وزن کھوتی دنیا۔۔۔۔ضیغم قدیر

ڈاِِئٹنگ کرنا اور سمارٹ نظر آنا ہر نوجوان لڑکی کا شوق ہوتا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح کے جتن  کرتی  ہیں۔کبھی بھوک کاٹنا تو کبھی عرق گلاب یا کوئی اورمشروب پینا، پھر کہیں جا کر وہ تھوڑی سی پتلی ہوتی ہیں۔ لیکن آپ یہ سُن کر حیران ہو جائیں گے کہ زمین کو بھی اس وزن کو کھونے کا شوق ہے ، شائد زمین سمارٹ دکھنا چاہتی ہے اور کسی دوسرے سیارے کو اپنی سمارٹنس دکھا کر متاثر کرنا چاہتی ہے یا پھر اسکے عزائم کچھ اور ہیں، خیر ہم کونسا زمین کی امی جی ہیں جو اس بات پر پریشان ہوں۔ ہمیں تو بس یہ جاننا ہے کہ یہ زمین کس طرح اپنا وزن کھو رہی ہے تاکہ ہماری مستورات بھی وہی طریقہ اپنا کر سمارٹ ہو سکیں۔ لیکن اس راز  کو جاننے سے پہلے ہمیں کچھ بنیادی معلومات جاننا ہوں گی، جیسا کہ زمین ہر سال بہت سا کھاتی بھی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی یہ پتلی ہو رہی ہے۔

زمین کی یہ خوراک خلا سے شہابیوں کی صورت میں آتی ہے اور زمین تقریبأٔ چالیس ہزار ٹن کی خاک ہر سال وصول کرتی ہے ۔ یہ خاک وہ خاک ہے جو نظام شمسی بننے کے بعد خلاء میں رہ گئی بھی اور اب زمین کی کشش ثقل اس کو کھینچ کر زمین کی طرف لاء رہی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم سپیس ڈسٹ سے ہی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے اندر موجود مخلف ذرے کائنات کے مختلف حصوں سے آئے ہیں۔ اور ہمارے وجود کا حصہ بن رہے ہیں۔

اسکے علاوہ ایک اور مزیدار بات یہ ہے کہ زمین ہر سال ایک سو ساٹھ ٹن کا وزن بڑھا رہی ہے،یہ وزن زمین کے درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ ناسا کے سائنسدانوں کے بقول اگر گلوبل درجہءحرارت بڑھے گا تو زمین کا وزن بھی بڑھے گا۔( اگر ہم کسی بھی سسٹم میں انرجی کو شامل کرتے رہیں گے تو اسکا وزن بڑھ جائے گا)

اسکے علاوہ زمین پر نئی تعمیرات ہو رہی ہیں لیکن انکا کوئی اثر نہیں کیونکہ اس عمل میں ہم زمین کے ہی مادے کو زمین پہ ہی لگا رہے ہیں، مطلب کہ اس عمل کے دوران ہم زمین پہ موجود مادے کی فقط شکل ہی بدل رہے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ زمین کس طرح اپنا وزن کم کر رہی ہے، خواتین قارعین کو اب توجہ سے پڑھنا چاہیے کیونکہ انکے مطلب کی بات آنے والی ہے۔ ایک نیوکلیئر ری ایکٹر کو تصور کریں، یہ ری ایکٹر ہر وقت فیول کو کھاتا رہتا ہے۔مطلب کہ یہ اپنا وزن کھوتا رہتا ہے بالکل اسی طرح ہماری زمین ہے، یہ بھی نیوکلیئر ری ایکٹر کی طرح انرجی خارج کرتی رہتی ہے جسکے نتیجے میں یہ اپنا وزن کھو رہی ہے۔ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین مسلسل ورزش کر رہی ہے۔ ہماری مستورات کو بھی زمین کو فالو کرنا چاہیے۔

زمین ہر سال پچانوے ہزار ٹن ہائڈروجن اور سولہ ہزار ٹن ہیلیم کو کھو رہی ہے چونکہ ان گیسز کا وزن انتہائی کم ہوتا  ہے اس لئے زمین کی کشش ثقل کے لئے انکو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اس بات کے رف اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ زمین ہر سال پچاس ہزا ر ٹن وزن کو کھو رہی ہے۔ بالکل اسی طرح ہماری مستورات کو بھی ہلکی پھلکی خوراک کھانی چاہیئے باکہ وہ جسم میں جمع نا ہو سکے۔

تو ایسے میں خیال آتا ہے کہ زمین تو ہر سال اتنا زیادہ وزن کھو رہی ہے توکیا یہ آندھی میں اُڑتے شاپروں کی طرح خلاء میں اُڑ   جائے گی؟ تو اسکا جواب نہیں  میں ہے کیونکہ اگر ایسے ہی زمین ہر سال اتنا وزن کھوتی رہی تو اسکو مکمل گُم ہونے میں اربوں سال لگ جائیں گے۔ کیونکہ زمین کا ماس 5,972,000,000,000,000,000,000 ٹن ہے جبکہ کھویا جانے والا ماس اسکا 0.000000000000001% ہے ۔ سو آپ بے فکر رہیں لیکن اپنی ڈائٹنگ کرتے وقت خیال رکھیئے گا یہ نا ہو کہ آپ اپنا وزن خاطر خواہ کم کر بیٹھیں اور جب آندھی آےَ تو آپ بھی اُسکے سنگ شاپروں کی طرح اُڑ جائیں۔ کیونکہ آپ زمین نہیں بلکہ زمین پر رہنے والے چھوٹے سے انسان ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *