اپنی شناخت پر فخر کیجئے۔۔۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

آج سے تقریباً 4 سال پہلے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تو کئی  دھچکے اور جھٹکے میرے منتظر تھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ سوشل میڈیا پہ آتے ہی میرا پہلا ٹاکرا ہی ان لوگوں سے ہوا جن کے نزدیک وطن سے محبت، دین سے لگاو، اپنے مشاہیر کے تذکرہ اسلامی شعائر سمیت ایک لمبی فہرست ان چیزوں کی تھی جن کا محض نام لینے کا مطلب تھا اپنی بھد اڑانا، تضحیک کروانا اور خود کو طعن و تشنیع کی توپوں کے دھانے پر بٹھا دینا۔ میرے لئے یہ ایک بالکل نیا جہان تھا جہاں دن رات مطالعٕہ پاکستان اور اسلامیات کی بھد اڑائی  جاتی۔ دو قومی نظریے اور اسلامی شعائر  کی تضحیک کی جاتی۔ قائدِاعظم کو مسٹر جناح کہہ کر پکارا جاتا تھا اور گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد سمیت ہر پاکستان مخالف یہاں ایک ہیرو تھا۔ یومِ دفاع پر توپوں کا رخ پاک فوج کی طرف مڑ جاتا اور جانے کس کس پیرائے میں فوج کو نشانہٕ تضحیک بنایا جاتا اور بھارتی امن پسندی اور جمہوری رویّوں کے گن گائے جاتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک خاتون ایک دفعہ بڑی دور کی کوڑی لائیں اور انہوں نے نہایت ”عرق ریزی“ سے ”تحقیق“ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم خواہ مخواہ پاکستان کو انعامِ خداوندی قرار دیتے ہیں جو ہمیں شبِ قدر کو عطا کیا گیا جبکہ 14 اگست کو شبِ قدر تھی ہی نہیں، یعنی آپ اس مائنڈ سیٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جانے اپنی کون سی حس کی تسکین کرتے ہیں یہ لوگ اسلام، پاکستان اور شعائرِ اسلام کے خلاف پروپیگینڈا کر کے۔ اس سطح کا پروپیگینڈہ تھا کہ الامان والحفیظ۔۔۔ (جو آج بھی اسی شد و مد سے جاری ہے)۔ یہ ساری صورتحال مجھ جیسے وطن کے جیالے، اسلام کے متوالے اور دین کے شیدائی کیلئے سوہانِ روح بن گئی تھی۔ کئی  دفعہ آدھی آدھی رات تک میں اس طرح کی پوسٹس پر بحث کرتی رہتی اور باقی کی آدھی رات مخالفین کے عجیب و غریب نظریات پر جلتے کڑھتے گزرتی۔ پھر آہستہ آہستہ مجھے ان لوگوں کی ذہنی اپروچ کی سمجھ آنے لگی اور مجھے انہیں جواب دینے کا ڈھنگ آگیا اور پھر یہ جوابی کارروائی کمنٹس سیکشن سے نکل کر آرٹیکلز کی شکل اختیار کر گئی۔
یہ سارا منظر نامہ یہاں بیان کرنے کا کیا مقصد ہے۔؟؟؟ مجھے یہ سب باتیں اس وقت موجود پاک بھارت کشیدگی کے پسِ منظر میں یاد آئِیں کہ ہمارے یہ مہربان آج تک یہ ماننے کا تیار نہیں تھے کہ 1965ٕ میں جارحیت بھارت نے کی تھی اور پاکستان نے جواباً کارروائی  کر کے ان کا منہ توڑا تھا۔ ان کے مطابق یہ پاکستانی افواج کا misadventure تھا۔ تو میرے محترم ”دانشوران“ بقول آپ کے مطالعہٕ پاکستان“ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ہندو کی تنگ نظری، تعصب اور ہٹ دھرمی کو آشکار کرنا ہمارے نصاب بنانے والوں کی علمی بددیانتی ہے اور اس کی تعلیم دینے سے نسلِ نو میں تعصب، شدّت پسندی اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ اگلے چند سالوں میں جب پلوامہ حملے اور اس کے پسِ منظر یا نتائج و عواقب کے حوالے سے کوئی  تحریر ہمارے نصاب میں شامل کی جائے گی یا ونگ کمانڈر ابھینندن کے طیارے کو مار گرانے اور اس کے بعد کے واقعات کو نصاب کا حصہ بنایا جائیگا تو ہم کہاں سے وہ ”علمی دیانت“ لے کے آئیں گے جو ہمیں اس سارے منظر نامے میں ہندو کی وسعتِ نظری، بہادری، غیر متعصبانہ سوچ اور سچاٸی کو اجاگر کرنے میں مدد دے گی؟؟؟ اگر ہم سچ بیان کریں گے کہ انڈین پائلٹس نے رات کی تاریکی میں پاکستانی فضائی  حدود کی خلاف ورزی کی اور جوتے کھا کے پے لوڈ گرا کے رفو چکر ہو گئے۔ اور جب دن کی روشنی میں یہ مذموم کوشش کی تو پاکستانی شاہینوں نے دو انڈین لڑاکے طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا۔ تو آپ کی آئندہ نسلیں اس کو بھی ”جھوٹ کا پلندہ“ قرار دیں گی؟؟؟ جب ہم نصاب میں اپنے شاہین، اپنے قومی ہیرو اپنے فخر حسن صدیقی کی جرٕات و دلیری اور پیشہ وارانہ مہارت کا تذکرہ کریں گے اور بھارتی ہٹ دھرمی، دروغ گوئی اور شدّت پسندی کے باوجودابھینندن کے ساتھ روا رکھے گئے  بہترین طرزِ عمل کو اسلامی تعلیمات کا شاخسانہ قرار دے کر اپنی آئندہ نسلوں کو اس پر فخر کی تعلیم دیں گے تو کیا آپ تب بھی اس پر ” عظمتِ رفتہ کی من گھڑت داستانوں“ کی پھبتی کسیں گے؟؟؟
‌نہیں جنابِ من نہیں!۔۔آپ کے ڈھول کا پول توایک مودی جی نے ہی بہت بری طرح کھول دیا ہے۔ وہ جو ”سب سے بڑی جمہوریت“ تھی، آپ کے بقول، اس کی حکومت، اس کی عوام، اس کے سیاستدان اور یہاں تک کہ اس کے جرنیلوں نے جس طرح تعصب، تنگ نظری، شدّت پسندی، جنگی جنون، ہٹ دھرمی اور دروغ گوئی  کا بازار گرم کیا ہوا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اور اس کے جواب میں جس بردباری، صلح جوئی، امن پسندی اور فراخ دلی کا مظاہرہ پاکستان کی طرف سے کیا جا رہا ہےوہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مان لیجئے کہ پاکستان نے بطورِ مملکت ہمیشہ صلح جوئی ، امن پسندی اور فراخ دلی کا ثبوت دیا ہے لیکن جواب میں بھارت کی طرف سے ہمیشہ تنگ نظری، تعصب اور ہٹ دھرمی ہی موصول ہوئی  جو آج بھی ہم دونوں ہاتھوں سے وصول کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی مان لیجئے کہ مملکتِ خداداد اور اسلام کے خلاف آپ کے سارے مقدمے کی بنیاد اسی طرح کھوکھلی ہے جس طرح بھارت کی ”عظمت“ کے حوالے سے آپ کے دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔
‌آخر میں عرض یہ ہے کہ اپنی اصل شناخت یعنی مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر کیجئے اپنے احساسِ کمتری سے نکل آئیے  اور ربِ کائنات کا شکر بجا لائیے کہ اس نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت عطا کر رکھی ہے۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *