• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • مُردوں پر سیاست!بھٹو زندہ ہے اور ماں مرگئی ہے۔۔۔۔محمد حسین آزاد

مُردوں پر سیاست!بھٹو زندہ ہے اور ماں مرگئی ہے۔۔۔۔محمد حسین آزاد

وہ شہید بےنظیر بھٹو کی تعریف کرتے کرتے نہیں تھکتے۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی شخصیت سے بھی کافی متاثر دکھائی دیتا

اس کے فون میں بےنظیر صاحبہ اور ان کے خاندان کے لوگوں کی بہت ساری تصاویر تھیں ۔ وہ ہر کسی کو محترمہ بی بی کی مختلف تصاویر دکھاتا اور کبھی اس کی خوبصورتی تو کبھی اس کے  کردار کی تعریفیں کرتا۔ وہ کہتا ” بےنظير بی بی میرے دل میں ہے، سمجھو اس کے بغیر میں ادھورا ہوں“۔وہ لوگوں سے اپنی پارٹی یعنی پیپلز پارٹی پر لڑائی جھگڑے بھی کرتا۔ وہ پی پی پی کا ادنیٰ کارکن تھا اور ہر پروگرام میں یہ بھی کہتا” شہید بی بی کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے“۔ اور بے نظیر اور ذولفقار علی بھٹو کی قبروں پر حاضری دینا اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ کبھی اپنی ماں کی مغفرت کے لئے دعا مانگی ہے؟ کیا اس کی ایک تصویر ہے آپ کے پاس ؟ وہ خاموش ہوا۔ پھر کہنے لگا ”نہیں تصویر تو نہیں ہے اس کی۔ لیکن اس کی  تصویر پہ کیا کرنا وہ تو مر گئی ہے، اب اسے یاد کرکے اپنا غم کیوں بڑھاؤ؟“
اس کی ماں کو مرے  ہوئے ایک سال ہوگیا تھا۔ اس کی باتوں پر مجھے حیرت بھی ہوئی کہ اب اسے کیا کہوں۔ بے نظیر بی بی کے  مرثیے پڑھ پڑھ کر نہیں تھکتے اور اپنی ماں کو ایک ہی سال میں بھلا دیا۔اپنی ماں کے بارے میں اسے پکا یقین تھا کہ وہ مرگئی ہے، لہذا اب اسے یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن بےنظیر بی بی بھی تو مرگئی ہے، ذوالفقار علی بھٹو بھی تو مر گیا ہے اور اسے یاد کرنے کا بھی کوئی فائده نہیں۔ البتہ انہیں یاد کرنے سے پاکستانی عوام کو بہت بڑا نقصان پہنچ  چکا ہے۔انہیں یاد کرکے آصف علی زرداری جیسا شخص پاکستان کا صدر بنا جو   پاکستان کو صدیوں پیچھے لے گیا، انہیں یاد کرکے سندھ پر اب بھی وڈیروں کا راج ہے۔ سندھ میں زرداری اور اس کے خاندان کے  دفاع کے لئے وہ لوگ بھی احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے  ہیں جو ننگے پاؤں اور پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔جن میں خواتین اور بچے بھی ہوتے ہیں۔بھٹو فیملی کو یاد کرکرکے اس فیملی پر بھی زرداری قابض ہوگیا اور زرداری فیملی بھٹو میں تبدیل ہوگئی۔
مجھے پی پی پی کے اس کارکن کی باتوں پر تعجب اس لئے ہو رہا تھا کہ دنیا میں ماں وہ  ہستی ہے جو انسان کا سب کچھ ہے۔۔ماں سے زیادہ پیار کسی سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ماں کے بغیر گھر قبرستان کی طرح ہے۔اس نے اپنی ماں کو ایک ہی سال میں بھلا دیا اور وہ لوگ جو شاید اس کی پیدائش سے قبل فوت ہوئے ہیں، اس کے دل میں اب بھی موجود ہیں ۔ اس پیار کو کیا نام دوں؟
قارئین، میں ذوالفقار علی بھٹو کی قابلیت اور پاکستان کے لئے اس کی خدمات سے انکار نہیں کرتا، انہوں نے پاکستان کو ایک ایٹمی ملک بنادیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک آئین دیا ہے۔ پاکستان کے لئے بھٹو کی خدمات کو کوئی بھی نہیں بھول سکتا۔ بے نظير بھٹو بھی ایک نہایت قابل خاتون تھیں۔ وہ امریکہ کے بیس سے زیادہ اداروں میں لیکچر دے چکی تھیں ۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں اور پاکستان کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔وہ دو دفعہ پاکستان کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں ،اور انہوں نے پاکستان کو زرداری اور نواز شریف کی طرح نہیں لوٹا۔لیکن میں اس بات کو بالکل بھی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ بھٹو زندہ ہے۔ اگر پھانسی کے دن ہی بھٹو مرگیا ہوتا تو آج سندھ کا  یہ  حال نہ ہوتا۔سندھ کے لوگ بھٹو کی موت کا سوگ آج بھی منا رہے ہیں۔ ا س سوگ نے سندھ کو پسماندگی کی انتہا تک پہنچا  دیا ہے۔

قارئین! آپ کو یہ بھی بتاتا چلو ں کہ اب اس پی پی پی کے کارکن نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت  اختیا ر کرلی   ہے۔ اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اب انہوں نے بے نظير بھٹو کی خامیاں اکھٹی کی ہیں  اور ہر جگہ ہر پروگرام میں بےنظیر بھٹو کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ۔
اس لئے میں یہاں پر سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ساری سیاسی پارٹیاں ہماری پاکستان کی پارٹیاں، ساری ہمارے لئے قابل قدر ہیں۔ لیکن جو ڈیلیور کرے گی ہم اس کی حمایت کریں گے اور جو پاکستان کو لوٹنے کی کوشش کرے گی اس پر تنقید کرنے کا ہمارے پاس پورا حق ہے۔مفاد پرست ٹولہ اقتدار کے  حصول کے لئے کچھ بھی کرے  گا  لیکن ہمیں ان کے  جال میں نہیں پھنسنا چاہیئے۔وہ اپنے مُردوں پر سیاست کرکے ہماری ہمدردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ہمدردی میں انہیں پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنادیں،اور وہ الٹا ہمیں لوٹ لے، لیکن ہمیں ان کی اس چال بازی کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔۔۔ لہذا آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ مُردوں کو برا بھلا بھی نہ کہے اور اس پر سیاست بھی نہ کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *