لیاری۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی/قسط11

عرض کیا جاچکا ہے وفاقی وزیرِ محنت و افرادی قوت عبدالستار گبول نے لیاری کے بےروزگار نوجوانوں پر نوکریوں کی برسات کردی تھی ـ ان کی اس پالیسی نے مڈل کلاس طبقے کو جنم دیا اور اس طبقے نے معاشی فراغت پانے کے بعد لیاری میں تعلیمی جدوجہد شروع کردی ـ

پاکستان میں “این جی اوز” کا تصور نیا ہے مگر لیاری میں اس کی تاریخ کافی پرانی ہے ـ فلاحی سرگرمیوں کے سرے کو ممبئی سے فارغ التحصیل ماہرِ تعلیم غلام محمد نورالدین کی جدوجہد میں تلاش کیا جاسکتا ہے ـ غلام محمد نورالدین بلوچوں کی پہلی سیاسی جماعت “بلوچ لیگ” کے پہلے صدر بھی رہے ہیں ـ قیامِ پاکستان کے بعد تعلیم عام کرنے کی جدوجہد میں اہم ترین نام مولانا خیر محمد ندوی کا ہے جنہوں نے “بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی” بنائی اور پھر اسی تنظیم کے پرچم تلے کلاکوٹ میں ” بلوچ اسکول” کی بنیاد رکھی ـ بلوچ طلبا تنظیم “بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن” بھی اسی اسکول میں قائم کی گئی ـ بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی کے باعث اس اسکول کو 70 کی دہائی میں قومیا لیا گیا ـ

بھٹو دور میں مڈل کلاس نوجوانوں نے ایک دفعہ پھر لیاری میں تعلیم عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا ـ اس دفعہ جدوجہد کی شروعات لیاری کے سیاہ فام بلوچوں نے بغدادی کے علاقے سے کیا ـ بغدادی کے نوجوان ن.م دانش اس تحریک کے سرخیل بنے ـ ن.م دانش بعد ازیں اردو کالج کے پروفیسر بن کر اردو کے شاعر و نقاد کی صورت سامنے آئے ـ لیاری کے یہ عظیم استاد آج کل امریکہ نشین ہوچکے ہیں ـ تعلیمی تحریک میں پروفیسر کے ایک رفیق ، نادر شاہ عادل تھے ـ نادر شاہ عادل دورِ حاضر کے بزرگ صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں ـ

نادر شاہ عادل کی والدہ بانل دشتیاری بلوچی نسائی ادب کی اولین پراثر شاعرہ مانی جاتی ہیں ـ بانل کے والد ملنگ شاہ کو بعض بلوچ دانش ور بلوچی شاعری میں غزل کا متعارف کنندہ قرار دیتے ہیں ـ بانل کے دوسرے بیٹے امداد حسین شاہ، بھٹو کی پہلی حکومت میں لیاری سے سندھ اسمبلی کے رکن رہے ہیں ـ ان کی ایک اور اہم شناخت بلوچی زبان کے قد آور ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی کی ساس ہونا بھی ہے ـ اس کے ساتھ ساتھ غلام حسین عرف گُلّو، بانل کے منہ بولے بیٹے اور ان کی تربیت سے گزرنے کے بعد بلوچی ادب و سیاست کے مزاحمت کار صبا دشتیاری کہلائے ـ

بھٹو دور میں ن.م دانش، نادر شاہ عادل اور ان کے دیگر باشعور دوستوں نے “اسٹریٹ اسکول” کا تصور دیا ـ انہوں نے گلی میں قناتیں لگا کر ، دریا بچھا کر شام کے اوقات میں بچوں کو مفت پڑھانے کا سلسلہ شروع کردیا ـ “اسٹریٹ اسکول” کے اس اچھوتے تصور نے جلد ہی پورے لیاری پر اپنے اثرات مرتب کرنے شروع کردیے ـ بغدادی سے تحریک پاکر تقریباً لیاری بھر کے تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے و لڑکیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اسٹریٹ اسکول کھول دیے ـ

شام ہوتے ہی لیاری اسکول کا روپ دھار لیتا تھا ـ یہ اسٹریٹ اسکولز اپنی مدد آپ کے تحت آپس میں بچوں کے تقریری مقابلے کرواتے، ٹیبلوز اور اسٹیج ڈرامے پیش کرتے ـ ان اسکولوں نے مستقبل میں معاشرے کو بہترین افراد سے نوازا ـ

اسٹریٹ اسکولوں کے اساتذہ نے منشیات فروشوں کے خلاف بھی کامیاب جنگ لڑی ـ بھٹو حکومت حالانکہ اب دادل برادران کی سیاسی پشتیبان تھی مگر سماجی شعور اور ان اساتذہ کی جدوجہد نے غنڈوں کو سماج کا مائی باپ نہ بننے دیا ـ

اسٹریٹ اسکولوں کا یہ کلچر نوے کی دہائی تک برقرار رہا ـ ان اسکولوں سے تعلیم کی شروعات کرنے والے بچوں نے 80 کے وسط اور نوے کی دہائی میں اسلاف کی کرسی سنبھالی ـ نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو حکومت نے عوامی بیت الخلاؤں کی مسماری کا حکم دے کر ان کی جگہ سماجی انجمن اور اسکول بنانے کا حکم دیا ـ نوجوانوں نے حکومت سے فنڈز لے کر بیت الخلاؤں کی زمین پر شام کے مفت اسکول بنا دیے ـ

لیاری کے مارکس وادیوں کی اکثریت ان اسکولوں کی مخالف تھی ـ ان کے مطابق تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، عوام کو ریاست سے اپنے اس حق کو منوانا چاہیے ـ ان کا خیال تھا اسٹریٹ اسکولز کے اساتذہ ریاست کو اس کی ذمہ داریوں سے سبک دوش کرکے عوام کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں ـ دوسری جانب بعض مارکسسٹ جن میں کامریڈ واحد بلوچ بھی شامل ہیں ان اسکولوں میں مفت پڑھانے کا “جرم” کرتے رہے ہیں ـ عصرِ حاضر میں اسٹریٹ اسکول کے مردہ کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ذمہ داری کامریڈ کی کمسن بیٹی ماہین بلوچ نے اپنے کندھوں پر اٹھائی ہے ـ ماہین بلوچ، جی ایم نورالدین کی روایت پر کاربند آخری کڑی ہیں البتہ ان کا انداز لیاری کی روایت کے برخلاف پاکستانی این جی اوز سے متاثر ہے شاید ان سے تحریک پاکر ایک دفعہ پھر شام کو لیاری اسکول بننے کی سابقہ روایت پھر دہرا دے ـ ویسے امکان کم ہی ہے ـ

اسٹریٹ اسکولز کی بات چل رہی ہے اسی دوران ” چائے خانہ کلچر” کا بھی سرسری جائزہ لے لیتے ہیں ـ

قیامِ پاکستان سے قبل لیاری میں چائے خانوں کا سراغ نہیں ملتا ـ اگر اس زمانے میں کوئی چائے خانہ تھا تو کم از کم میں لاعلم ہوں ـ برطانوی دور میں چائے خانے لیاری سے باہر ہوا کرتے تھے ـ ان میں زیادہ تر محنت کشوں کے محافل جمتے تھے ـ عموماً ان کے مباحث مزدوری کی صورتحال، مغربی بلوچستان کے حالات اور موسیقی کے گرد گھومتے تھے ـ اوائل میں نوجوان فیض محمد بلوچ انہی محنت کش چائے پارٹیوں میں بلوچی “زھیرونک” کا سماں باندھا کرتے تھے ـ یہ سلسلہ پچاس کی دہائی کے وسط تک برقرار رہا ـ

پچاس کی دہائی میں چاکیواڑہ، آٹھ چوک، بغدادی اور کلاکوٹ میں سلیمانی چائے ، گڑ سے بنی چائے اور ملائی والی چائے کے چند ہوٹل کھل گئے ـ آٹھ چوک اور چاکیواڑہ کے چائے خانے دانش وروں، ادیبوں اور سیاسی کارکنوں کے مراکز تھے جبکہ دیگر جگہوں پر محنت کشوں اور فٹبالروں کے دیوان لگتے تھے ـ اس کے ساتھ صدر میں واقع ایرانی ہوٹل بھی دانشوروں کے ملنے اور بحث و مباحثے کے حوالے سے معروف تھی ـ صدر ریگل چوک کے قریب واقع ایک چائے خانہ کراچی میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبا کا مسکن تھا ـ وہ اسے “بلوچ کارنر” کے نام سے پکارتے تھے ـ لیاری سمیت بلوچستان کی سیاست کا رخ بدلنے والے متعدد اہم فیصلے انہی ہوٹلوں میں چائے پینے کے دوران کئے گئے ـ ان ہوٹلوں میں ہونے والے مباحث مختلف آئیڈیاز بھی ابھارتے رہے ہیں ـ

بھٹو دور میں ایک اہم تبدیلی محنت کشوں کی سیاست میں فعالیت کی صورت سامنے آئی ـ ان کی فعالیت نے اخبار بینی میں اضافہ کردیا ـ ان پڑھ محنت کش صبح کام پر جانے سے پہلے مختلف ہوٹلوں میں جمع ہوتے، بعض ہوٹلوں میں وہ خود اخبار خریدتے جبکہ کسی کسی ہوٹل میں گاہکوں کی دلچسپی دیکھ کر یہ سہولت ہوٹل مالکان خود فراہم کرتے ـ ایک پڑھے لکھے طالب علم کو چائے پلانے کا لالچ دے کر اسے باآواز بلند اخبار پڑھنے کی ڈیوٹی دی جاتی ـ سیاسی خبروں پر ہر کوئی اپنی فہم کے مطابق تبصرے کرتا جاتا ـ خبروں، تبصروں اور تجزیوں پر شام کو پھر بیٹھک لگتی اور سب آپس میں بحث کرکے اپنی سیاسی سوچ اور فہم کی اصلاح کرتے ـ

دانشورانہ اور ادبی و سیاسی چائے پارٹیوں میں نسبتاً عمیق معاملات زیرِ غور آتے تھے ـ ان مجلسوں میں آئندہ کے سیاسی و سماجی لائحہِ عمل ترتیب دیے جاتے تھے ـ ان مجلسوں میں چونکہ قوم پرست اور پیپلزپارٹی کے کارکنان یکجا ہوتے تھے اس لئے ان کے درمیان تند و تیز گفتگو بھی ہوتی تھی البتہ کسی لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ کا اس زمانے میں تصور نہ تھا ـ بساں اوقات ایسا لگتا تھا جیسے بس ابھی کے ابھی دھینگا مشتی شروع ہوجائے گی مگر اس کی نوبت کبھی نہ آئی ـ دوسرے دن پھر یہی لوگ اسی جگہ اکھٹے ہوجاتے ـ بھٹو دور میں بلوچستان خونی آپریشن کی زد پر تھا ـ بلوچستان کے متعدد سیاسی کارکنوں کا مورچہ کراچی تھا ـ ان کو لیاری کے قوم پرستوں سمیت کراچی کے بائیں بازوں کے کارکنان کی حمایت بھی حاصل تھی ـ اس زمانے میں چائے خانوں کی سیاست پر پیپلز پارٹی سے زیادہ قوم پرستوں اور مارکسسٹوں کا قبضہ تھا ـ پیپلزپارٹی کا لیاری نشین کارکن بلوچستان کے مسئلے پر دفاعی پوزیشن پر ہوتے تھے اور عموماً مارکس وادی سیاسی کارکنوں کے سامنے شکست کھاتے تھے ـ

یہ سلسلہ ضیا مارشل لا تک برقرار رہا ـ ضیا الحق حکومت کی مختلف پالیسیوں کے خلاف بھی بیشتر پروگرام انہی چائے خانوں سے ہی بن کر سڑکوں پر عمل میں لائے جاتے تھے ـ یہ دور پیپلز پارٹی کے جیالوں کا دور رہا ـ بلاشبہ ضیا آمریت کے خلاف جیالوں کی جدوجہد قابلِ تعریف ہے ـ اس دور میں قوم پرست شدید اندرونی خلفشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار نظر آئے ـ

90 کی دہائی میں چائے خانہ کلچر کے بطن سے “ڈکی کلچر” نے جنم لیا ـ یہ گلیوں اور سڑکوں پر گھروں و دوکانوں کے سامنے بنے چبوتروں پر بیٹھنے والے نوجوانوں کی ایجاد تھی ـ چبوترے کو بلوچی میں “ڈِکّی” کہا جاتا ہے ـ

ڈکی کلچر دو حصوں میں منقسم تھا ـ شام ہوتے ہی گلیوں میں گھروں کے سامنے بنے چبوتروں پر خواتین نمودار ہوجاتیں ـ نمازِ مغرب تک گلیوں میں خواتین کی حکمرانی قائم رہتی تھی ـ خواتین کے درمیان گھریلو مسائل اور ٹی وی ڈراموں و فلموں سے لے کر سیاست تک پر آپس میں تبادلہِ خیال کیا جاتا تھا ـ بعض اوقات بچوں کے رشتے بھی انہی ڈِکّیوں پر طے ہوجاتے تھے ـ ڈکی کلچر سے ناواقف کوئی غیر لیارین باشندہ اگر اچانک کسی گلی میں آ نکلتا تو خواتین کا جھمگٹا دیکھ کر اسے ضرور پریشانی لاحق ہوجاتی ـ یہ خواتین اجنبی کو گھور گھور کر دیکھتیں اور پتہ چلانے کی کوشش کرتیں کہ یہ کس مقصد سے آیا ہے ـ بیچارے کو جھینپ جھینپ کر پل صراط پار کرنا پڑتا ـ اس کے گزر جانے کے بعد پھر اس کے حلیے اور مقصد پر تبصرے شروع ہوجاتے ـ

ڈکی کلچر کا دوسرا حصہ نوجوانوں پر مشتمل تھا ـ یہ زیادہ تر راتوں کو رونق لگاتے تھے ـ رات ہوتے ہی سڑکیوں و گلیوں میں نوجوانوں کی ٹولیاں اگ آتیں ـ کسی جگہ فٹبال زیرِ بحث ہے، کسی ٹولی نے سیاست کو پکڑ رکھا ہے، کہیں فلسفے اور تاریخ پر مکالمہ جاری ہے ، کہیں فلموں پر بحث ہورہی ہے تو کہیں لڑکیوں کی مدح سرائی کی جارہی ہے ـ چرسی اور موالی زیادہ تر چرس کی مختلف ورائیٹیز اور درگاہوں پر بات کرتے نظر آتے تھے ـ

پرویز مشرف کے دور میں گینگسٹروں نے جب لیاری پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تو اس کا پہلا نشانہ ڈکی کلچر بنا ـ اسلحہ بردار نوجوانوں و کمسن لڑکوں نے رفتہ رفتہ اس ثقافت کو ملیامیٹ کردیا ـ گلیاں سنسان اور سڑکیں بے رونق ہوگئیں ـ چائے خانوں پر اب سیاسی خبروں کی بجائے کراچی کے سستے اخباروں میں چھپنے والی ان خبروں پر مباحثے ہونے لگے جن میں مختلف گینگسٹروں کے کارناموں کا ذکر ہوتا تھا ـ مثبت سرگرمیوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ـ لیاری اپنا راستہ کھو بیٹھا ـ

گینگ ثقافت کے عروج کے دنوں میں صرف دو چائے خانے ایسے تھے جہاں مثبت سرگرمیاں جاری رہیں ـ ان میں سے ایک “براھوی چوک” پر واقع “ہوٹل کاہ” تھا جہاں شام کو ادبی شخصیات جمع ہوکر ادب پر گفتگو کرتے اور دوسری جگہ لیمارکیٹ ـ لیمارکیٹ میں واقع “پٹھان ہوٹل” بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے کارکنوں اور ہمدردوں کی جائے پناہ تھی ـ چونکہ لیمارکیٹ میں رات کو بلوچ تحریک کے رہنما بزرگ رہنما لالا منیر بلوچ (لالا منیر بلوچ زرداری دور میں تربت سے اغوا کئے گئے اور چند روز بعد مسخ لاش کی صورت بازیاب ہوئے) اور معروف بزرگ مزاحمتی رہنما لالا لعل بخش رند تشریف لاتے تھے اس لئے یہ ہوٹل ایک طرح سے بلوچ قوم پرست سیاست کا شبانہ دفتر تھا ـ بلوچستان کے سیاسی کارکنان بھی اس ہوٹل میں آیا کرتے تھے ـ ان کارکنان میں سے آج بیشتر لاپتہ یا مسخ لاش بن چکے ہیں ـ

قصہ مختصر یہ کہ چائے خانے لیاری کے سماج کا اہم جزو رہے ہیں ـ بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا آج بھی چائے خانے لیاری کی سیاست کا فیصلہ کررہے ہیں ـ

(جاری ہے)

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *