میرا اللہ ،میرا محبوب۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

آج  ہر جانب  جدت کا دور دورہ ہے، اس جدت نے جہاں ایک طرف ہماری زندگی آسان کی ہے تو اسی نے ہمیں بہت سی مشکلات سے بھی دوچار کردیا ہے۔ اسی جدت میں ایک شے کا نام ہے سوشل میڈیا (سماجی رابطے کی ویب سائٹ )۔ آج کے دور میں ان سوشل میڈیا میڈیمز میں فیس بک ہمارے ملک میں زبان زدعام ہو چکی ہے۔ اس فیس بک نے کچھ اور دیا ہو یا نہ دیا ہو ہمارے ملک کو بہت سے دانشور عنائیت کر دیئے ہیں۔ جو نجانے کس کونے کھدرے سے اپنی دانش ورانہ تحریر لکھ لاتے ہیں۔ تحریر پر کسی سے مشورہ کرنے یا مشورہ دینے کی بجائےاس کو سب پر مسلط کرنا بھی اپنی دانشوری کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پہ کسی طرح کی سینسر شپ یا  کوئی روک ٹوک تو ہے نہیں۔ تو ان نام نہاد دانشوروں کے ذہن   میں جو آتا ہے وہ لکھ دیتے ہے۔ میں شائد یہ تحریر نہ لکھتا لیکن ان سوشل میڈیا کے دانشوروں نے آج کل ساری حدیں عبور کر کے بہت ہی حساس موضوع پر لکھ کر سادہ لوح قوم کو ڈرانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ سادہ لوح لوگ تو ایک طرف پڑھا لکھا طبقہ بھی ان کی باتوں میں آجاتا ہے۔

ایک نام نہاد دانشور لکھتا ہے۔ “اللہ کو اللہ میاں اور اللہ سائیں نہ کہا کروں یہ کہنا اور لکھنا جائز نہیں ہے۔ ” بندہ ان سے پوچھے تم کون ہوتے ہو جائز اور نا جائز کا فیصلہ کرنے والے۔ ہر بندے کا اپنے مالک سے ایک الگ طرح کا تعلق ہوتا ہے۔
جیسے ہر بچے کا اپنی ماں کے ساتھ پیار اور محبت کا تعلق ہوتا ہے۔ لیکن ہر ایک کا اس پیار میں طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ سب کا تعلق سب کے تعلق سے مختلف ہوتا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی ماں سے ایسے پیار یا محبت کیوں کرتے ہو، مجھ جیسی محبت کیوں نہیں کرتے۔ پھر خدا تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔
‎ تم کون ہوتے ہو اس تعلق میں دخل اندازی کرنے والے۔

میں تو اتنا جانتا ہوں   کہ موسی علیہ اسلام کی قوم کا ایک دیہاتی تھا جو کہتا تھا کہ “اے اللہ تو میرے پاس ہوتا تو میں تیرے بال بناتا۔ تجھے کنگھی کرتا “موسی علیہ السلام نے سنا تو اے منع  کیا۔ لیکن اللہ نے وقت کے نبی کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
‎ابراہیم علیہ اسلام کے بارے میں آتا ہے کہ کبھی کسی مہمان کو دسترخوان پہ بٹھائے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ تو کرنی ایسی ہوئی کی ایک دن خلیل اللہ کا مہمان ایک غیر مسلم بن گیا۔ کھانے سے پہلے اس کو کہا بسم اللہ پڑھ لو اُس نے کہا میں تو کسی اللہ کو نہیں مانتا تو بسم اللہ کیسے پڑھ لوں۔ آپ نے اس کو اسی وقت دستر خواں سے اٹھا دیا۔ تو اللہ نے کہا اے ابراہیم وہ نافرمان تو میرا تھا میں اتنے برسوں سے اس کو کھلا رہا ہوں میں نے تو کبھی اس کا رزق بند نہیں کیا اور آج تو نے اسے دستر خواں سے ہی اٹھا دیا۔ اسی ساعت میں وقت کے نبی اس کے پیچھے گئے اور اس کو واپس لے کر آئے۔ اس کو سارا قصہ سنایا اس بات پر وہ ابراہیم علیہ اسلام کے رب کا قلمہ پڑھنے والا بن گیا۔

یہ واقعات  لکھنے کا مقصد یہ کہ وہ اللہ جو اتنا رحیم ہے۔ جو وقت کے نبی کو اپنے نافرمان کے پیچھےبھگا سکتا ہے وہ میاں، سائیں یا ایسے دوسرے محبت   بھرے الفاظ کہنے پہ ناراض ہو جائے گا۔ جو اپنے بندوں کی بخشش کا بہانا ڈھونڈتا ہے وہ ایسے محبت بھرے جذبات میں کہے گئے الفاظ کی وجہ سے پکڑ کرے گا تو معاف کیجئے گا جس خدا کو میں جانتا ہوں وہ ایسا قطعاً  نہیں ہے۔ وہ خدا اتنا تنگ نظر ہر گز نہیں ہے۔ جو خدا بخشش سے پہلے ریکارڈ میں سے یہ دیکھے کسی نے اس کو سائیں، میاں یا  ایسے دوسرے الفاظ کہہ کر تو نہیں پکارا۔ میں ایسے کسی خدا کو نہیں جانتا ، نہ میں نے کبھی ایسے خدا کے بارے میں کبھی سنا ہے۔ میں تو جس خدا کے بارے میں بچپن سے سنتا اور پڑھتا آیا ہوں وہ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔

‎اتنا ہی کہوں گا ہر انسان کا اپنے معبود سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے خدارا اس میں دخل اندازی بند کر دو۔ سب کو اپنے طریقے سے اپنے اللہ سے محبت جتانے دو۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *