وزیر اعظم کے نام ایک پاکستانی کا کھلا خط۔۔۔۔عامر عثمان عادل

محترم وزیر اعظم !
فاسٹ باولر بننے سے دنیا کی ہر بہترین ٹیم کو خود اس کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دینے کا عزم ہو یا کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب
شہر شہر بھیک مانگ کر کینسر ہاسپٹل کے قیام جیسی انہونی ہو یا نمل یونیورسٹی جیسا بظاہر ناممکن منصوبہ
آپ نے جو خواب بھی دیکھا اس کی تعبیر پا کے رہے، اس لحاظ سے آپ قسمت کے دھنی واقع ہوئے،
آپ نے جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو قدم قدم پر آپ کو مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ،عائلی زندگی کی قربانی سے لے کر شہزادوں جیسے طرز حیات کو تج کر آپ کو سڑکوں کی خاک چھاننا پڑی ،کوئی  اور ہوتا تو کب کا اس دشت کی سیاحی سے توبہ کرچکا ہوتا۔۔۔

یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں
جسے زندگی ہو پیاری وہ یہیں سے لوٹ جا ئے

لیکن جو سودا دماغ میں سما گیا آپ اس سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، آپ کے جنون عزم و حوصلے جہد مسلسل سے ایک زمانہ واقف ہے ،کوچہ سیاست میں 22 برس کی خواری کے بعد وہ لمحہ بھی آیا جب اقتدار کا ہما آپ کے سر پہ بیٹھا۔
آپ کی ہر کامیابی میدان عمل میں برس ہا برس کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ نعروں دعوؤں اور بڑھکوں کی بجائے عمل پر یقین رکھنے والا ایک ایسا لیڈر جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے
A leader is one who knows the way
Goes the way
And shows the way
John c.Maxwell

آپ سے یہی عرض کرنا تھی کہ مرد میدان میدانوں ہی میں بھلا لگتا یہ  دبیز پردوں اور مخملیں صوفوں سے سجے دفتروں میں نہیں۔
کرکٹ میں آپ کا شہرہ تھا کہ اپنی مرضی کی ٹیم چنے بغیر آپ کبھی میدان میں نہیں اترے لیکن اب میدان سیاست کرکٹ سے یکسر مختلف ہے سیاسی جدوجہد میں تبدیلی کا نعرہ لئے آپ نے اس میدان میں قدم رکھا تو دودھ کے دھلوں کی تلاش میں ناکامی کے بعد کہنے پر مجبور ہوگئے کہ فرشتے کہاں سے لاوں؟
حضور !
اب تو آپ صاحب اقتدار ہیں اور کاروبار حکومت چلانے کیلئے مارکیٹ میں دستیاب ریلو کٹوں کے محتاج ۔۔۔
مانا کہ آپ کو حکومت سنبھالے چند ماہ ہی گزرے ہیں اور ہر گام ان گنت چیلنج آپ کو درپیش ہیں ۔ معیشت ہو یا تجارت سیاست ہو یا سفارت ملک کی داخلی صورتحال ہو یا بیرونی خطرات ایک کڑا امتحان  ہے  گویا
اک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے
مرکز میں گنتی کے چند وزرا کو چھوڑ کر باقی سب کی کارکردگی مایوس کن ہے امور مملکت چلانے کیلئے بیورو کریسی کے چناؤ  میں بھی ہمیں اس کپتان کی جھلک دکھائی نہیں دی جس کے انتخاب کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔
سب سے بڑے صوبے کا حال تو سب سے ابتر ہے۔
اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے والے صوبے کی باگ آپ نے ایک ماٹھے کھلاڑی کے ہاتھ میں  تھما کر سب کو حیران کر دیا تھا اور جواب میں اس نے اپنی ذات کیلئے عمر بھر کی مراعات کا بل اسمبلی سے پاس کروا کر اس سے دوگنی حیرت سے آپ کو دوچار کر دیا ۔پنجاب کابینہ کی کارکردگی مایوس کن ہی نہیں پریشان کن ہے گڈ گورننس اس صوبے میں منہ چھپائے پھرتی ہے سرکاری دفاتر میں  اندھیر مچا  ہے، سائلین رلتے پھرتے ہیں سب سے برا حال پنجاب کے تھانوں کا ہے جہاں رشوت کا بازار گرم ہے۔
کے پی کے سے آپ نے کونسا انتقام لیا ؟ جس صوبے نے آپ کی وزارت عظمی کی راہ ہموار کی اس پر بھی ایک ماٹھا کھلاڑی مسلط کر دیا جس کی اب تک کی کارکردگی زبان حال سے آپ کے انتخاب کی قلعی کھولتی نظر آتی ہے۔

تمام ادارے آپ کی دسترس میں ہیں ایک خفیہ سروے کا حکم دیجئے مرکزی و صوبائی  وزراء کی کارکردگی سے لے کر تمام حکومتی محکموں کی گڈ گورننس کا پول کھل جائے گا
اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا اپنے اپنے حلقوں کے عوام سے کتنا رابطہ ہے یہ راز اب کوئی  راز نہیں۔

عالی مرتبت !
یہ کیسا کھلا مذاق ہے کہ وزیر پٹرولیم کے اعتراف اور آپ کے حکم کے باوجود سوئی  گیس صارفین سے وصول کئے گئے زائد بلوں کی رقم کی واپسی کی کوئی  صورت نظر آتی ہے نہ ہی ذمہ داران کا تعین

میرے وزیر اعظم !
پاکستانیوں کی ایک خاموش اکثریت جو برس ہا برس سے رائج لوٹ کھسوٹ کے راج سے تنگ آچکی تھی موروثی سیاست سے اکتا چکی تھی اسے آپ کی صورت میں ایک ایسے لیڈر کی جھلک دکھائی دی جو صحیح معنوں میں ملک و قوم کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا درد رکھتا ہے
یاد رکھئے خدا نخواستہ آپ اپنے عزم اور ارادوں کی تکمیل میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ آپ کی ناکامی نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کی ناکامی تصور ہو گی جس نے جاگتی آنکھوں تبدیلی کے سپنے اپنی پلکوں پر سجا رکھے ہیں ہر وہ شخص مایوس ہو گا جو اس گلے سڑے نظام سے نجات کی آس لئے پولنگ اسٹیشن پر گیا۔

خان جی !
اپنی پرانی فارم میں لوٹ آئیے
نوچ ڈالئے ان پروں کو جو آپ کی پرواز کی راہ میں رکاوٹ ہیں
سب اچھا کا راگ الاپنے والے درباریوں خوشامدیوں نورتنوں کے نرغے سے نکل آئیے
ملک کے طول و عرض کا دورہ کیجئے
عوام سے ان کے شب وروز کا حال خود پوچھئے
اپنی ٹیم کی چھانٹی کیجئے
تمام تر توانائیاں عزم صمیم سمیٹے اسی سپرٹ سے میدان عمل میں اترئیے جس جذبے سے سرشار ورلڈ کپ کے فائنل میں اترے تھے
کپتان جی !
ہم آس بھری نظروں سے میدان عمل میں آپ کی کارکردگی کے منتظر ہیں ٹویٹس کے نہیں
اب ٹویٹس نہیں صرف عمل!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *