“طھور اولاد” بچوں کے ختنے کی عرب میں قدیم روایت/منصور ندیم

عرب کی یہ قدیم رسم “ختان” جسے اردو میں ہم ختنہ کہتے ہیں، یہ مسلمانوں کی مذہبی رسم کے علاؤہ قدیم دین ابراہیم کا بھی عمل ہے، جسے بچوں کی تطہیر کا عمل سمجھا جاتا ہے، ختنہ کے عمل کو آج سائنسی اور طبی ترقی کے ذریعے ماضی کے ایک مشکل عمل سے تبدیل کیا گیا ہے، ماضی میں کبھی اس میں تیز دھار بلیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ زیادہ تر عوامی اور کھلی جگہ پر انجام دیا جاتا تھا، لیکن آج اسے ہسپتال کے کمرے میں اینستھیزیا کے ذریعے کسی بھی ڈاکٹر کی موجودگی  میں بآسانی سیکنڈ میں کرلیا جاتا ہے۔ لیکن قدیم قبائل میں حتی کہ آج بھی سعودی عرب کے کئی قدیم قبائل جیسے جازان میں یہ عمل آج بھی کئی جگہ پر روایتی طرز پر ہی کیا جاتا ہے، اور یہ پوری ایک ثقافتی روایت کی شکل میں موجود ہے، جازان کے علاقے کے بعض قبائل اسی خاص ورثے سے ہی جڑے ہیں، جسے وہ اپنے بچوں کے ختنے کے موقع پر دہراتے ہیں، جو ان کے قدیم طریقہ ترتیب پر تھا، اس حقیقت کے باوجود کہ دوسرے خطوں کے بہت سے قبائل اب ان روایات کو ترک کر چکے ہیں۔

ان قبائل میں ختنہ کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں طلباء جمع کئے جاتے ہیں، وہاں عموماً ختنہ بارہ سال یا پندرہ سال کی عمر کے بعد ہی کیا جاتا ہے، جس میں اس نوجوان کو نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں، جسے مصحف (ایک قسم کا لباس) اور ایک کھلا لباس (قمیض کی طرح) اور اس کے سر پر مہلب عطر کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ اور پھر وہ لڑکا اس لباس میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو دعوت دینے کے لیے نکلتا ہے۔ ان کی روایت میں یہ ایک فخر ہے کہ وہ لڑکا ختنے کی تکلیف برداشت کرے گا، اور وہ خود اس کے لیے بالکل تیار ہے۔ دعوت دینے کے اگلے دن ختنے کی تقریب کے جشن کا پروگرام دوپہر کے بعد شروع ہوتا ہے، جو ایک وسیع و عریض چوک میں جلوس کی شکل میں ہوتا ہے، جس میں تمام گاؤں یا قبیلہ شرکت کرتا ہے، اور یہ تقریب غروب آفتاب تک جاری رہتی ہے، اور شام کو سمرا جسے عربی میں “ليلة قبل الختان” (ختنہ سے پہلے کی رات) اور الهود (ایک رسم جو ختنہ کے بعد منایا جائے گا، اور وہ جشن تین دن سے لے کر دس سے زیادہ دن تک جاری رہتا ہے) رات کے کھانے کے بعد سے آدھی رات کے بعد تک شروع ہوتا ہے، اس میں زیادہ تر رقص جن میں تلوار رقص، عزاوی رقص، المعشى رقص، اور الزيفة رقص شامل ہوتے ہیں۔

ختنے کے دن کے لیے صبح سویرے، نوجوان تیاری کرتا ہے، اور اس کے والد اسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ ختنے کے وقت لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گا جو اسے دیکھ رہے ہوں گے، اور اس مشکل دن کے لیے اسے اپنے خاندان اور قبیلے کا سر بلند رکھنا ہوگا، خاندان اور قبیلہ اس کے بعد ایک ہلکی دف کے ساتھ مخصوص جگہ پر جمع ہوتا ہے، پھر لڑکے کو ایک چھڑی دی جاتی ہے جسے وہ اپنی گردن کے پیچھے رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ ختنے کے لیے اپنا سر اونچا کرتا ہے ختنہ کا جواب دیتے، جیسے اسے چھری کی دھار سے کوئی خوف نہیں ہے اور وہ اس سے لا تعلقی کا اظہار کر رہا ہے، اور وہ ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ “میں فلاں کا بیٹا ہوں، میرے چچا فلاں ہیں۔ فلاں اور فلاں قبیلے ہوں، بس پھر تیزی سے ختنہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے والد اور چچا اس کے پاس جاتے ہیں، اسے سلام کرتے ہیں، اس کے موقف پر اسے مبارکباد دیتے ہیں، پھر وہ ایک خوشی بھرے جلوس میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں کے پاس سے گزرتا ہے اور “کبۃ العشا” میں اپنے کپڑے بدلتا ہے۔ اپنے گھر پہنچتا ہے، اس کی ماں خوشی سے اس کا استقبال کرتی ہے، جب ختنہ کرنے والا اپنے گھر پہنچتا ہے، تو اس کی والدہ اس کا استقبال کرتی ہیں، اور لڑکے کو رقم دی جاتی ہے۔

ویسے تو اب پرانے طریقے سے ختنہ کی یہ سرگرمیاں عرب خطوں میں تعلیم کے پھیلاؤ اور ہسپتالوں کے وجود میں آنے کے بعد کافی معدوم ہو گئی   ہیں، اس لئے ماضی قریب میں ختنہ کے ساتھ ہونے والی بہت سی رسومات بھی اب غائب ہوچکی ہیں، جب کہ کچھ قبائل میں اب بھی کسی درجہ موجود ہیں۔ جہاں پر ختنہ کے عمل کا آج بھی روایتی طرز پر انعقاد کیا جاتا ہے، نا  صرف سعودی عرب بلکہ تمام ہی عرب میں یہ روایت کہیں نہ کہیں موجود رہی ہے، سنہء 2005 میں مراکش کے ولی عہد مولائے الحسن کے ختنے کے موقع پر شاہانہ تقریبات کا انعقاد دارالحکومت فیز میں ہوا تھا، جس میں ظہر کی نماز کے بعد اسی شہر میں شاہی محل کے گیٹ کے سامنے تحفوں کے ساتھ شاہی فوج نے پریڈ کی تھی، یہ ان کی صدیوں پرانی علوی خاندان سے منسوب رسم ہے، اس میں مرد و زن کا جلوس نکالا گیا تھا, قدیم شہر کے راستے اور گلیاں ہجوم سے بھری ہوئی تھیں، ترانے موسیقی کی تالیں اور مقبول گانے گائے گئے تھے۔ ایک مکمل جشن کا اہتمام ریاستی سطح پر کیا گیا تھا۔ علاوہ ملک الجزائر میں بھی یہ رسم بہت معروف ہے، اور وہاں رمضان کے مہینے میں اپنے بچوں کا ختنہ کروانے کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر مہینے کے وسط کی رات یا ستائیسویں رات یعنی “لیلۃ القدر” کی رات میں، کیونکہ اس مہینے کی مذہبی اہمیت کی وجہ سے یہ روایت ان کے ہاں عام تصور میں اس حد تک ہے کہ اب یہ باقاعدہ طور وہاں کے لوگوں کے لئے یہی مہینہ ختنہ کی رسم کے لئے طے ہوگیا ہے، وہ ماہ مقدس کی آمد کا انتظار کرتے تاکہ اپنے بچوں کا ختنہ کرسکیں، ان کے ہاں ختنہ کے لئے اسی مہینے کو اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ ان کی لوک داستانوں اور سماجی روایت میں یہی ہوتا رہا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

نوٹ: یہ سنہء 1840 میں قاہرہ میں ختنہ کی تقریب ختنہ (طھورالختان) کے لیے ایک جلوس کی پینٹنگ ہے، جو قاہرہ کے البرماويه محلے کے تقریب ہے جس میں لوگ جمع ہیں۔ اس پینٹنگ کو اسکاٹش مہم جو، آرٹسٹ اور مستشرق رابرٹ ہے “Robert Hay” نے بنایا ہے، یہ اس کی کتاب “ڈرائنگ آف قاہرہ، 1840” میں موجود ہے۔ یقینا رابرٹ ہے کے لئے بھی یہ ایک حیرت انگیز روایت رہی ہوگی تب ہی اس نے اس روایات کا منظر اپنی پینٹنگ میں بنایا ہے۔

 

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply