جب بم پھٹتے ہیں۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

وہ 7 نومبر 2007 جمعہ مبارک کا دن تھا، جب پاڑاچنار شہر میں ہر طرف ایک عجیب سی ویرانی چھائی ہوئی تھی ہر طرف ہُو کا عالم، وہ شہر جہاں ہر روز لاکھوں لوگ ہنستے گنگناتے رہتے تھے صبح سویرے ہی امیر سے لیکر غریب تک ہر شخص اپنی روزی روٹی کمانے کے لئے شہر کا رخ کرتا تھا وہ شہر اُس دن بہت اداس تھا شاید شہر کی روح نے محسوس کرلیا تھا کہ اُس کے سینے پر خون کی ہولی کھیلی جانی والی ہے شہر کے سارے کاروباری مراکز وقت سے پہلے اِس طرح بند ہوئے جیسے کسی میت کو گزارنے کے لئے ماحول کو سُنسان کردیا جاتا ہے، ہر طرف ایک انجانہ سا خوف در و دیوار میں جیسے رچ بس گیا تھا، وہ گلیاں جہاں سے روزانہ بچوں کے کھیلنے کی آوازیں بلند ہوتی تھی اُس دن گہرے سکوت کی شکار تھیں، وہ ہوٹل اور چائے کے ڈھابے جہاں ہر روز میلہ لگا ہوتا تھا انجان خوف کی وجہ سے ویرانی کا منظر پیش کر رہے تھے فضاء پر گہرا پُراسرار سکوت طاری تھا پورا شہر اُس شکار کا منظر پیش کر رہا تھا جو کسی خوفناک شکاری کے خوف کی وجہ سے دُبک کر بیٹھا ہو، سورج کی روشنی بھی شاید اُس دن کو پیش آنے والے واقعے سے جلد از جلد نظریں چرانا چاہتی تھی، ابھی اُس کے سفر کا آدھا حصہ ہی ختم ہوا ہوگا کہ وہ فضاء جو خاموشی کے گہرے کھائیوں میں پوشیدہ تھی یک دم سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور گرینیڈ بم کے دھماکوں کی مُہیب آوازوں سے ہڑبڑا اُٹھی، ہر گھر میں جیسے قیامت صغرا بپا ہوئی ہر محلے سے بچوں، اور عورتوں کی چیخیں بلند ہوئی کوئی سمجھ نا پایا تھا کہ سکون کی اِس وادی میں یہ مہیب آوازیں کیسی ہیں۔

ایک راکٹ لانچر کا گولہ

اے کے 47، راکٹ لانچر، اور مارٹر گولوں کی مُہیب آوازوں نے معصوم اور کمزور دلوں پر خوف و دہشت کے عفریت کو مسلط کردیا تھا، ہر طرف افراتفری کا عالم اور خوف کی بساط پر دہشت نے انسانی خون سے اپنی بازی کھیلنی شروع کردی تھی بہت سے معصوم لوگ جو کسی راستے سے اپنے پیاروں کے پاس واپس آنا چاہتے تھے وہ اُسی راہ میں لقمہ اجل بن گئے، کسی کے سینے میں پورا ایک برسٹ اتارا گیا، کسی کے جسم میں گرینیڈ کے مہلک اور ظالم ٹکڑے پیوست ہوئے، کسی کی ٹانگ مارٹر گولے کی زد میں آکر اُس کے جسم سے پرواز کر گئی، انسانی اعضاء کی اچھل کود ہلاکو خان اور چنگیز خان کے دور کے مناظر پیش کر رہے تھے، موت کا ایک وحشیانہ رقص جاری تھا بارود کی خون آشام بُو شہر کے ہر زاوئے میں پلک جھپکتے پھیل چکی تھی اور اُس بارود میں انسانی جسم دھڑا دھڑ جل رہے تھے اور کوئلے بن رہے تھے، بھاری اسلحے کا آزادانہ طور پر استعمال ہو رہا تھا، چھوٹے چھوٹے بچے اپنے بابا کو پکار رہے تھے جو کسی بم کے بارود میں جل کر سیاہ کوئلہ بن چکا تھا، شام کے سائے گہرے ہوئے اور اندھیرے نے ان خوفناک آوازوں میں اور اضافہ کردیا ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ ہورہی تھی مارٹر گولے یکے بعد دیگرے پھٹ رہے تھے راکٹ لانچر کے میزائل گھروں میں گھس گھس کے بےگناہ معصوم انسانوں کا شکار کر رہے تھے، جو گھر کچھ منٹوں پہلے آباد تھے ایک مارٹر کے گولے نے اُن کے آنگن میں خون کی ندیاں رواں کردی تھی، بچے، بوڑھے، جوان، اور عورتیں سب موت کا شکار بن رہے تھے، جن کے پیارے گھر واپس نہیں آئے تھے اُن کے گھروں میں صفِ ماتم بچھے ہوئے تھے اُن کو معلوم تھا کہ وہ اِس آگ میں کب کے جل چکے ہیں جیسے جیسے رات کی تاریکی گہری ہوتی گئی ظالم اور بیدرد لوہے نے گھروں کے گھر اجاڑ کر رکھ دیئے ہر آنکھ آشکبار تھی ہر دل میں وحشت تھی، بھوک سے بچے تڑپتے رہے اور ماووں کے دلوں پر قیامت گزرتی رہی، کبھی کبھی لوگ جب کسی زخمی کو ایک محلے سے دوسرے محلے لے جانے لگتے تو اُس کے بدن کے زخموں سے اُچھلتا خون راہ میں موجود دوسروں کو رنگین کرڈالتا، ایسا لگ رہا تھا جیسے شہر کے باسی روٹی کی بجائے بارود سے اپنی بھوک مٹانا چاہتے ہوں، ہر طرف گُھن گرج اور دھماکے اور اُن دھماکوں کی شعلوں میں جلتے ہوئے انسانی لاشیں، انسانیت نے حیوانیت کے لبادے اوڑھ رکھے تھے، تین دن اور تین راتیں معصوموں کا خون بارود میں جلتا رہا اور بم پھٹتے رہے، اور جب حکومتی اداروں نے شہر میں کرفیو نافذ کیا تو گلی کوچوں میں انسانی مسخ شدہ لاشوں کا دیدار ہونے لگا۔

جب جنگ بندی ہوئی

ہر کوئی اپنے پیارے کی لاش تلاش کرنے لگا ہر مسخ چہرہ دوسرے کو اپنا سگا لگتا رہا اور دل خون کے آنسو روتا رہا، بچے یتیم ہوچکے تھے، عورتیں بیواہ، بوڑھوں کے سہارے کب کے بارود میں فنا ہوچکے تھے، کچھ حاصل نہ تھا جو تھا وہ بس بارود کی بُو تھی جو ہر سوں پھیلی ہوئی تھی، آج بارہ سال بعد بھی اُس طوفان کی تباہ کاریاں ذہنوں سے مٹتی نہیں ہیں۔

یہ تو وہ تباہی ہے جو ایک چھوٹے سے شہر میں چھوٹے ہتھیاروں نے پبا کردی تھی ذرا سوچئے جب دو ملکوں کے بڑے بڑے ہتھیاروں کا استعمال ہوگا تو کیا ہوگا؟

پاکستان کے حالات اِس موڑ پر کسی بھی قسم کے جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے اپنا دفاع لازمی اور عین اُصولوں کے مطابق ہے، مگر جنگی سوچ اور جنون کی کوئی گنجائش نہیں وہ بھی ایسے وقت پر جب ہمارا ملک کامیابیوں کی طرف رواں دواں ہے، جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں اگر یقین نہیں آتا تو جنگ عظیم کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے ملک کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھ اور اسے امن کا گہوارہ بنا آمین

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *