جمعرات، 2 اپریل 2020ء

موبائل فون لاک کھولنے کیلئے جنازے پر چھاپہ

لارگو: گذشتہ روز فلوریڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک جنازے پر چھاپہ مار کر مردے کے فنگر پرنٹ سے موبائل فون ان لاک کرنے کی کوشش کی۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لارگو میں ڈیٹیکٹیوز نے جنازے پر چھاپہ مار کرمقتول کے فنگرپرنٹ سے موبائل کا لاک کھول کر قانونی کام کیا ہے ۔ لیکن اکثر لوگوں نے اسے غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔

لارگو پولیس نے پچھلے ماہ لوئس ایف فلپس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کے جنازے پر چھاپہ مار کر اس کی لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے لوئس کے فنگرپرنٹ سے اس کا موبائل کھولنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔

لوئس کی منگیتر وکٹوریہ آرمسٹرنگ نے بتایا کہ اس واقعے سے اسے کافی بے عزتی محسوس ہوئی تھی۔

28سالہ وکٹوریہ نے بتایا کہ وہ کلیئر وڈ، فلوریڈا کے سلوان ابیے فیونرل ہوم میں تھے کہ دو ڈیٹیکٹوز نے انہیں لوئس کا فون دکھایا اور اسے کھولنے کےلیے لوئس کی لاش کو قبضے میں لے لیا۔

انہوں نے لوئس کا ہاتھ فنگر پرنٹ سنسر پر رکھ کر فون کھولنے کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔

لیفٹینٹ رانڈال چانیے نے بتایا کہ 30 سالہ لوئس کے فون میں محفوظ ڈیٹا حاصل کرنے کی یہ ناکام کوشش تھی۔ یہ ڈیٹا لوئس کی موت اور اس کے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے حاصل کیا جا رہا تھا۔رانڈال نے بتایا کہ انہیں اس کے لیے وارنٹ کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مرنے کے بعد اس کے پرائیویسی کے خدشات بھی ختم ہو گئے تھے ۔لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لوئس کے خاندان کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔

لوئس کو 23 مارچ کو پولیس نے اس وقت گولی ماری تھی جب وہ اپنی تلاشی سے بچنے کے لیے گاڑی میں بھاگ رہا تھا۔ رانڈال نے بتایا کہ پولیس کے پاس فون کے فنگرپرنٹ سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے 48 سے 72 گھنٹے تھے۔ اس کے بعد لاش کو واپس ورثا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *