تیزاب کے حملے نے میری زندگی برباد کر دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حالیہ دنوں برطانیہ میں تیزاب سے حملوں کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ ’زندگی تبدیل کرنے والے ان زخموں نے انھیں تباہ کر دیا ہے اور وہ تنہائی میں رہنے لگے ہیں۔رواں سال جون میں مشرقی لندن میں جمیل مختار اور اُن کی رشتے دار خاتون پر تیزاب پھینکا گیا، اس حملے میں وہ بری طرح جھلس گئے جس کے بعد انھیں کچھ دنوں میں کومے میں رکھا گیا۔جمیل مختاراس حملے کے بعد لندن سے بولٹن منتقل ہو گئے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا اعتماد بالکل ختم ہو گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ چند سکینڈ میں سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اس نے مجھے برباد کر دیا ہے۔تیزاب کے اس حملے سے پہلے تمام رشتے دار اپنی کزن ریشم خان کی اکیسویں سالگرہ منا رہے تھے، واپس جاتے ہوئے اُن کی گاڑی ایک اشارے پر رکی تھی، جب گاڑی کی کھڑکی سے کسی نے اُن پر تیزاب پھینکا۔جمیل مختار کے چہرے کا ایک حصہ اور پورا جسم ہی جھلس گیا، اس حملے میں اُن کی ایک آنکھ اور کان کو بھی نقصان پہنچا۔تیزاب کے اس حملے میں مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان کی بائیں آنکھ متاثر ہوئی اور اب تک دو بار اُن کی جلد کی پیوندکاری ہو چکی ہے۔جمیل مختار کا کہنا ہے کہ اب وہ چوبیس گھنٹے تک اپنے بسترتک ہی محدود ہو گئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہےمیں ہر چیز کے بارے میں بہت محتاط ہو گیا ہوں۔یہاں تک اپنے کمرے کے دروازے کے بارے میں بھی، میں دروازہ کھولتے ہوئے دو سے تین بار سوچتا ہوں کیونکہ اُس دن میں نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ تھکا دینے والی ہے۔اندازہ کریں کہ آپ کی جلد اتر رہی ہے، آپ دیکھ بھی نہیں سکتے اور آپ جھلس رہے ہیں، یہ بالکل ڈروانی فلم جیسا ہے۔میں سو نہیں سکتا، میں صحیح سے کھا بھی نہیں سکتا اور میرا اعتماد بالکل ختم ہو گیا ہے۔میں زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے والا شخص تھا اور اب میں تہنائی پسند ہو گیا ہوں۔ میں کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جمیل مختار نے میڈیا کو بتایا کہ وہ لڑکا میری گاڑی کی جانب بڑھا اور مجھے ایسا لگا جیسا بہت سا پانی میری گاڑی میں آیا ہے اور پھر میں جھلسنے لگا۔میں نے کھڑکی کے شیشے اوپر کرنے کی کوشش کی لیکن میں جلن کی وجہ سے کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *