• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • میری ایک یادگار شام اور شاندار ملاقات کا احوال– بلال شوکت آزاد

میری ایک یادگار شام اور شاندار ملاقات کا احوال– بلال شوکت آزاد

یہ سن دو ہزار کا مارچ ہے, میں چھٹی کلاس میں نیا نیا بحریہ ماڈل سکول ون مجید ایس آر ای تھری, ڈالمیاں کراچی سے ٹرانسفر ہوکر بحریہ ماڈل سکول ٹو مجید ایس آر ای تھری, ڈالمیاں کراچی میں آیا تھا۔

انہی دنوں مجھے اسکول کے اساتذہ سے پتہ چلا کہ اسکول کی کتب اور لکھائی پڑھائی کے علاوہ غیر نصابی کتب بھی اپنا وجود رکھتی ہیں اور یہ کہ ان کا پڑھنا بھی ذہانت اور علم دوستی کی نشانی ہے لہذا جب حب موقع ملے تو کسی غیر نصابی کتاب کی ورق گردانی بھی کرلینی چاہیئے تاکہ ہمارا عمومی علم اور مشاہدہ تو بڑھے ہی مگر ساتھ ہی ہمارا اپنی زندگی کے متعلق اور مستقبل کے اہم مقاصد کے متعلق نظریہ واضح ہوسکے اور ہم یہ طے کرسکیں کہ ہم نے بڑے ہوکر, علم حاصل کرکے اور ڈگری تھام کر بالآخر کیا بننا ہے اور کیوں بننا ہے؟

مجھے اساتذہ کی یہ بات ایسی دل کو لگی کہ گھر آکر میں نے اس پر سوچنا شروع کردیا, اور مجھے یاد آیا کہ اکثر والد صاحب سروسز لائبریری سے کوئی نہ کوئی کتاب گھر لاتے رہتے ہیں جن کو میرے والد اور والدہ فارغ اوقات میں مطالعہ کرکے اپنی علمی تشنگی دور کرتے رہتے ہیں۔

انہی دنوں یعنی اوائل مارچ 2000ء میں والد صاحب ایک کتاب لائے جس کے سرورق پر ایک باوردی پاکستانی کمانڈو دوڑ رہا تھا اور پس منظر میں دھماکے کا منظر تھا, کتاب کا نام درج تھا “کمانڈو” اور مصنف کا نام درج تھا “طارق اسمعیل ساگر”, کتاب کی پشت پر طارق صاحب کی تصویر تھی مونچھوں اور عینک والی جبکہ تب ان کی تصویر میں ان کے سر پر خاطر خواہ بال موجود تھے, جبکہ کتاب میں ایک ناول درج تھا جو سقوط ڈھاکہ کے واقعات کا احاطہ کیئے ہوئے تھا کہ جس کو پڑھ کر بندہ دور کہیں بنگال کی سرزمین اور مغربی پاکستان کے مابین الجھے اور ٹوٹے ہوئے رشتے کی کڑیاں جوڑ کر اپنوں کی ریشہ دوانیاں سمجھنے اور بیرونی دشمن کی چالاکی باامر مجبوری ہضم کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

میں نے سعادت مند اور تب تک اکلوتے برخودار ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے والد گرامی جوکہ سخت گیر فوجی واقع ہوئے تھے سے یہ میری عمر کے لحاظ سے ضخیم اور ناقابل ذود ہضم بالغ کتاب مانگ کر پڑھنے کی خواہش کی تو انہوں نے نجانے کس ترنگ میں مجھے اجازت دیدی اور بیشک وہی میری زندگی کے سب سے اہم اور یادگار واقعات کی لڑی میں پہلا یادگار لمحہ شامل ہوا۔

میں روز اپنی عمر کے مطابق اور وقت کی ترتیب کے لحاظ سے دو سے تین صفحات پڑھتا اور جو پڑھتا اور سمجھتا وہ پھر والد اور والدہ سے ڈسکس کرتا اور باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔

خیر وہ کتاب ایک مہینے میں پڑھ کر مکمل کی تو دوسری کتاب سید میر علی کرمانی کی تاریخ ٹیپو سلطان تھی جو میں نے مطالعہ کی لگ بھگ ایک مہینے میں ہی اور تیسری کتاب اے حمید کی سلسلہ وار کتاب کمانڈو (ٹارگٹ پٹھانکوٹ) چھ مہینے میں مکمل مطالعہ کی اور اس کے بعد پھر طارق اسمعیل ساگر صاحب کی مشہور زمانہ کتاب “میں ایک جاسوس تھا” آدھے مہینے میں مکمل کی۔

الغرض بتانا یہ تھا کہ طارق اسمعیل ساگر صاحب وہ پہلے مصنف تھے جن کی کتاب پڑھ کر میں نے کتب بینی اور مطالعہ کی دنیا میں ہی قدم نہیں رکھا بلکہ ماڈرن وار فیئرز, پروپوگیشن ٹیکٹکس, ڈیفنسو اینڈ سٹریٹیجک اور انٹیلی جنس ایشوز میں پڑھنے اور اب لکھنے کی دلچسپی کمائی اور بہت کچھ وہ سیکھا جو شاید ویسے سیکھنے کو نہ ملتا۔

ساری زندگی کل کی شام تک یہی ایک خواہش دل میں تھی کہ کسی طرح طارق اسمعیل ساگر صاحب کے روبرو پہنچ سکوں پر بطور ان سے محبت کرنے والا عام قاری نہیں بلکہ ایک لکھاری ایک وارئیرر اور ایک شاگرد کی صورت ان کے روبرو بیٹھوں اور ان سے وہ علم حاصل کرنے کی سعی کروں جو وہ مصلحتوں اور حکمتوں کا شکار ہوکر آشکار نہیں کرپائے اور نہ کرپائیں گے۔

اللہ کسی انسان کی جائز خواہش کو رد نہیں کرتا مگر صبر اور شکر سے سر پینکھ کر کام کرنے والے کو اسکی خواہش پوری کرکے خوشی اور طمانیت بخش دیتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا عمر کے اکتیسویں سال جب میری وہ خواہش پوری ہوئی جو عمر کے بارہویں سال ایک غائبانہ تعارف اور رشتے سے پیدا ہوئی۔

جی ہاں گزشتہ ہفتے مجھے طارق صاحب کا انبکس موصول ہوا کہ دبستان اقبال, گلبرگ میں ان کی نئی تصنیف “بھارتی نفسیاتی دہشتگردی” کی تقریب رونمائی ہے۔

میسج ملنا تھا کہ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا بہرحال میں نے بھی ان کی اس تقریب رونمائی کی تشہیر میں حصہ ڈالا سوشل میڈیا پر اور نعمان علی ہاشم بھائی کے ساتھ ہفتہ نو مارچ کو اس پروگرام میں شرکت کا منصوبہ تشکیل دے لیا۔

کل بروز ہفتہ ہم تین بجے شاہدرہ سے گلبرگ ک لیئے نکلے تو راستے میں پروٹوکولز روٹس کی وجہ سے ٹریفک کی مخدوش صورتحال کا سامنا کرتے کراتے دبستان اقبال کی عمارت کے سامنے ٹھیک پانچ بجے پہنچے۔

جہاں ابتسام بھائی پہلے سے ہی منتظر تھے ہمارے لیکن ہم گپ شپ والا منصوبہ وقت کی کمی کی وجہ سے مکمل نہ کرسکے۔

خیر جاتے ہی زندگی میں پہلی دفعہ طارق اسمعیل ساگر صاحب سے ملاقات ہوئی لیکن واجبی سلام دعا سے سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا البتہ وہ مجھے پہچان گئے (فیسبک اور ٹوئیٹر پر ایک سال سے منسلک ہونے کی وجہ سے) اور بڑی گرمجوشی سے ملے۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور اسکے بعد دبستان اقبال کے منتظمین میں سے ایک شخصیت نے طارق صاحب کی قلمی اور حربی خدمات کا تذکرہ کیا اور پھر طارق صاحب کو دعوت گفتگو دی۔

طارق صاحب نے اپنی کتاب “بھارتی نفسیاتی دہشتگردی” کی تفصیل بیان کی مختصراً اور پھر سامعین کو سوال کرنے کی دعوت دی۔

سوال جواب کی نشست کوئی گھنٹہ بھر چلی جس میں مختلف نوعیت کے سوال کیئے گئے اور طارق صاحب نے تسلی بخش جواب دیئے مسکراتے ہوئے۔

ایک دو تلخ اور موضوع سے ہٹ کر غیر متعلقہ سوال بھی آئے جس کی وجہ سے حاظرین محفل میں دو دھڑے تقسیم ہوگئے رائٹ و لیفٹ کی پہلے سے ہوئی معاشرتی و نظریاتی تقسیم کی وجہ سے۔

پروگرام یکدم علمی مجلس کے بجائے مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا لیکن پھر میزبان نے سب کو خاموش کروایا اور میں جو سوال کرنے کے فراق میں تھا ہاتھ ہوا میں معلق کیئے تو مجھے دعوت دی کہ جی آپ سوال کریں۔

میں نے سوال حالیہ عالمی اور حکومتی پس منظر میں ہونے والے اقدامات کی روشنی میں یہ کیا کہ

“آج سے چالیس سال یا تیس سال قبل دنیا کو جہاد کی ضرورت تھی, پاکستان کو ضرورت تھی تو حکومت اور ریاست نے خود دعوت عام دیکر مجاہد تنظمیں تشکیل دیں اور جہاد کا میدان سجایا اپنے مقاصد کو تکمیل تک پہنچایا مطلب روس ٹوٹا اور جب وہ تتظیمیں فارغ ہوگئیں تو انہیں کشمیر میں بھیج دیا گیا تحریک آزادی کشمیر کی عسکری مدد کی غرض سے, مطلب اس بات پر ہم سب یعنی رائٹ لیفٹ اور سینٹر والے متفق ہیں کہ جہادی تنظیمیں خود سے راتوں رات نہ تو اگیں اور نہ ہی یہ خلائی مخلوق ہیں, مطلب انہیں وقت کی سپر پاور اور وقت کی پاکستانی قیادت نے وار ہیروز اور مجاہدین کے لائسنس خود تھمائے اور جب کام نکل گیا اور حکومتی قیادتوں میں اگلی پود آئی تو انہیں یہ دہشتگرد اور خطرہ لگنے لگے تو اب انہیں دیوار سے لگایا جارہا ہے جس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو خدمت کے کام سے منسلک ہیں توکیا ہم موجودہ نوجوان نسل حکومت اور ریاست کے آئندہ ایسے کسی اعلان پر کس طرح لبیک کہیں گے جس میں وہ ہم سے اسلام اور پاکستان کی خاطر خدمات مانگیں گے؟, کیا آج کے دور میں ہم جیسے ففتھ جنریشن وار کے فرنٹ لائن رضاکار مجاہد کل کو دہشتگرد قرار دیئے جاسکتے ہیں جیسی روایت ڈالی جارہی ہے اس کے تناظر میں؟”

میرے سوال پر حاظرین میں کافی مثبت ردعمل نظر آیا اورر خود طارق صاحب مسکرادیئے اور بس اتنا ہی جواب وہاں دیا کہ

“یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لابی کو کبھی بتایا اور سمجھایا ہی نہیں کہ دہشتگردی دراصل ہے کیا بلکہ جو تعریف ہمیں باہر سے بزور طاقت دی گئی ہم نے اسی کو من وعن مان کر عمل شروع کردیا بہرحال باقی کی تفصیل پھر کسی ملاقات پر بتاؤں گا۔”

میرا سوال اختتامی سوال تھا جس کو حاظرین میں بہت پسند کیا گیا جس کا ثبوت مجلس کے اختتام پر مجھے شرکاء میں سے تین چار سینیرز کی جانب سے فرداً فرداً شاباشی سے ملا کہ میں نے ایک بہت ہی جاندار اور ضروری سوال اٹھایا ہے جس کو متعلقہ افراد تک جانا چاہیئے۔

خیر باقی کا آدھا گھنٹہ خود عکاسیوں اور معمولی گپ شپ میں چائے پیتے ہوئے صرف ہوا جس میں ہم استاد حافظ شفیق الرحمن صاب کی علمی گفتگو سے مستفید ہوتے رہے۔

طارق صاحب سے ان کی نئی تصنیف “بھارتی نفسیاتی دہشتگردی” کی ایک کاپی وصول پائی بمع انکے دستخط اور بعد از مصروفیات ان کے ساتھ دو تین تصاویر لیں اور ان سے وقت مانگا (جس پر انہوں نے نہایت شفقت کا مظاہرہ کیا اور مجھے اتوار مطلب آج کا وقت دیا اپنے گھر پر)۔

خیر کل کا دن تو بہت یادگار تھا پر آج کا دن تو میری زندگی کا اہم اور یادگار دن رہا جب میں بارہ بجے شاہدرہ سے نکل کر ٹھیک دیڑھ بجے طارق صاحب کے گھر پہنچا جہاں وہ میرے پہلے سے منتظر تھے۔

ہماری یہ ملاقات کوئی لگھ بھگ اڑھائی گھنٹے جاری رہی جس میں میرے بہت سے سوالات اور الجھنوں کو طارق صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں سلجھایا اور جواب دیا۔

میرا ان سے آج وہ تعلق اور مضبوط ہوگیا جو اوائل مارچ 2000ء میں ان کی کتاب پڑھنے سے بنا تھا اور آج ٹھیک انیس سال بعد اوائل مارچ میں ہی میں اپنے ہیرو, علمی و قلمی استاد اور مربی کے ساتھ بیٹھا وہ گیان لے رہا تھا جو ان کی زندگی بھر کی کمائی ہے۔

وقت کیسے گزرا معلوم نہ ہوا لیکن مجبوری تھی کہ وہ بھی مصروف انسان ہیں لہذا باقی ماندہ گیان اور دیہان کی باتیں اگلی متوقع ملاقات کے لیئے رکھ لیں۔

آج کی ملاقات میں بھی مجھے طارق صاحب نے دو انگریزی کتب کا تحفہ دیا جس میں خالصتان تحریک اور سکھ کمیونٹی سے متعلق بنیادی باتیں شامل ہیں۔

آج کی ملاقات میں چونکہ نہایت رازدرانہ اور قومی سطح کے حامل نازک معاملات پر گفتگو ہوئی اس لیئے گفتگو کا خلاصہ بوجہ مجبوری نہیں لکھ رہا پر وہ بہت ہی سیر حاصل گفتگو تھی جس نے میری الجھی ہوئی سوچوں کو یکسر درست سمت میں ڈال دیا اور میرا دل ہلکا کردیا۔

مجھے بہت فخر اور خوشی ہے کہ ہم عہد طارق اسمعیل ساگر میں ہیں جو خود ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہیں اور یہ کہ وہ حقیقی لیونگ لیجنڈ ہیں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *