• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حکومت اور پی ٹی ایم کے مابین مذاکرات کا نیا دور۔۔۔۔نصیر اللہ خان

حکومت اور پی ٹی ایم کے مابین مذاکرات کا نیا دور۔۔۔۔نصیر اللہ خان

پی ٹی ایم علاقائی تنظیم ہے اور نہ صرف فاٹا تک ہی محدود ہے، بلکہ یہ تمام پختونوں کی نمائندہ تحریک ہے، جس میں شمالی اور جنوبی پختونخواہ کے تمام پختون علاقے شامل ہیں۔ اس لیے خیال رہے کہ پی ٹی ایم کو حکومت سے مذاکرات کرتے وقت ان علاقوں کے عوام کے دیرینہ مسائل کو بھی شامل کر کے مد نظر رکھنا ہوگا۔ تاکہ یہ تحریک بداعتمادی اور بدنامی سے بچ سکے۔ حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا، کور کمانڈر، اعلیٰ حکام، قبائلی اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر اراکین پر مشتمل اجلاس ہوا اور اس میں قبائلی اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سرپرستی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے کہا کہ ’’مجھے مکمل اختیارات حاصل ہیں اور کوئی مجھے گائیڈ لائن نہیں دے رہا۔ مَیں وزیر اعظم عمران خان کی مشاورت سے فیصلے کرتا ہوں۔‘‘

مذکورہ اجلاس میں محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھی مدعو کیا گیا تھا، تاہم وہ نہیں آئے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔ مذاکرات سے پہلے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو یہ سوچنا ہوگا کہ جتنے بھی پی ٹی ایم کے فعال کارکنان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اور یا جس کو نامعلوم مقامات پر بند کیا گیا ہے، ان کی فوری رہائی کی بابت اقدامات کرنے چاہئیں۔
قارئین، مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ تاہم مذاکرات کے جتنے بھی دور ہوں، ان میں پہلے مذکورہ مطالبات رکھنا ہوں گے۔ اس کے بعد پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات کو حکومتی کمیٹی سے تسلیم کرواکر بعد ازاں مزید علاقوں کے دیرینہ مطالبات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ہے۔
یاد ر ہے کہ پی ٹی ایم کے حکومتی جرگہ کے ساتھ مذاکرات کے پہلے بھی کئی دور ہو چکے ہیں، جو کہ بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ مذکورہ مذاکرات کا پہلا نکتہ احتجاج کے دوران میں پکڑے گئے تمام مظاہرین کی رہائی اور دوسرا مطالبہ پی ٹی ایم کے رزمک جلسے کا التوا پذیر ہونا تھا۔ تاہم 22 جون 2018ء کو مزید مذاکرات کی دعوت دی گئی، مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ جرگہ کا بااختیار نہ ہونا تھی۔
ہم تھوڑا سا تاریخ کی جانب اگر دیکھیں، تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ 2009ء میں تحریک طالبان کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی نے جو امن مذاکرات کیے تھے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ کامیاب ہوئے تھے، اور اس کے بعد ریاست نے غیر ریاستی عناصرکے ساتھ کیا عمل کیا تھا؟ کیا ہم آج تک اس کا خمیازہ نہیں بھگت رہے؟

قارئین، اس کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہم پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں وفاق کے ساتھ ’’کامیاب مذاکرات‘‘ کا حال بھی دیکھ چکے ہیں۔ مذاکرات میں امیر مقام، وزیرِ اعظم خاقان عباسی نے وعدہ بلکہ گارنٹی دی تھی کہ پی ٹی ایم کے تمام مطالبات کو مانا جائے گا۔ پچھلی وفاقی حکومت اور دیگر پارٹیوں کے سرکردہ راہنماؤں بشمول حکومتی پارٹی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پی ٹی ایم کے تمام مطالبات قانونی اور آئینی فریم ورک کے اندر ہیں اور پی ٹی ایم کے مجوزہ طور پر تمام تر جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا، لیکن پھر کیا ہوا؟ آپ سب نے وہ دیکھا، کہ مطالبات پورے کرنا تو درکنار الٹا پی ٹی ایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ چاہے وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بلیک آوٹ ہو، یا سوشل میڈیا ہو، ہر جگہ پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کا تمسخر اڑایا گیا۔ پی ٹی ایم کو دبانے کے لیے دوسری تحاریک شروع کی گئیں، تاکہ کسی طرح پی ٹی ایم کا زور توڑا جاسکے۔ پکڑ دھکڑ کے علاوہ جلسوں میں رکاؤٹیں ڈالی گئیں۔ پی ٹی ایم کے سپورٹرز کی منفی پروفائلنگ روز کا معمول بن گئی۔ سرکردہ لیڈر شپ کو حراساں کیا جانے لگا۔ ان پر فائرنگ کے واقعات سامنے آئے اور اس طرح کئی ایک کو شہید کیا گیا، بیسیوں افراد کو زخمی کیا گیا۔ مذکورہ مذاکرات میں وفاقی حکومتی اراکین اور ریاستی اداروں کے سرکردہ راہنماؤں کا نہ ہونا شک کو یقین میں بدل دیتا ہے۔ یہ دیکھنے کے قابل ہوگا کہ اب ریاست اور پی ٹی ایم کے مابین آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

قارئین، جب پختونو  کو لاپتا کرنے اور انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے کا عمل شروع کیا گیا، زمینی مائینز بچھائے گئے، پشتونوں کو ہر جگہ دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور حتی کہ ان کے ناجائز قتل عام سے گریز نہیں کیا گیا، پورے ایک عشرہ تک چیک پوسٹوں پر پختون روایات کے برعکس غیر انسانی رویہ روا رکھا گیا، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو گھنٹوں لائینوں میں کھڑا کیا گیا، ’’امن کمیٹیاں‘‘ بنائی گئیں، اس ضمن میں اکثریتی امن کمیٹیوں نے معصوم لوگوں کی علاقائی اور داخلی چپقلش کی وجہ سے بے گناہوں کو سیکورٹی اداروں کے حوالہ کیا۔ لشکر پر لشکر تیار کیے گئے۔ بے گناہ لوگوں کے گھروں کو بموں سے اڑایا گیا۔
قارئین، سب کو یاد ہوگا کہ اُس وقت حالات کیا تھے؟ جو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اتنے منہ  زور اور سرکش لوگ کہاں سے پیدا ہوئے؟ ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔اس بابت سچائی کو معلوم کرنے کی غرض سے سچائی کی غیر جانب دار کمیشن مستقبل کے لیے عوام اور اداروں پر سے اعتماد کے لیے ایک پیمانہ تصور ہوگا۔

قارئین، میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پی ٹی ایم کا یہ مطالبہ کہ سچائی اور مفاہمتی کمیشن کا مطالبہ سب سے بڑھ کر ہے، اس نسبت جنگی جرائم کو معلوم کرنے اورغیر جانب دار سچائی کی کمیشن پاکستان کے تابناک مستقبل کی طرف ایک قدم تصور ہوگی۔
آئیے، اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پختونخوا وطن میں کیوں کر دہشت گرد پیدا ہوئے؟ غیر ریاستی عناصر کو کس کا سپورٹ حاصل تھا؟ (خدانخواستہ) اس میں ریاست کا عنصر تو شامل نہیں تھا؟ کیا اس کی وجہ پرائی جنگ میں کودنا تو نہیں تھی؟ میں سمجھتا ہوں اور حقیقت حال یہی حالات و واقعات تھی جس کی وجہ سے پختون خوا وطن میں کشت و خون کا بازار گرم ہوا۔ عشروں سے جاری اس جنگ میں کیا کھویا کیا پایا؟ ہم سب کو اس کا علم ہے۔ وہی افغانی طالبان ہیں جو ریاستِ پاکستان، سعودیہ اور امریکہ اور دیگر کئی ریاستوں کے توسط سے افغانستان پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں نائن الیون کا واقعہ ہوتا ہے اور امریکہ بہادر افغانستان پر چڑھائی کر دیتا ہے۔ اب 17, 18 سال کی لاحاصل جنگ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ افغانی طالبان سے کئی ملکوں خصوصاً پاکستان، سعودیہ، قطر اور چین وغیرہ کے توسط سے امن مذاکرات ہوئے اور جو کہ مبینہ طور پر کامیاب بھی ہوچکے۔ امریکہ بہادرنے اپنا کام کر دکھایا۔ حالیہ طور پر یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ طالبان کا ایک وفد وزیر اعظم عمران خان سے ملنے کے لیے آرہا ہے۔ جتنی انوسٹمنٹ امریکہ نے کرنا تھی، وہ رنگ لا بھی چکی۔ البتہ گڈ اور بیڈ طالبان بارے ریاست کی کیا حکمت عملی ہے؟ اس طرف مکمل اندھیرا چھایا ہوا ہے۔
طالبانی مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے پاکستانی معیشت اور انفراسٹرکچر وغیرہ تباہ وبرباد ہوا۔ سکولز اور کالجز تباہ وبرباد ہوئے۔ فصلیں، باغات اور کاروبار ختم ہوا۔ لوگ نفسیاتی مریض بن گئے۔ لاکھوں لوگوں کو آئی ڈی پیز بنا کر در بدر کیا گیا اور لوگ تاحال بے یار و مددگار کیمپوں میں پڑے ہیں۔

یاد رہے اس وقت حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا راج قائم تھا، اس کی فرعونیت سے لوگ تنگ اور عاجز آگئے تھے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اب تک حالات جوں کے توں ہیں۔ شہریوں کے ذہنوں میں پروپیگنڈا کرکے شکوک و شبہات پیدا کیے گئے۔ ریموٹ ایریاز میں طالبان کو کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ سرِبازار لوگوں کی عزتوں کو پائے مال کیا جاتا رہا۔ سروں کو تن سے جدا کیا جاتا رہا۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس خاک میں ملا دیا گیا۔ طالبان کو سرِ عام اپنی تحریک چلانے کی اجازت نے اس عمل کو مزید آسان بنایا۔ اس وقت سب کچھ ٹھیک کیا جاسکتا تھا، مگر کچھ بھی ٹھیک نہیں کیا گیا اور نہ کرنے کا ارادہ ہی تھا۔ ان غیر ریاستی عناصر کے ساتھ زبردستی کی گئی اور نہ ہی ان کے ساتھ جرگوں کے ذریعے حالات کو قابو کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہو رہا ہے۔ نیک محمد کے ساتھ مذاکرات ہوئے، بیت اللہ مسعود اور حکیم اللہ مسعود کے ساتھ جرگے ہوئے، 2009ء میں ملا فضل اللہ کے ساتھ جرگہ اور نظامِ عدل ریگولیشن کا نفاذ ہوا، مگر اس کے بعد کیا ہوا؟ ساری اسکیم ہی بدل گئی۔ تمام دہشت گرد تنظیموں کے سرکردہ لیڈران آپریشن کے بعد افغانستان بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے، جب کہ مقامی طالبان کو کچلا جانے لگا۔ مذاکرات کا پاس رکھا گیا اور نہ ہی ریاستی قوانین کام آئے۔ پے در پے کئی  آپریشن کیے گئے۔ سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران اور بااثر شخصیات بلکہ کسی کو بھی نہ معاف نہیں کیا گیا، جو تھوڑا بہت علم رکھتا، حالات کی نبض شناسی کرتا اور لوگوں کو سازشی نظریات سے خبردار کرتا، اس کو شہید کیا جاتا۔ طالبان کے ساتھ مذکورہ مذاکرات کامیاب ہوئے اور نہ پورے طور پر یہاں امن ہی قائم ہوا۔ البتہ چیک پوسٹوں اور چھاؤنیوں کے لیے حالات ضرور سازگار ہوئے۔ سیکورٹی اداروں کو پختون خواہ وطن میں رہنے کا جواز ہاتھ آیا۔

اب پی ٹی ایم کس سے انصاف مانگ رہی ہے؟ اس ریاست میں کمپرومائز کرنے کا مطلب پی ٹی ایم کے راہنماؤں کو معلوم ہے۔ پی ٹی ایم کے پچھلے جرگے اورکمپرومائز کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ مذاکرات ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے مقصد کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ میرا شک یقین میں بدل رہا ہے۔ کہیں لسانی جنگ کا ڈھنڈورا تو نہیں پیٹا جا رہا؟ مذاکرات، کس طرح کے مذاکرات؟ ریاست نے تو پہلے سے پی ٹی ایم کے تمام مطالبات کو جائز مانا ہے۔ اب اپنے وعدوں پر عمل کرنا حکومت ہی کا کام ہے۔ اگر تو مطالبات میں کہیں دیگر پختون علاقوں کے مسائل رکھنا درکار ہے، یا کوئی سقم رہ گیا ہے اور یا اس فہرست میں ایزادگی کرنا مقصود ہے، تو بجا طور پر مذاکرات کیے جانے چاہئیں، لیکن ایسے مذاکرات کامیاب ہونے کا مطلب سادہ طور یہی بنتا ہے کہ پی ٹی ا یم کوناکردہ جرائم کی سزا دینی ہے۔ خدانخواستہ کیا پی ٹی ایم نے طالبان کے گناہوں کواپنے سر لینے کا ارادہ تو نہیں کر لیا؟ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہونے کی گارنٹی کیا ہے؟ کیا ریاست اور ریاستی ادارے آئندہ کو پی ٹی ایم کے سرکردہ راہنماؤں اور سپورٹرز کو زندہ رہنے کی ضمانت دیں گے؟

خدارا، کچھ سوچئے۔ ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور پھر سب کف افسوس ملتے رہ جائیں۔
میرا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ طالبان کو کلیئر چٹ دیا جائے اور ان کو ویسے ہی رہا کیا جائے۔ میرا ماننا ہے کہ گناہگاروں کو سزائیں اور بے گناہوں کو بعد از باضابطہ، تحقیق وتفتیش اور عدالتی کارروائی رہا یا سزا دی جائے۔ انصاف کا مطلب یہی ہے کہ جو اس ملک اور وطن میں بدامنی اور بے چینی کے گناہ میں شریک ہے، اس کو سزا ملنا عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس میں کوئی امتیازی رویہ ریاست اور پی ٹی ایم دونوں کے لیے خطرناک اور بد نامی کا باعث بن سکتا ہے۔ مذاکرات خوش آئند اقدام ہیں، اس جیسے کسی بھی اقدام کو سراہا جائے گا۔ تاہم یہ مذاکراتی اقدامات اگر خلوصِ نیت، ہمدردی، سچائی اوردیانت داری سے کیے جائیں، تو اس کا نتیجہ بہت جلد عوام کے سامنے آئے گا۔ قوم کو گذشتہ مذاکرات کا بھی نتیجہ چاہیے۔ سچائی پر مبنی کمیشن مستقبل کے لیے عوام اور ریاستی اداروں کے لیے ایک پیمانہ تصور ہوگا۔ ورنہ خدانخواستہ پختون خواہ وطن میں نئے سرے سے ’’آپریشنوں‘‘ کا آغاز نہ ہو جائے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *