کشمیر کے فریڈم فائٹرز۔۔عبداللہ خان چنگیزی

جیسا کہ  نام سے ہی پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگوں کو جو اپنی آزادی کی خاطر اپنی قوت سے ہزار گنا طاقتور دشمن اور غاصب اور جبری طور پر مسلط کردہ سسٹم سے آزادی کی خاطر جان لڑانے والوں کو فریڈم فائٹرز کا نام دیا گیا ہے، فریڈم فائٹرز کون ہوتے ہیں، کون اُن کے مددگار ہوتے ہیں، اُن کا نظریہ کیا ہے، وہ کون سے عوامل ہیں جو کسی معصوم انسان کو ایک فریڈم فائٹر بننے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو ایک فریڈم فائٹر کے نام سے منسوب ہوتے ہیں جن کے جواب ہر کوئی ایک الگ انداز سے دیتا ہے۔ ایک معصوم بچہ بھی فریڈم فائٹر بن سکتا ہے اپنے والدین کے خلاف مگر اُس کی  حرکات میں تشدد نہیں بلکہ دوسرے ایسے طریقے ہوتے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے مطالبات منوا لیتا ہے، مثال یہی ہے ہم سب میں ایک فریڈم فائٹر موجود ہے جو اُس وقت ہمارے سامنے آتا ہے جب ہماری  شخصیت کو کسی ناگوار اور ناپسندیدہ کام کو تشدد اور جبر کے ذریعے مسلط کرکے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے دوسرے الفاظ میں ہم اسے ایک ایسا باغی کہہ سکتے ہیں جس کی بغاوت اُس کی  اپنی ذات و ملت کے فائدے کے لئے ہوتی ہے، دہشتگردی، شدت پسندی اور اپنے حقوق کے لئے لڑنے میں بہت فرق ہے، دہشتگردی میں مقصد اور اُس مقصد کی  کامیابی کے لئے جدوجہد کی ذات و صفات شامل نہیں ہوتی مگر ایک فریڈم فائٹر کی  حرکات و سکنات میں ایک جوش و جذبہ اور اپنے مقصد کی تکمیل کی کوشش کارفرما ہوتی ہے اور وہ ہے آزادی کا جذبہ، اُس کی بنیادی ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے کا جذبہ، ایک پُرامن زندگی گزارنے کا ولولہ، اپنے اردگرد کے معاشرے کو باحفاظت رکھنے کا جذبہ، جو تب بیدار ہوتا ہے جب اُس کو یہ پتہ لگے کہ اُس کے جائز حقوق اور انسانیت کے اُصولوں کے خلاف اُس کی  ذات کو مسلا   جا رہا ہے اُس کے اوپر ظلم ہو رہا ہے۔

انسان کے خمیر میں ظلم برداشت کرنے کی ایک مقررہ حد ہے اُس حد کے بعد اِس کی شخصیت میں ہیجان  پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے خواہ وہ کسی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو انسان کو توڑا جاسکتا ہے مگر اُس کی  آزادی کے جذبات کو دفن نہیں کیا جاسکتا ایک دن وہ ضرور اُبھرے گا اور اپنا حساب برابر کرے گا خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو اُس کی کاروائی میں شدت پسندی اور قتل و غارت گری بھی ہوسکتی ہے اور وہ انسان سے تبدیل ہوکر انتقام کا ایک ایسا آتش فشاں بن سکتا ہے جس کے لاوے کی لپیٹ  میں تمام خس و خاشاک آسکتے ہیں، انتقام کیوں لیا جاتا ہے اِس کے پیچھے بھی یہی عوامل کار فرما ہیں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو انسان اپنے شعور کی  حدوں سے بہت دور نکل جاتا ہے اُس کے سامنے اگر کچھ ہوتا ہے تو صرف وہ کچھ جس کی وجہ سے اُس سے وہ سب کچھ چھین لیا گیا ہوتا ہے جو اِس کا بطور ایک انسان پیدا ہونے کی وجہ سے حق ہوتا ہے۔

پلوامہ 33.88°N 74.92°E کے حملے میں لوگوں کو تو وہ سپاہی نظر آرہے ہیں جو ہلاک ہوئے ہیں مگر وہ معصوم و بےکس و لاچار کشمیری خون نظر نہیں آرہا جو برسوں سے کشمیر کی سرسبز وادی کو اپنے سرخ رنگ سے روز غسل دیتی ہے، وہ بیگناہ بچے یاد نہیں آتے جو پیدا ہونے سے پہلے ہی یتیم ہوجاتے ہیں، وہ مائیں دکھائی نہیں دیتی جن کے لال کس جگہ کونسے عقوبت خانے میں الٹے لٹکا دیئے جاتے ہیں اور ختم ہو کر جان جانِ آفریں کے سپرد کردیتے ہیں، اور وہ ماں اُس انتظار میں بیٹھی ہے کہ ایک دن اُس کا بیٹا اُسے ماں کہہ کر پھر سے پُکارے گا، وہ بوڑھا بابا دکھائی نہیں دیتا جِن کے بوڑھے کاندھوں پر جوان اولاد کی لاش رکھ دی جاتی ہے اور وہ رو بھی نہیں سکتا، وہ بہن یاد نہیں آتی جِن کے ہاتھوں پر مہندی کے بجائے اپنے بھائی اور بابا کا خون لگا دیا جاتا ہے، وہ بیوی یاد نہیں آتی جِن کے سُہاگ کو اُس کے سامنے گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے، وہ بزرگ یاد نہیں آتے جِن کے جنے ہووُں کو اُن کے سامنے اندھا کر دیا جاتا ہے، وہ بچے یاد نہیں آتے جن کے جسموں میں زہریلے بموں کے ٹکڑے اِس وجہ سے آج بھی موجود ہیں کہ کہیں آپریشن کرنے سے بچے میں زہر پھیلنے سے  مر نہ   جائے، وہ دوشیزائیں یاد نہیں آتی جِن کی عِصمت کو جنگلی درندوں کی طرح نوچ نوچ کر کھایا جاتا ہے۔
وہ گاوں وہ وادی یاد نہیں آتی جِن کی ہر صبح کی فضاء میں باروُد کی مُہیب بُو رچی بسی ہوتی ہے، وہ سرفروش یاد نہیں آتے جِن کے ہاتھوں میں لکڑیوں کے ڈنڈے ہوتے ہیں اور سامنے سے ظالموں اور جابروں کی گولیاں اُن کے جسموں کو تار تار کردیتے ہیں، آخر کب تک کشمیریوں کے خون کو یوں ہی بیدردی کے ساتھ بہایا جائے گا، کب تک یونہی ماں کے لال کو گولیوں سے چھلنی کیا جائے گا، کب تک بوڑھے باپ کے کندھوں پر جوان بیٹے کی لاش رکھ دی جائے گی، کب تک ایک بھائی کے سامنے بہن کی عزت تار تار  کردی  جائے گی، کبھی تو پیدا ہوگا خون میں اُبال، یہ سب جو بھی ہوتا ہے وہی ظلم و بربریت ہے جو اِنہوں نے اُن بیگناہوں پر عذاب کی صورت میں مسلط کر رکھا  ہے اور اب واپس مل رہا ہے
مقصد چاہے جو بھی ہو اپنی غلطیوں اور اپنے کئے ہوئے کو دوسروں پر تھوپنا مردانگی نہیں بُزدلی کہلاتی ہے۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *