موجودہ پاکستان

یہ ملک مذہب کی حفاظت اور ترویج کے نام پر وجود میں آیا۔ جہاں پر ہم نے امن کے ساتھ رہنا تھا اور اقلیتوں کو تحفظ دینا تھا۔ ہم اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام نہیں بلکہ بہت ہی بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ ہم مسلمان کسی اقلیت کو تحفظ کیا خاک دیں گے، ہم تو اپنے ہی مذہب کے نام لیواؤں کے دشمن بن بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی مکتبہ فکر اپنے خلاف ذرہ برابر بھی بات سننے کا متحمل نہیں۔ بے شک آپ مخالف مکتبہ فکر کے حق میں بات کر رہے ہوں لیکن وہ آپ کو اپنا ازلی و ابدی دشمن ہی سمجھیں گے اور آپ کی سچ بات کو صرف اختلاف کی بنا پر رد کر دیں گے۔ اس رویے کی عکاسی کرنے والی کئی ایسی جماعتیں وجود میں آنے کے بعد اس قدر مضبوط ہو چکی ہیں کہ صرف ایک فتویٰ صادر فرماتی ہیں تو لوگوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی نے ملک کے اندر اس قدر خوف کی فضا پیدا کر دی ہوئی ہے کہ لوگوں کا جم غفیر اپنی زبانوں پر تالے لگائے بیٹھا ہے۔ کیوں کے چپ لوگ جانتے ہیں کہ یہ مخلوق ان کی بات کو برداشت نہیں کر سکے گی، اور نتیجے میں یہ لوگ جان لے لیں گے۔
لیکن اگر کوئی شخص بڑے دل گردے سے اسلام کے اندر نئی پیدا کی ہوئی چیزوں کی نشاندہی کرنے کی ٹھان لیتا ہے اور اپنی بات کو دین نہیں بلکہ رائے کے طور پر پیش کرتا ہے تو خدا کی پناہ۔ پہلے تو لوگ ایسے شخص کی جان لینے کو فرض عین سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ ٹیبل ٹاک کی بات کرے وہ بھی رد کر دی جاتی ہے۔ باوجود اس کے اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو اس کا اس ملک کے اندر رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر اسے اپنی قائم کردہ رائے کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے باہر ہی رہ کر خدا کی عطا کردہ زندگی کے دن پورے کرے گا۔ ورنہ پہلے قتل کئے ہوئے مظلوموں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ اگر کوئی شخص انجانے میں پاکستان کے ساتھ مخلص ہو کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو متعارف کرواتا ہے تو کچھ گروہ”غدار” کا عظیم لفظ اس کے ساتھ منسوب کر دینے پر تل جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے نام لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ زندہ لوگ جنہوں نے اپنے تئیں اس ارض پاک کا نام دنیا میں اپنے اپنے شعبوں میں متعارف کروایا اور ہم نے ان کو کیا صلہ دیا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔
ابھی کچھ عشروں پہلے اسلام کے نام پر جتھے بنائے گئے۔ نوجوانوں کو کہا گیا کہ اسلحہ مومن کا زیور ہے۔ خوبصورت نوجوانوں کو زیور سے سجایا گیا کہ وہ اسلام کا بول بالا کریں اور ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بھی روکیں۔ انہی نوجوانوں نے کچھ دہائیوں بعد مسجدوں اور عوامی جگہوں پر بم تحفے کے طور پر دئیے، جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں ہمارے شہریوں اور بچوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ان شہریوں اور بچوں کا قصور کیا تھا؟ انہوں نے اسلام اور ملک کا کیا بگاڑا تھا؟؟ جنہوں نے اسلام کا بول بالا کرنا تھا، انہوں نے ہی اسلام کے ساتھ بہت ظلم کیا۔ اسلام میرے اللہ کا پسندیدہ مذہب انہی لوگوں کی وجہ سے دہشت گردی کے علمبردار کے طور پر جانا جانے لگا۔ حالانکہ میرا مذہب اسلام آج بھی مجھے امن سے رہنے اور اور دوسروں کی جانیں بچانے کا سبق دیتا ہے۔
ہم نے دنیا کو ایک عظیم قوم سے نوازنا تھا۔ جہاں یہ قوم اسلام کا نعرہ لگاتی ہے وہاں اسلام کے نام پر دہشتگردوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ جہاں اقلیتوں کے امن کا نعرہ لگاتی ہے وہاں اقلیتوں کی جان لینا بھی فرض عین سمجھتی ہے۔ جہاں یہ قوم اپنے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے وہاں کالجوں اور یونیورسٹیز میں ہی بچوں سے مزدوری کرواتی ہے۔ جہاں یہ قوم ایک عظیم عسکری طاقت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے وہیں پر عوام بم دھماکے اور دہشتگردی کے مناظر بھی دیکھتی ہے۔ ہم پاکستانی اپنی ہر غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو گردانتے ہیں تو آؤ، حکمتوں اور نامعلوم عناصر کے نام ان سے منسوب کر دیتے ہیں، کیونکہ ہم تو دودھ کے دھلے ہیں۔

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *