چربی گھٹائیے۔ذیابیطس بھگائیے – سلیمان جاوید

ذیابیطس جسے عرف عام میں شوگر کہا جاتا ہے ایک عام بیماری ہے جو ہمارے معاشرے میں زیادہ عمر کے افراد کو ہوجاتی ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ابھی تک اس بیماری کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔اس بیماری کی اہم ترین وجہ ہمارے جسم میں ایک ہارمون انسولین ہے۔انسولین وہ ہارمون ہے جو خلیوں میں شکر کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے۔اگر انسولین کی پیداوار میں کمی ہوجائے تو خلئے شکر کی مقدار کو برقرار نہیں رکھ پاتے جس کی وجہ سے شکر خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور انسان کو شوگر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ قدرت نے انسولین کی تیاری کی ذمہ داری لبلبے کو سونپی ہے جو ضرورت کے مطابق انسولین تیار کرکے خون میں شامل کرتا رہتا ہے۔اگر لبلبے میں کوئی خرابی ہو جائے تو انسولین کی تیاری متاثر ہوتی ہے اور شوگر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔

سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ وہ ذیابیطس کی وجوہات کو جانیں تاکہ اس مرض سے بنی نوع انسان کی جان چھڑائی جاسکے۔اس سلسلے میں کچھ معلومات ایک تحقیق سے ملی ہیں جس کے مطابق اگر لبلبے میں چربی کی مقدار صرف ایک گرام کم ہو جائے تو ٹائپ 2 ذیابیطس کی علامات ختم ہو جائیں۔جامعہ نیو کیسل کی ایک ٹیم نے 18 ایسے مریضوں کی جانچ کی جو حال ہی میں گیسٹرک بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرے تھے۔حیرت انگیز طور ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح کم ہوگئی۔ رائے ٹیلر (تحقیقی ٹیم کے سربراہ) کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چربی کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے انسولین کو لبلبے سے نکلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔اگر یہ رکاوٹ دور ہوجائے تو ضرورت کے مطابق انسولین خلیوں میں پہنچ سکتی ہے۔

اس سے پہلے بھی یہ بات طے تھی کہ اگر آپ شوگر کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو موٹاپے سے دور رہیں لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ کون سی چربی ذیابیطس کو دعوت دیتی ہے۔اس تحقیق کی روشنی میں بظاہر تو ایک گرام مقدار کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتی لیکن یہ معلوم ہونا ابھی باقی ہے کہ کس طریقے سے لبلبے میں سے چربی کم کی جاسکتی ہے۔

بشکریہ جستجو

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *