ذرائع اہداف پاک ہونا اصل ایمان ہے۔۔نذر محمد چوہان

اس ہفتہ اور اتوار بھی فرانس میں بہت زبردست ہنگامہ برپا رہا۔ ییلو ویسٹ والے کسی صورت چین سے نہیں بیٹھنے والے ۔ میکرون ایمرجنسی کا سوچ رہا ہے ۔ گو کے میکرون پاپولر ووٹ پر منتخب ہوا ، اکثر سائیکل پر دفتر جاتا ہے ۔ امیگرئشن کے سخت خلاف ہے اور فرانس کی صدیوں پرانی روایات کو ایک نیا جذبہ دینے کا بے حد شوقین لیکن مسئلہ تو ہے موجودہ روٹی روزی کا ؟ میکرون کے نزدیک مہنگائی  ایک دفعہ تو ضرور ہو گی ان اصلاحات سے جو فرانس کو قرضوں اور پرانے استحصالی نظام سے نکالنے کے لیے بہت ضروری ہے ۔ بالکل ٹرمپ والا بیانیہ جو بھی دیوار کے مسئلہ پر ایمرجنسی لگا رہا ہے اور کسی بھی سبسڈی کے شدید مخالف ہے ۔ لگتا ہے سامراجی سرمایا کار قوتوں کی پہلی دفعہ پسپائی ہو رہی ہے ۔ یہ سارا unequal distribution کا نظام اب لرز رہا ہے ۔ جی ڈی پی تو ہر جگہ بڑھ گئ trickle down نہیں کی جو ریاست کا کام تھا ۔ اب کارپوریٹ ٹھگوں کو پٹہ ڈالنے  کا وقت آ گیا ہے ۔
پچھلے دنوں پاکستان میں ایم اے پاس چوروں کا ایک گروہ پکڑا گیا جو اپنی کمائی  کا دسواں حصہ غریبوں کو بانٹتے تھے اور جب گرفتار ہوئے  تو کہا کہ  ان کی خاطر ہم چوریاں کرتے تھے ۔ بالکل جم جونز اور شہزادہ سلمان والا فلسفہ ۔ جم اتنا بڑا بدمعاش تھا کھلے عام کہتا تھا کہ ends justify the means ۔ عمران خان بھی بالکل اسی سوچ کا مالک ہے ، اسے تو چندہ اکٹھا کرنے سے یہ سوچ وراثت میں ملی ۔ وہی امجد ثاقب والا غربت مٹانے والا رابن ہُڈ والا فارمولا ۔ امریکہ میں یہ فلسفہ آجکل شدید تنقید کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ کلنٹن فاؤنڈیشن اور تمام گلوبل چیریٹیز کا اب اخلاقی آڈٹ ہو رہا ہے ۔ پہلے تو مسئلہ تھا کہ انہوں نے دہشتگرد تنظیموں کے Garb میں پیسہ تو نہیں لیا یا انہی  کے لیے آپریٹ تو نہیں کیا ؟ اب معاملہ ہے کہ کتنی اس سے ٹیکس evasion ہوئی  اور کتنا کالا دھن ان کے  ذریعے سفید کیا گیا ۔
میں ہمیشہ خیراتی اور چندہ ماڈلز کا شدید مخالف رہا ہوں اور ہمیشہ میں نے اسلامی سکالرز کو چیلینج کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ  کیا حضرت محمد ص یا خلفاء راشدین کے دور میں کوئی  ایسی نجی تنظیمیں تھیں ؟ کیا ریاست کے علاوہ بھی کسی کو چندہ اکٹھا کرنے کا اختیار تھا ؟ کیا زکوة  اور بیت المال کے علاوہ بھی کوئی  ادارہ فلاح کا کام کرتا تھا ؟ اگر حضور پاک ص ، اور قرآن شریف نے اتنی سختی سے حلال اور حرام  ذرائع سے کمائی کی تفریق کی اور حرام کی کمائی  کو جہنم کی آگ کہا، تو کیسے ایسا ممکن ہے کہ  اس کو چیریٹی میں لگا کر صاف کیا جا سکتا ہے ؟جسٹس فرخ عرفان ٹیکس evade کرتا ہے ، پناما میں کالا دھن رکھتا ہے اور لاہور کے ہسپتالوں کو چندہ دینے میں پیش پیش ۔ اس سے زیادہ ظلم غریبوں پر نہیں ہو سکتا ۔
کل پاکستان میں عمران خان کے اس اقدام کو بڑا سراہا گیا کہ  اس نے سعودیہ میں پاکستانی مزدوروں کی بات کی اور ۳۰۰۰ جیل میں پڑے ہوئے قیدیوں کی ۔ اچھا تو ہوتا اگر قاتل شہزادہ ان کو چھوڑ کر آیا ہوتا یا تنخواہ بڑھا کر آیا ہوتا ۔ فلپائین کے ڈٹرٹے نے تو ان کے منہ پر طمانچہ مارا جب اپنی تمام لیبر سعودیہ سے یہ کہہ کر نکال لی کہ ہم اپنی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کا استحصال نہیں ہونے دیں گے ۔ اسے کہتے ہیں نیشنل انٹرسٹ ، وہ نہیں جو عمر چیمہ اور مبشر زیدی کو جمال خشگوچگی کی ڈی پی ہٹانے پر مجبور کرے ۔ شرم کا مقام ہے ہم سب کے لیے بحیثیت انسان اس طرح کے ظلم ڈھانے کا ۔ چلو اگر جمال انسان نہیں تھا تو وہ دو کروڑ یمنی تو انسان ہیں جن کو پاکستان فوج کی مدد سے لقمہ اجل بنایا جا رہا ہے ؟ وہ تو مسلمان بھی ہیں جناب والا، اسی محمد ص کے امتی جو پیٹ پر دو پتھر باندھا کرتے تھے ، فاقے کشی میں مبتلا رہتے ، پیوند لگے ہوئے کپڑے زیب تن کرتے ۔ آج چند ٹکوں نے ہمیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ  کوئی  اخلاقیات نہیں ، کوئی  رحم نہیں ، انسانیت نہیں ؟
اچھا ہوتا اگر عمران نمل کے لیے امریکہ سے فیکلٹی منگوانے کا کہتا اور شہزادہ کو کہتا کہ  اب کینیڈا سے بھی سعودی طلباء آپ کی بدمعاشیوں کی وجہ سے فارغ کر دیے گئے ہیں تو کیوں نہ آپ خرچہ دیں اور کوئی تعلیم ہی کم از کم ہم مسلمان ملکوں کو دے دیں ۔ پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی دنیا کی پہلی دو سو یونیورسٹیوں میں نہیں کیونکہ فیکلٹی نہیں ۔ جو پاکستانی فیکلٹی ہے اس نے سمیسٹر سسٹم کی بدولت اتنی شادیاں رچا لی ہیں اور بچے پیدا کر لیے ہیں کہ  ان کو سنبھالیں یا طلباء کو ؟ مجھے ان کروڑوں پاکستانی طلباء کا درد سونے نہیں دیتا ۔ میں آٹھ گھنٹہ لائبریری میں صرف کرتا ہوں ،وہاں اکثر آنکھیں بند کر کے سوچتا ہوں کاش پاکستان ایسا ہوتا۔ کیا مطالعہ کا شوق اور کیا سہولیات ۔ اگلے دن ایک ہیلپنگ اسٹاف نے ایک بوڑھے شخص کی قمیض صاف کی جسے قے آ گئی۔ اس کا چہرہ ویٹ ٹشو سے صاف کیا ۔ ۹۱۱ کو بلایا ، وہ کافی دیر اس سے پیار محبت کی باتیں کرتے رہے ۔ یہاں جناب انسان کو انسان سمجھا جاتا ہے ۔ ہاں کریمینل کو نہ صرف حیوان سمجھا جاتا ہے بلکہ تا حیات پابند سلاسل کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں تو بوڑھے شخص کو دھتکارا جاتا ہے “اوہ بابا تُو لائبریری کی لین گیا سی؟” گورنر مرفی پچھلے سال نیوجرسی کا گورنر بنا ، اس نے ۲۵ ملین ڈالر کی کمیونیٹی کالجز کے لیے سالانہ امداد کا فیصلہ کیا ۔ میرے علاقے کے کالج والوں نے لائبریری میں داخلوں کا کیمپ لگایا ہوا تھا مجھے اتنے سارے کورس پسند آئے لیکن سوچا کہ عمر مسئلہ نہ بن جائے ۔ ان سے پوچھا کہ  میں ساٹھ سال کا ہونے لگا ہوں کیا داخلہ لے سکتا ہوں ؟ انہوں نے کہا سر آنکھوں پر ، اس میں کوئی عمر کی قید نہیں ۔ ہمارے ہاں تعلیم بالغاں کا الگ پروگرام شروع کیا گیا اور کروڑوں روپیہ کھا کر نئی روشنی اسکول لوگوں کی زندگیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اندھیرا کر گئے ۔
اب کوئی  نہ غیبی امداد آنی ہے ، نہ یہ سعودی چندوں سے معاملات درست ہونے ہیں ۔ میرا تو پاکستان میں کوئی  بچہ بھی نہیں لیکن پھر بھی میں اپنے وطن کے لیے درد رکھتا ہوں ۔ رولنگ ایلیٹ اور لٹیروں کی سخت تنقید اور تشدد کا اکثر نشانہ بنتا ہوں ، اسی بنیاد پر امریکہ میں پناہ لی ہوئی  ہے ۔ کوئی  وکیل آج تک فرخ عرفان کے خلاف سپریم جیوڈیشل کونسل میں جانے کو تیار نہیں ۔ ثاقب نثار نی ایک دفعہ اعتزاز احسن کو کہا تھا کہ  آپ غریبوں کے بھی کبھی کیس مفت لڑ لیا کریں؟ ہاں میرے وکیل اقبال جعفری صرف پبلک انٹرسٹ کے کیس لڑتے ہیں اور اپنا پیسہ لگا کر اور انہوں نے ہی یہ کیس بھی میرے سے فیس لیے بغیر کیا ۔ ہم لوگوں کا راستہ یقیناً بہت کٹھن ہے لیکن اس میں سرور بہت ہے ، دعائیں بہت ملتی ہیں ۔ جب دوپہر کو میسینجر کھولتا ہوں محبت بھرے پیغام پڑھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے ۔ امریکی سکالر اور استاد ، ڈاکٹر معصوم حسن عابدی اکثر کہتے ہیں کہ  “چوہان صاحب آپ نے حسینی راستہ اختیار کر لیا، یہاں تو سر کٹتا ہے جھکتا نہیں” اور میں جواب میں مسکرا کر کہتا ہوں “ جی ہم پیدا ہی سر کٹوانے کے لیے ہوئے ہیں نہ کہ  جھکانے کے لیے “۔ اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔ پاکستان پائندہ باد ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *