت میں لے جائے گا؟ حالیہ چند برسوں میں توہین دین اور توہین رسالت صلی اللہ ھو علیہ وسلم کے الزامات ایک تواتر سے لگنے لگے ہیں۔ آسیہ مسیح کا کیس تو شاید صرف سلمان تاثیر کی وجہ سے زیادہ خبروں کی زینت بنا لیکن اس ملک میں ایک عیسائی وفاقی وزیر دن دیہاڑے قتل ہو چکا ہے۔ چرچ پہ بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ یہاں قرآن جلانے کے جھوٹے واقعات منسوب کیے گئے۔ آج سے پچاس یا سو سال بعد جب اس ملک کی  اقلیتوں کی تاریخ پڑھی جا رہی ہو گی تو اس مذہبی جنونیت کے سر پہ اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کے سوا اور کیا رقم ہوگا؟ جبکہ خلیفہ دوم حضرت عمر رض کا طریقہ تو یہ تھا کہ چرچ کے اندر نماز نہیں پڑھی مبادا بعد کے لوگ اس کو مسجد میں نہ بدل دیں اور چرچ کی سیڑھیوں میں نماز ادا کی اور ضمانت دی کہ چرچ کو قائم رکھا جائے گا۔ ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں۔ لیکن افسوس عمل سے دور۔

نیوزی لینڈ میں اگر مذاہب کی تقسیم دیکھیں تو وکی پیڈیا کے مطابق حیران کن طور پہ اکتالیس فیصد کا مذہب “نو رلیجن” ہے۔ یعنی وہ کسی دین کو نہیں مانتے۔ جبکہ بارہ فیصد کتھولک عیسائی اور صرف ایک فیصد مسلمان ہیں۔ شنید ہے کہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی “اگناسٹک” ہیں۔ ان حقائق کے باجود جس طرح نیوزی لینڈ کی قوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوئی یہ شاید مستقبل کے لیے پیغام ہے کہ “انسانیت” کی بنیاد پہ مختلف عقائد کے لوگ ایک دوسرے کے نزدیک آئیں گے۔ اور سب کو یکساں عزت و تکریم حاصل ہو گی۔ یہاں میں قطب ارشاد حضرت واصف علی واصف رح کی بات ضرور لکھنا چاہوں گا۔ واصف صاحب رح نے کہا تھا کہ “اسلام نے غالب آنا ہے لیکن لازمی نہیں کہ ہم اسلام کو غالب کریں کیونکہ ہمارے اعمال ایسے نہیں۔ عین ممکن ہے کہ جو لوگ دنیا پہ غالب ہوں رب ان کو اسلام سے آشنا کر دے”۔ نیوزی لینڈ کے رد عمل کے بعد یہ بات سمجھنا نسبتا آسان محسوس ہوتی ہے۔

لیکن انسانیت کے نام پہ ہمارا احساس کب جاگے گا؟ ہم دین پسند لوگ دوسرے لوگوں کے لیے ایسے کب سوچیں گے؟ میرا وزیراعظم کب سانحہ ساہیوال کے مظلوموں کو انصاف دلائے گا؟ ڈیڑھ ماہ ہوئے ایک گھرانہ اجڑ گیا۔ لیکن ابھی تک کیس کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچا۔ تئیس مارچ کے روز گوجرانوالہ میں ایک سکول کی دیوار گرنے سے پانچ بچے جان بحق ہو گئے۔ ان کے والدین کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟ بہاولپور میں ایک “جج” طالبعلم نے توہین مذہب کی سزا کے طور پہ پروفیسر خالد حمید کو قتل کر دیا۔ پروفیسر کااصل  قاتل کون ہے؟ اور ان کا گھرانہ کس سے انصاف مانگے؟ اسلامی ریاست میں خون بہایا جاتا ہے اور اس کا جواز مہیا کیا جاتا ہے کہیں حادثے کو رب کی رضا بتایا جاتا ہے تو کہیں توہین مذہب کا جرم سر تھوپا جاتا ہے۔ اس سب کے باجود ہماری ہیرو تو ایک لادین قوم کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ہے لیکن ہم اس معاشرے میں خوش ہیں جہاں قاتل بارے کوئی ڈنکے کی چوٹ پہ  یہ نہ کہے “ اس نے شہرت کے لیے ایسا کیا لیکن میں اس کا نام نہیں لوں گی، وہ ایک دہشت گرد ہے، ایک مجرم ہے اور ایک انتہا پسند ہے”۔ سلام- امن، سب انسانوں کے لیے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *