فٹبال کی ٹیم اور تھائی لینڈ کا غار۔۔۔وہارا امباکر

“جب ہم مل جائیں تو پہاڑ ہلا سکتے ہیں”

میچ کھیل کر ٹیم نے واپسی پر غار کی سیر کا پروگرام بنایا۔ سائیکل باہر کھڑے کئے۔ بارہ کھلاڑی اپنے کوچ سمیت تھام لوانگ کے غار کے اندر چل دئے۔ یہ چھ میل لمبا بل کھاتے غاروں کا سلسلہ ہے جو قدیم چونے کے پتھر کے پہاڑوں میں ہے۔ یہ علاقہ تھائی لینڈ، میانمار اور لاوس کی سرحد پر ہے۔ اس غار میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے۔ اس ٹیم نے غار میں ایک گھنٹہ گزارنے کا پروگرام بنایا تھا۔ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ان کی زندگی کا طویل ترین گھنٹہ ہو گا۔

مون سون کی موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ غار کے اندر لڑکے اس سے بے خبر تھے۔ غار میں پانی بھر رہا تھا۔ جب تک لڑکوں کو اندازہ ہوا، دیر ہو چکی تھی۔ غار میں پانی بھر آیا تھا، باہر نکلنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ انہوں نے غار میں ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی۔ (غار کی ڈایاگرام سے اندازہ لگایا جا ستا ہے)۔ یہ اب غار کے دہانے سے چار کلومیٹر آگے آ چکے تھے۔

والدین کو فکر ہونا شروع ہوئی۔ کوئی لڑکا واپس نہیں لوٹا تھا۔ خبر مل گئی کہ ٹیم نے تھام لوانگ کے غار پر جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ والدین وہاں پہنچے۔ تیرہ سائیکلیں باہر کھڑی تھیں۔ والدین باہر کھڑے پانی اترنے کا انتظار کرنے لگے۔ خبر پھیل چکی تھی اور خبر اچھی نہیں تھی۔

رات ڈھل رہی تھی۔ لڑکوں کو ابھی تک بڑی فکر یہ تھی کہ گھر پہنچ کر ڈانٹ پڑے گی۔

دوسرے دن کی صبح تک چیانگ رائے صوبے کے گورنر تک بات پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے ذرا بھی وقت ضائع نہیں کیا اور تھائی لینڈ کی فوج کو طلب کر لیا۔ لڑکوں کو زندہ غار سے نکالنے کا مشن شروع ہو گیا۔

پمپ لگائے گئے۔ پانی کو موٹروں کے ذریعے نکالنا شروع کیا گیا۔ نائلون کے نیلے پائپ آئے، جنریٹر منگوائے گئے۔ موٹروں نے پانی کھینچنا شروع کر دیا کہ راستہ صاف ہو جائے۔ پانی کم نہیں ہو رہا تھا۔ نیوی کے غوطہ پہنچ چکے تھے۔ چھ چھ کے گروپس میں باری باری انہوں نے گمشدہ لڑکوں کو ڈھونڈنے کے لئے اندر جانا شروع کیا۔ پانی کی لہروں کا زور انہیں زیادہ آگے نہیں جانے دے رہا تھا۔ پانی کے بہاوٗ کو روکنے کی ضرورت تھی کہ غوطہ خور اپنا کام کر سکیں۔

غار کے اندر لڑکوں کے پاس وہ پانی ختم ہو چکا تھا جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے۔ پیاسے لڑکے وہ گدلا پانی نہیں پی سکتے تھے جس نے انہیں قید کر دیا تھا۔ غار کی چھت سے ٹپکنے والا اور دیواروں پر موجود پانی پینا شروع کر دیا۔ ہہ پانی پینے کے لئے صاف تھا۔ بھوک سے بچنے کو ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ کوچ خود بدھ راہب رہ چکے تھے اور انہیں دیر تک بغیر کھائے پئے رہنے کی عادت تھی۔ اس مشکل گھڑی میں لڑکوں کا حوصلہ کیسے مجتمع رکھا جائے؟ اس کا بیڑا کوچ نے اٹھایا۔ اپنی مراقبے کی ٹریننگ کے عملی استعمال کے ذریعے۔

یہ اب عالمی خبر بن چکی تھی۔ دنیا بھر کے نیوز چینل پر اب یہی خبر تھی۔ مختلف ممالک سے ڈیڑھ ہزار جرنلسٹ اس کو کور کرنے کے لئے اس علاقے میں پہنچ رہے تھے۔

مدد کے لئے عالمی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئیں۔ امریکہ کی فوج، سائنسدان اور انجنیرز پر مشتمل تیس افراد کا دستہ پہلے پہنچا۔ پھر آسٹریلیا، چین، انڈیا، بلجیم، نیدرلینڈ، روس، برطانیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، جاپان، لاوس، روس، چیک ری پبلک، کینیڈا نے اپنے ماہرین اس مشن پر بھجوائے۔ جرمنی، میانمار، فلپائن، سنگاپور، سپین، سویڈن اور یوکرائن سے رضاکار پہنچے۔ ٹیسلا اور سپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے انجینرز کو بچوں کے سائز کی آبدوز ڈیزائن کرنے کا مشن سونپا (تھائی اتھارٹیز نے اس کو ناقابلِ عمل قرار دیا)۔

غار کے باہر خیموں کا شہر بس گیا۔ والدین مستقل طور پر یہاں پر ہی تھے۔ بدھ راہب روز دعا کرنے اور والدین کو حوصلہ دینے آتے۔ ریسکیو کرنے والوں کے لئے کھانا فراہم کرنے والے آتے۔ ایک قریبی مساج کے سکول کے طلباء نے یہاں پر تھکے ہارے لوگوں کی مفت مالش کرنے آتے۔ جس کے بس میں جو تھا، وہ کر رہا تھا۔

جیولوجسٹ برقی ریززٹیویٹی کی تکنیک استعمال کر کے تھری ڈی نقشہ بنا رہے تھے۔ کارٹوگرافر اس ڈیٹا کی مدد سے سنک ہول تلاش کر رہے تھے۔ اس سے پتا لگا کہ اتنے ملین لٹر گیلن باہر نکالنے کے بعد بھی پانی کم کیوں نہیں ہو رہا تھا۔ پانی کے اندر داخلے کے بھی راستے موجود تھے۔ جن ندیوں سے یہ پانی آ رہا تھا، ان کا رخ موڑا گیا۔ یہ رخ قریبی چاول کے کھیتوں کی طرف کر دیا گیا۔ یہاں کے کسانوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ اس کی وجہ سے ان کی چاولوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ فرانس کی ٹیم نے 1987 میں یہاں کا سروے کیا تھا۔ غاروں کی بھول بھلیوں کا یہ نقشہ مل جانے کے بعد ریسکیو کرنے والوں کی کوششوں میں مدد ہوئی۔ پانی کا آنا رک گیا تھا اور سطح میں اتنی کمی ہو گئی تھی کہ غوطہ خور دور تک جا سکتے تھے۔

غار تک کسی اور راستے پہنچنے کا امکان ڈھونڈنے کے لئے پہاڑوں پر چڑھنے کے ماہرین اپنا کام کر رہے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

دسویں روز رات کو دو برطانوی غوطہ خور اپنی لائن کے آخر پر تھے جب جیسن سٹینٹن نے ان لڑکوں کا پتا لگا لیا۔ غار کے دہانے سے دور، گھپ اندھیرے میں پتھریلی جگہ پر بیٹھے ہوئے لڑکوں کو انہوں نے دیکھ لیا۔ غوطہ خوروں نے ان کو تسلی دی اور روشنی کے لئے اپنی لائٹ۔ کچھ دیر وقت گزار کر اور ان کو تسلی دے کر وہ واپس چلے گئے۔ کچھ ہی دیر میں لڑکوں کے پاس کئی روز کے بعد اپنی پہلی خوراک پہنچ چکی تھی جو ہائی پروٹین مائع کی شکل میں تھی۔ ادویات، کمبل اور روشنی ان تک پہنچا دئے گئے۔

گیارہویں روز کی ہیڈلائنز لڑکوں کے مل جانے کی اچھی خبر سے بھری ہوئی تھیں۔

لڑکوں نے اپنے والدین کو خط لکھ کر بھیجے۔ کوچ نے خط لکھ کر سب سے معافی طلب کی کہ وہ انہوں نے لڑکوں کو خطرے میں جانے سے منع نہیں کیا اور وعدہ کیا کہ جتنا ممکن ہوا، ان کی حفاظت کریں گے۔

بارہویں روز ایک ڈاکٹر ان لڑکوں کے پاس پہنچ گیا۔ غار کے منہ سے یہاں تک پہنچتے وقت چھ گھنٹے لگتے تھے۔ ڈاکٹر پاک نے اس کے بعد اپنا وقت ان کے ساتھ ہی گزارا۔

باہر بارش جاری تھی اور مستقبل کے بارے میں بھی اچھی پیشگوئی نہیں تھی۔ کروڑوں گیلن پانی نکالا جا چکا تھا لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔ کیا کیا جائے؟ ایک پلان یہ بنا کہ مون سون ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔ لڑکوں تک ٹیلی فون کی تاریں پہنچا دی جائیں تا کہ ان کی اذیت کچھ کم ہو سکے۔ لیکن پھر یہ آپشن بھی ختم ہو گئی۔ یہاں پر ڈائیور جو ٹیسٹ کر رہے تھے، ان سے پتا لگا کہ آکسیجن کی سطح گر رہی تھی۔ اب یہ پندرہ فیصد تک آ گئی تھی۔ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ریسکیو کرنے والے کئی طرح کے پلانز پر کام کر رہے تھے۔ لڑکوں کو تیرنا نہں آتا تھا۔ کیا ان کو تیرنا سکھا کر باہر نکالا جا سکتا تھا؟ اس کے لئے اتنی عمر کے لڑکوں کو تیراکی سکھانے کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ آکسیجن کی پائپ بچھا کر یہاں پر بنانے کا پلان بھی کیا جا رہا تھا۔ اس راستے پر رسی باندھی جا چکی تھی تا کہ غوطہ خور آسانی سے لڑکوں تک پہنچ سکیں۔ باہر نکلنے کے لئے لڑکوں کو کئی جگہ پر تنگ جگہ سے اور پانی کے نیچے سے نکلنا تھا۔ اتنی تنگ جگہوں سے جہاں پر ایک وقت میں ایک ہی شخص گزر سکا تھا۔

غار میں کوچ لڑکوں کو مثبت ذہن میں رکھنے کی مشقیں کروا رہے تھے۔ ابتدا میں ان پر تنقید ہوئی تھی کہ انہوں نے ٹیم کو غار میں کیوں جانے دیا لیکن اس کے بعد ادا کئے گئے کردار پر ان کو ہر طرف سے سراہا جا رہا تھا۔ والدین کو بھروسا تھا کہ وہ ان کے بچوں کا خیال رکھیں گے۔ تمام والدین نے مل کر ان کو شکریے کا خط لکھ کر بھیجا اور ساتھ اپنے بچوں کو کہ “گھبرائیں مت، وہ محفوظ رہیں گے اور ہاں، ان کو دیر سے لوٹنے پر ڈانٹ بھی نہیں پڑے گی۔”

تیرہویں روز اس مشن میں پہلے شخص کا انتقال ہوا۔ یہ تھائی لینڈ کی نیوی کے سابق افسر سامارن کونان تھے جو آکسیجن کے سلنڈر پانی میں راستے میں رکھتے وقت آکسیجن کی کمی کا شکار ہو گئے۔ اس مشن کی پہلی موت نے دنیا بھر میں خبروں سے جڑے ناظرین کو سوگوار کر دیا۔

ایک اور طریقے سے کوشش کی جا رہی تھی جو پہاڑ کے اوپر سے ڈرل کر کے لڑکوں تک پہنچنے کی کوشش تھی۔ چار سو جگہوں سے ڈرل کی گئی جن میں سے کچھ ایک ہزار فٹ تک گہرے تھے۔ پہاڑ کی ساخت کی وجہ سے اس میں کامیابی نہیں ہو پا رہی تھی۔ پندرہویں روز ڈرلنگ میں ایک حادثہ ہو جانے کی وجہ سے چھ لوگ زخمی ہو گئے۔ ڈرلنگ روک دی گئی۔

ریسکیو کے لئے ایک اور پلان تیار ہو چکا تھا اور فیصلہ لیا گیا کہ لڑکوں کو غوطہ خور باہر نکالیں گے۔ اس دوران ان کو دوا دے کر غنودگی کی حالت میں لے جایا جائے گا اور غوطہ خور ان کو ایک ایک کر کے اٹھا کر باہر لے کر آئیں گے۔ یہ خطرناک تھا لیکن اس کی تیاری کر لی گئی تھی۔ ان کو ان حالات میں کس طرح یہ دوائی دی جائے؟ یہ میڈیکل سائنس کا مشکل سوال تھا۔ لڑکے کمزور ہو چکے تھے اور غار مٰں رہنے سے ان کی میڈیکل حالت کو چیک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بے ہوش کرنے کے سپیشلسٹ ڈاکٹر رچرڈ ہیرس کو اندر لے جایا جانا تھا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ خوفزدہ تھے کہ اس سے کچھ اور نہ ہو جائے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے کچھ ہو جانے کی صورت میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا قانون پاس کرنے کا غیرمعمولی قدم لیا تھا۔ یہ اس لئے کیا جانا ضروری تھا کہ پانی کے نیچے لڑکے کہیں دہشت زدہ نہ ہو جائیں۔

ہر لڑکے کو باہر لے جانے کے لئے تین غوطہ خوروں نے ان کو اٹھا کر لے جانا تھا۔ راستے میں دوسرے غوطہ خور مختلف مقامات پر کھڑے تھے۔ دنیا بھر سے ماہر غوطہ خور اس آپریشن کا حصہ تھے۔

سولہویں دن گورنر نے ریسکیو کرنے کے لئے اس خطرناک پلان سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ خود کامیابی کے بارے میں شکوک کا شکار تھے۔

تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے پانچ اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تیرہ غوطہ خور اس آپریشن کے کئی روز سے تیاری کر رہے تھے۔ آج فیصلہ کن دن تھا۔ ریسکیو مشن شروع ہو گیا۔ اندر لڑکوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے کون جائے گا۔ انہوں نے طے کیا کہ جس کا گھر سب سے دور ہو گا، وہ سب سے پہلے نکلے گا۔

ان کو ایک ایک کر کے انجیکشن لگا کر غنودگی کی حالت میں لے جایا گیا۔ ہاتھ پاوں باندھے گئے۔ غوطہ خوری کا سامان پہنایا گیا۔ ان کو اپنا ڈرامائی سفر یاد نہیں ہو گا۔ غوطہ خور ان کو کھینچ کر نکالنے لگے۔ ایک غوطہ خور نے ان کی گردن کے قریب لگے آکسیجن سلنڈر کو سنبھالا۔ غار کے منہ سے چار سو میٹر اندر ریسکیو سٹیشن بنایا گیا تھا۔ لڑکوں کو یہاں تک لاتے لاتے چار گھنٹے لگے۔ پہلے روز چار لڑکوں کو یہاں تک لایا گیا۔

جب گورنر نے ریسکیو کی کامیابی کا اعلان کیا، ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ غار کے سامنے بسی بستی میں ہر کوئی نعرے لگا رہا تھا۔ دنیا بھر میں یہ خبر پھیل گئی۔ لڑکوں کو ہیلی کاپٹر میں ہسپتال لے جایا گیا۔ ہسپتال میں ایک پورا فلور ان کے لئے خالی کیا گیا تھا۔ کسی کو قریب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ دفاعی نظام کمزور ہو جانے کے سبب ان کو کوئی بیماری ہو سکتی تھی۔ چمگادڑ اور دوسرے جانداوں کے فضلے کی وجہ سے غار کا اپنا ماحول سازگار نہیں تھا۔ ان کو کیورز کی بیماری ہو سکتی تھی۔ سردی اور نمی میں دیر تک رہنے کی وجہ سے ہائیپوتھرمیا ہو سکتا تھا۔

چار لڑکوں کو سترہویں روز نکالا گیا۔ باقی لڑکوں اور کوچ کو آخری دن۔ اس کے بعد ڈاکٹر اور بحریہ کے تین غوطہ خور تھام لوانگ سے نکلنے والے آخری افراد تھے۔

ہسپتال میں لڑکوں نے اس آپریشن کے دوران انتقال کر جانے والے ڈائیور سامارن کونان کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے خاندان سے اظہارِ افسوس کیا کہ ان کو یہ دکھ اٹھانا پڑا۔

سامارن کونان کی بیوہ کا کہنا تھا، “مجھے ساماران کی موت کا دکھ ہے لیکن اس پر فخر ہے۔ ہم سب نے ہی اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ دوسروں کی زندگی کی خاطر اپنی جان قربان کر دینے سے بہتر یہاں سے جانے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ ساماران میرے دل کا ہیرو ہے۔ ہم سب کا ہیرو ہے۔”

دنیا بھر سے اس مشن میں آنے والے واپس چلے گئے۔ اس میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ سو غوطہ خوروں نے، ریسکیو ورکرز نے، حکومت کی سو ایجنسیز نے، نو سو پولیس افسروں نے، دو ہزار فوجیوں نے۔ انجینیرز نے، سائنسدانوں نے۔ اس میں سات سو آکسیجن سلینڈر استعمال ہوئے، دس ہیلی کاپٹر، ایک ارب لٹر پانی نکالا گیا۔

اس سے پہلے بھی اس طرح کے ڈرامائی ریسکیو ہو چکے ہیں۔ 2010 میں چلی میں کان کنی کے دوران پھنس جانے والے 33 کان کنوں کو 69 روز بعد نکالا گیا تھا جب پہاڑ میں سوراخ کر کے راستہ بنایا گیا تھا۔ پیرو میں نو کان کنوں کو اڑھائی سو میٹر مٹی اور پتھر ہٹا کر 2012 میں بچایا گیا تھا۔ فرانس میں 1999میں دس روز تک سیلاب کی وجہ سے پھنسے گروپ کو ڈرلنگ کے ذریعے۔

ایک مہینے میں لڑکے مکمل طور پر صحتیات ہو گئے اور واپس فٹبال کے میدان میں تھے۔ اس سرحدی علاقے میں ہونے والے پرانے تنازعے کے نتیجے میں ان میں سے تین لڑکے بغیر ریاست کے تھے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے ان کو شہریت دے دی۔ یہ پرانا تنازعہ بھی اس کے بعد جلد حل کر لیا گیا۔ اس مشن میں شرکت کرنے والوں کو اپنے اپنے ملک میں اعزازات سے نوازا گیا۔

ہم ایک دوسرے سے جنگیں کرتے ہیں، مار دھاڑ اور قتل و غارت کرتے ہیں۔ اپنے سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب کبھی کسی مشترک مقصد کے لئے اکٹھے ہو جائیں تو مل کر ہر ناممکن کر گزرتے ہیں۔ پہاڑ ہلا دیتے ہیں۔ ان کے چنگل سے لوگوں کو چھڑا لیتے ہیں۔ دوسروں کے لئے کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں، خواہ ہم ان کو جانتے تک نہ ہوں۔ اس کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ تھائی لینڈ کے گراونڈ میں کھیلتی “وائلڈ بور” ٹیم اس کا ثبوت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *