پوسٹ چور۔۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

جس طرح ایک بات عام بندہ کرے کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ اُسی کی بات چوری کرکے  جب کوئی مشہور  موٹیوشنل سپیکر عوام کو بتائے  تو عوام واہ واہ بھی کرتی ہے،آنسو بھی بہاتی ہے اور ساتھ پیسے تو لازمی دیتی ہے۔
اسی طرح جب فیسبک پر میں کوئی بات کرتا ہوں تو کوئی لائیک نہیں کرتا بشمول پورے نامعقول دوستوں کے ۔ جب میری وہی بات کوئی صنفِ نازک  اپنی وال پر کاپی کرکے  لگاتی ہے تو لوگ اس عظیم ذہن اور اُس ذہنی اختراع پر واہ واہ کمال تو کہتے ہی ہیں، ساتھ اُن ہاتھوں کو چومنے تک بھی جاتے ہیں۔ لائیک کے ساتھ ساتھ اپنا دل بھی دینے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ جس کے ثبوت گاہے بگائے میں اپنے دوستوں کو بھی دکھاتا رہا ہوں۔ اور وہ میری اس بات پر سچائی کی مہر ثبت کریں گے۔ ایک محترمہ تھیں  یا شاید محترم تھے اللہ ہی جانے۔ کوئی تقریباً سال  بھر قبل مجھے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی۔ میں نے سوچا میری اتنی قسمت کہا ں کوئی محترمہ مجھے فرینڈ ریکویسٹ بھیجے ۔ میں تو وہ ہوں جس کو کلاس میں کبھی کسی مخالف صنف نے اپنی اسائمنٹ بنوانے، نوٹس بورڈ سے رول نمبر دیکھنے یا پھر دوائی کھانے کے لیے پانی منگوانے تک جیسے   کام کے لیے بھی   منتخب نہیں کیا۔
پھر دیکھا تو وہاں کافی دانشور  بھی ایڈ تھے اور محترمہ کی اچھی خاصی کوئی پندرہ ہزار سے زیادہ فین فالونگ بھی تھی۔ میں  نے سوچا محترمہ شاید مجھے بھی کوئی چھوٹاموٹا ہی سہی دانشور سمجھ بیٹھی ہیں۔ میں نے  فوراً ایڈ کرلیا۔ پھر دیکھا جو دانشور ہماری پوسٹوں سے ایسے دامن بچا کر نکلتے جیسے  کسی بدنام زمانہ حسینہ کی گلی  سے شیخ دامن بچا کر چلتے ہیں۔ لیکن سبھی دانشور  اُن محترمہ کی وال پر ہماری پوسٹیں ہمارے ون لائنر جو وہاں اُن کے نام سے موجود ہوتی تھیں ،وہاں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ کچھ صنف نازک کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے مل جاتے تو کوئی گرائمر پڑھاتے اور بہت سے تعریف کے ڈونگڑے برساتے  پائے جاتے۔ جس کو اور کوئی سمجھ نہیں آتی تھی وہ پولی پولی ڈھولکی بجانے پر ہی اکتفا کرتا تھا۔ لیکن سب وہاں حاضری لگوانا لازمی سمجھتے تھے۔اِن گستاخ آنکھوں نے وہاں ملک کے بڑے بڑے دانشوروں سے بڑے موٹویشنل سپیکر تک سبھی اُس درگاہ پر آتے جاتے دیکھے۔ اور ہماری وہ پوسٹیں جن پر ہمارے  یار ناہنجار دس لائیک بھی نہیں دیتے تھے۔ وہاں انہی پوسٹوں پر دو، تین سو لائیک تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ لیکن ہم نے بھی کبھی آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی کسی طرح کا احتجاج کیا۔ خوشی تھی چلو کسی طرح ہمارا لکھا زمانے تک تو پہنچ رہا تھا۔ بس دکھ تھا  تو یہی کہ ہمارا لکھا کہیں  اِن ٹھرکیوں کے بیچ ہی نہ رہ جائے۔ اب کچھ دنوں سے ان محترمہ کو اپنی کوئی پوسٹ چوری کرتے نہیں دیکھا تو دکھ ہوا کہیں ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں جو آپ سوچ رہے وہ بالکل نہیں۔ بلکہ ڈر تھا کہیں  وہ کوئی پا غفور یا بشیر نہ نکل آیا ہو۔ سہمے سہمے بجھے بجھے دل کے ساتھ آئی ڈی کھولی تو دیکھا وہ دوشیزہ ہمیں اب ان فرینڈ فرما چکی ہیں۔ بس یہی انہی اشعار کے ساتھ اختتام کرتا ہوں۔

نجانے وہ اب کیسی ہو گی
نہ جانے اب کس کی پوسٹیں چوری کرتی ہو گی
نہ جانے اب اچھی پوسٹیں کہاں سے ڈھونڈتی ہو گی
لگتا ہے اب بھی پکڑی نہیں جاتی ہو گی
لیکن ہر کوئی مجھ جیسا شریف بھی تو نہیں ہوتا!

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *