میرا خیال،میری تخلیق،مگر میں مسیحا نہیں ۔۔خالد حسین مرزا

اپنی سوچ کو محدود نہ رکھ!
لیکن ،کل تک تو تُو ہی کہہ  رہا تھا کہ ایک انسان کی سوچ محدود ہے۔۔

ہاں، ضرور کہا تھا، لیکن ایک بات بتاؤں، بات مطلب سمجھنے کی ہے، اب جہاں ہمت کی ضرورت ہے وہاں یہ سوچ لینا کہ میں محدود ہوں تو رُک جانا ہی بہتر ہے۔ شاید اس عمل اور فیصلے سے ایسا ہو کہ جب بہتری کی ضرورت ہو  تب تم تیار ہی نہ ہو۔
اب ہماری زندگی میں خواہشات، ضروریات، رسومات اور اخراجات سب کچھ ہے، کسی نہ کسی طریقے سے پورے تو کرنے  ہی ہیں ، اب زندگی کا پہیہ اِک مناسب طریقے سے رواں رکھنے کے لیے آگے بڑھنا ضروری ہے ،وہ کیسے، اس لیئے اُتنا اچھا بنو یا اُتنی قربانیاں دو جتنا آپکو خود آپکی جان اِجازت دیتی ہے۔

اب دیکھ لے خود ہی یہ ہے تیری دماغی حالت، ایک  تحریر تک  صحیح ترتیب سے نہیں لکھی  جا رہی،
یہ مسئلہ شاید ہمیشہ سے رہا ہے، آدھی بات کہہ  دیتا ہوں اور بہت  وثوق سے کہہ دیتا ہوں مگر درمیان میں آ کر یوں سب کچھ بھُولتا ہوں کہ یاد ہی نہیں رہتا   اب کس سمت بات کو موڑنا ہے۔ اور پچھلے والا سبق کِس کو پڑھا رہا تھا، وہ بھی نہیں  یاد رہتا ،  ایک نظریے پر آ کر ایسا رُکتا ہوں کہ  خود نہیں  معلوم  ہوتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔
ہو نہ ہو وہ دور کوئی
ہم مسیحا نہیں بنے گے

میری باتیں تماشائی باتیں نہیں جو لکھتا رہوں اور ہنساتا رہوں، سچ لکھوں گا برداشت کی طاقت ہوئی تو پڑھ لینا۔ ہائے آج غصہ چلتا رہا دماغ میں، یہ بھی کیا کمال ہے، ویسے ایک بات بتاؤں ہر فن تیار کرنے کا ایک اپنا ہی مزہ ہے۔ کبھی تیز گام میں گاڑی دوڑاتے جانا اور کبھی سنبھل سنبھل کے چلنا، (احتیاط برتتے ہوئے) کہ  کہیں غلط بولوں تو نقصان نہ کر بیٹھوں، اب غصہ جن باتوں کا آرہا ہے وہ یہ ہی سچ ہے کہ اس بات پر آتا ہے

ہم وہی ہیں اُجڑے لباس میں نکھرے ہوئے
کسی سجاوٹ کو تلاش ہماری توچُرا رنگ

کیسے آہستہ آہستہ راستے ملتے ہوئے سمجھ میں آنے لگتے ہیں ناں! لیکن تب اتنا وقت سب کے پاس نہیں ہوتا کہ  اپنی پکڑی ہوئی سڑک کو چھوڑے اور وہ اسباق تیار کرنا شروع کر دے جو آپ اپنی زندگی میں سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہو اور جب سمجھ میں آنا شروع ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ تو سمجھنے بہت ہی آسان تھے بس میں ہی اُلجھتا رہا، کبھی ادھر کو بھٹکتا رہا اور کبھی اُدھر کو اور کس بات کا کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ،یہ معلوم نہیں۔

خوش ہو کر جو بیان کر دو وہ تخلیق ہے۔ اب چارہ سازی کے لیے جو بیان کیا جائے وہ کیا ہو گا؟ جو خود کے دفاع کے لیے کوئی  بیان   کر رہا ہو گا وہ کیا ہو گا؟ اور اگر کوئی اپنی زبوں حالت بیان کرنا چاہ رہا ہوگا تو وہ کیا ہو گا! تخلیق تو کچھ بھی ہو سکتی ہے، اب اُس میں نکھار کیسے لایا جا سکتا ہے اور اُسے سبق آمیز کیسے بنایا جا سکتا ہے اور اُس خیال کا اظہار کیسے کیا جا سکتا ہے جو تخلیق سازی کی وجہ بنی اور اب اِس میں یہ بھی ضروری ہے کہ  ہر بات کو گھسیٹ گھسیٹ کر نہیں ڈالنا ،اِس سوچ کے ساتھ کہ  خیال وسعت پا جائے گا، اب بات کسی نہ کسی طریقے سے کہہ  دی ناں! یقین رکھو بات بن ہی جائے گی، مگر اتنا حوصلہ خود میں بھی ہونا ضروری ہے کہ جو اغلاط سُدھارنے کی گنجائش ہے، وہ مان لینا ہی بہتر ہے کہ ہم سے ہوئی ،ایسے ہی ِبلا وجہ کی  منطق بناکر خود کو دلیل دینا ہمیں مزید پریشان کرے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *