آقا و غلام۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

غلام بنی نوعِ انسان کی ثقافتی تاریخ کا حقیقی علمبردار ہے، غلامی کی نفسیات، تاریخ ، اہمیت اور اس کے منفی و مثبت پہلوؤں پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو یہ ایک انتہائی دلچسپ نوعیت کی بحث ہے۔
انسانی تہذیب اور نفسیات کی ابتداء درحقیقت وہ تاریخی موڑ ہے، جہاں غلام اپنے پاؤں سے غلامی کی زنجیر کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے اپنے مالک کا مالک بن بیٹھا، مالکیت کا یہ انتقال خالصتاً روحانی ہے، جسمانی طور پر مالک اور غلام کی موقعیت میں کوئی فرق نہ آیا، مگر یہ باطنی انتقال انسانی نفسیات کی ارتقاء میں نکتۂ آغاز قرار پایا۔
در ابتداء ایک شخص منفی ذہنیت سے پاک تھا, جھگڑا و فساد اس شخص کی فطرت میں نہ تھا، کسی بھی سماجی و انفرادی بگاڑ سے بچنے کی خواہش و کوشش میں اس صلح جوء شخص نے مقابلے کی بجائے بزدلی کو ترجیح دی اور رحم کی بھیگ مانگتے ہوئے اپنے مخالف کو مالک مان لیا، یہ مخالف (مالک) اپنے اندر نفرت پالنے والا شخص تھا، مقابلے کی خواہش ہی اس کا ذہنی ، جسمانی و سماجی اثاثہ تھا، برتری یا موت میں سے کسی ایک کا انتخاب ہی اس نڈر وظالم شخص کی نفسیات کا خاصہ ٹھہرا، ایسے شخص کیلئے تہذیب، امن اور اقدار وغیرہ کی کوئی اہمیت نہ تھی، اول الذکر خصوصیات کے حامل شخص نے خود کو غلامی کے سپرد کرنے میں بہتری جانی، مگر مقامِ افسوس ہے کہ معاشرتی طور پر غلام نے بطور غلام ہی اپنے ارتقاء کا سفر جاری رکھا۔
چونکہ مالک کا اپنے غلام کے ساتھ رویہ گھر میں پلنے والے کتّوں اور بلیّوں سے بھی بدتر تھا تو ہوشیار غلام نے اپنی حالتِ ناگوار کی بہتری کی کوشش میں اور مالک کے سامنے خود کو منوانے کیلئے کتے سے وفا اور بلی سے سطحِ برابری کے سلوک والی خصوصیات لاشعوری طور پر اپنائیں، ثانئ الذکر خصوصیت کو اپناتے ہوئے غلام کیلئے ضروری تھا کہ اپنے دفاع کیلئے مالک جیسی منفیت کو اپنے اندر پیدا کرے، تاکہ کسی سطح پر کوئی شخصی برابری وجود میں آ سکے، مالک اس صورتحال سے بے خبر ہے کہ چالاک غلام اپنی وفا جتاتے اور مالک کی نفسیات میں نفوذ کرتے ہوئے اپنا ظاہر گروی رکھ کر مالک کے باطن کا مالک بن بیٹھا ہے۔
تاریخی ارتقاء میں پہلی دفعہ غلام کی اپنے مالک کے ذہن تک رسائی ہی علمِ نفسیات کا پیشِ خیمہ ثابت ہوئی، غلام نے صدیوں اپنے اس فن کی آبیاری پوری محنت سے کی کہ انسانوں کے مابین تعلقات کی باریکیوں اور فطرتِ انسانی سے وہ خوب واقف ہو چکا تھا، اسی لیے غلام کیلئے “فنِ غلامی” جسے سیکھنے کیلئے اسے اپنے خون و نسل تک کی قربانی دینی پڑی، کے لطف سے چھٹکارا پانا آسان نہ رہا۔
فنِ غلامی ہی درحقیقت انسانی نفسیات کا اصلی اور درست نام ہے، اس فن نے دربار کی تخلیق میں اہم ترین کردار ادا کیا، اور دربار کے لوازمات، جیسا کہ فنونِ لطیفہ و دیگر تہذیبی پہلوؤں کی ارتقاء میں فنِ غلامی کا ہاتھ ہے، نفسیات اسی کا نام ہے کہ ایک طرف اپنے بقاء کی جدوجہد میں اپنے آقا ، دشمن یا مخالف کو خوش کرنا اور اس کے ذہن پر قابو پاتے ہوئے اپنا فائدہ نکلوانا اور دوسری طرف اپنے ہم کیفیت ،یعنی دوسرے غلاموں ، کو ظلم سہنے پر تسلی و حوصلہ دیتے رہنا اس علم کا خاصہ ہے۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ دو ضمنی لوازمات مذکورہ فن کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں، ایک گنجان آبادی، دوسرا سماجی تعلقات کی بہتات، جہاں مستقل اپنے اقارب، دوستوں و رشتہ داروں کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات میں ایک دوسرے کے اذہان کو سمجھنے و پرکھنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں اور نفسیاتِ انسانی کو بہتر جاننے کی سعی جاری رہتی ہے، (تعلقات کی بہتات گنجان آبادی میں ہی ممکن ہے، مگر ہر گنجان آبادی میں ضروری نہیں کہ تعلقات کی بہتات ہو اور دسویں نسل تک رشتہ داروں کی لڑی چلتی رہے، چین کی مثال ہمارے سامنے ہے)۔ اس اعتبار سے برصغیر، فارس اور چند دیگر علاقوں نے انسانی نفسیات کے ارتقاء، یعنی کہ فنِ غلامی اور فنِ خوشامد میں اپنا سکّہ منوایا ، اس کے بعد جینیات نے اپنا کردار ادا کیا۔
ہمارے سامنے دو کردار آتے ہیں، ایک صلح جوء مگر بزدل، دوسرا نڈر مگر ظالم، دنیا کی تہذیب کا حقیقی وارث پہلا شخص ہے، ہم بند آنکھوں سے اس شخص کو اپنے مضمون کا ہیرو ماننے کو تیار ہو جاتے، اگر اس شخص کی بزدلی سے انسانوں کے حقوق کے استحصال کا معاملہ پیش نہ ہوتا، یہاں یہ بات بھی زیرِ نظر رہے کہ جب تک صلح جو اور بزدل لوگ رہے، تب تک تہذیب پھلتی پھولتی رہی، مگر جونہی نڈر اور ظالم لوگوں نے اقتدار سنبھالا، تہذیب پچھلے قدموں پر جاتی دکھائی دی، یہاں دو مثالیں پوری جرآت سے پیش کی جا سکتی ہیں، ایک قرونِ وسطی کا اسلامی دور، خصوصاً عباسی دورِ خلافت، مسلمانوں کی تہذیب کا یہ سب سے روشن دور تھا، جب تک کہ نڈر اور ظالم تاتاریوں نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تہذیب کو بھی نہ روند ڈالا، دوسری مثال مغرب میں نشاطِ ثانوی سے پہلے کا نڈر و ظالم دور ہے، جس کا سرپرست چرچ تھا، اس دور میں کسی قسم کی تہذیب کو پنپنے نہ دیا گیا۔
اسی طرح ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہابیت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے افراد، انسانی نفسیات اور تہذیبی خوبصورتی سے زیادہ لگاؤ نہیں رکھتے، یہ بات درست ہے کہ مذہب بزدلی کی تلقین نہیں کرتا، مگر ظلم کی تو کھلی تردید کرتا آیا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ اجتماعی معاشرہ صلح جو و نڈر قرار پائے؟، یعنی کہ ایک خصوصیت تہذیب و نفسیات کے علمبردار (غلام )سے مستعار لی جائے، اور دوسری برتر و نڈر والے کردار(آقا) سے حاصل کی جا سکے ؟یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ کسی بھی مذہب نے غلامی کی کبھی تردید نہیں کہ، صرف غلاموں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے، اسی طرح ارسطو غلامی کا سب سے بڑا حامی تھا کہ غلام امورِ روزمرہ انجام دیتے ہوئے، اعلی اذہان کو زیادہ سے زیادہ غور و فکر کیلئے وقت مہیا کر سکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *