اور جب ان سے کہا جاتا ہے۔۔۔ بلال شوکت آزاد

مجھے مشتعل افراد اور اشتعال سے شدید چڑ ہونے لگ گئی ہے جو وطن عزیز کی ہر اینٹ ہر قالین کے نیچے سے صرف مایوسیاں اور شر تلاش کرکے اس کی تشہیر ہی نہیں کرتے بلکہ عوام کو اکساتے ہیں تاکہ عوام مشتعل ہو کر صرف قانون ہی نہیں بلکہ شرعیت اور انسانیت بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں  اور معاشرہ انسانیت کے بجائے حیوانیت کا نمونہ بن کر رہ جائے۔

فساد فی الارض کی شرائط میں قرآن کی رو سے ویسے تو بہت کچھ ہے پر فقط ایک بات اس وقت ہم پر بطور پاکستانی مسلمان زیادہ لاگو ہوتی ہے کہ ہم   اتنی قربانیوں سے  حاصل کیا گیا  اپنا امن داؤ پر نہ لگائیں۔

مزید اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ

— 2 : سورة البقرة 11۔وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔

اور اللہ فرماتا ہے کہ- 2 : سورة البقرة 12

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾یاد رکھو یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے۔

یہ آیت فسادیوں کا انجام بتانے اور سمجھانے کو کافی ہے,

— 5 : سورة المائدة 33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں ، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے ، یا سولی پر چڑھا دیا جائے ، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، ( ٢٦ ) یا انہیں زمین سے دور کردیا جائے ( ٢٧ ) یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے ، اور آخرت میں ان کے لیے زبردست عذاب ہے ۔

یہ ایک اور آیت آنکھیں کھولتی ہے,

— 7 : سورة الأعراف 56

وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ، ( ٣١ ) اور اس کی عبادت اس طرح کرو کہ دل میں خوف بھی ہو اور امید بھی ۔ ( ٣٢ ) یقیناًًً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے ۔

واللہ یہ آیت تو آج کے موجودہ فتنوں اور منتشر گروہوں پر بالکل فٹ آتی ہے خاص کر پاکستان میں مذہب کی آڑ میں فتووں کے اجراء اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کے خلاف۔

— 7 : سورة الأعراف 86

وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ کُنۡتُمۡ قَلِیۡلًا فَکَثَّرَکُمۡ ۪ وَ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو ، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں ، ان کو اللہ کے راستے سے روکو ، اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے ، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا ، ( ٤٤ ) اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے ۔

یہ آیت ان کے لیئے ہے جو فسادیوں اور شریروں کو نصیحت کرنے میں مگن ہیں پر کوئی سبیل نہیں بن پارہی تو اللہ انہیں بتارہا ہے کہ,

— 9 : سورة التوبة 47

لَوۡ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمۡ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَا۠اَوۡضَعُوۡا خِلٰلَکُمۡ یَبۡغُوۡنَکُمُ الۡفِتۡنَۃَ ۚ وَ فِیۡکُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۷﴾اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تو سوائے فساد پھیلانے کے تمہارے درمیان کوئی اور اضافہ نہ کرتے ، اور تمہارے لیے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں تمہاری صفوں کے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے ۔ اور خود تمہارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے مطلب کی باتیں خوب سنتے ہیں ۔ ( ٤٠ ) اور اللہ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے ۔

اور یہ آیت بھی ناصح لوگوں کی دلجوئی کی خاطر اتری ہے کہ وہ بدگمان اور بد دل نہ ہوں,

— 17 : سورة بنی اسراءیل 53

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾میرے ( مومن ) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو ۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے ۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ ( ٢٨ )

یہ آیت بھی اللہ کا ایک اور انعام ہے کہ ناصح اور حکمت والے لوگوں کو آگاہ کردیا کہ فسادیوں اور شریر لوگوں کا رویہ دراصل کیسا اور کیوں ہے؟

— 27 : سورة النمل 14

وَ جَحَدُوۡا بِہَا وَ اسۡتَیۡقَنَتۡہَاۤ اَنۡفُسُہُمۡ ظُلۡمًا وَّ عُلُوًّا ؕ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾اور اگرچہ ان کے دلوں کو ان ( کی سچائی ) کا یقین ہوچکا تھا ، مگر انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کیا ۔ اب دیکھ لو ان فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ ( ١٦)۔

اللہ امن, صلح اور صفائی اور نصیحت کرنے والے لوگوں کو آخرت میں نوازنے کی بشارت دے رہا ہے اس آیت میں,

— 28 : سورة القصص 83

تِلۡکَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ نَجۡعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فَسَادًا ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۸۳﴾وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں ، اور نہ فساد ، اور آخری انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا ۔

فساد اور شر کے پیچھے کتنا ہی اچھا اور نیک مقصد کیوں نہ ہو, بیشک توحید اور ختم نبوت ص کی ترویج ہی کیوں نہ ہو, اللہ کو قطعی ایسے لوگ اور ایسی تحاریک پسند نہیں جو مسلمانوں کے پرامن علاقوں کا سکون برباد اور غارت کریں اور عامی مسلمانوں کا جینا دوبھر کریں اس زمین پر جس پر اللہ نے ان کو برکت اور ملکیت بخشی ہو اور امن دیا ہو ایک لمبی جدو جہد اور قربانیوں کے بعد, اب یہ آیت تو بلکل واضح کرتی ہے کہ اللہ کو فساد اور شرارت پھیلانے والے لوگ پسند نہیں جن کو باوجود کلمہ گو ہونے کے بھی اللہ پرامن اور ناصح لوگوں کے برابر نہیں کررہا۔

— 38 : سورة ص 28

اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ ﴿۲۸﴾

جو لوگ ایمان لائے ہیں ، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد مچاتے ہیں؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے؟ ( ١٣ )

اور پھر اللہ کریم نے وجہ بھی بتادی کہ کب ہم فساد اور شرارت کا شکار ہونگے, کیسے فتنے ہم پر غالب آئیں گے اور کس طرح ہم ذلیل و خوار ہونگے, جی ہاں ترک جہاد وہ وجہ ہے جو اوپر مذکور مصائب کی وجہ بنے گی۔

— 47 : سورة محمد 22

فَہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَکُمۡ ﴿۲۲﴾

پھر اگر تم نے ( جہاد سے ) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو ۔ ( ١١ )

بیشک بیشک قرآن ہمیشہ سے ترو تازہ ہے اور قیامت تک یہ اسی طرح تروتازہ رہے گا اور ہمیں اسی طرح رہنمائی دیتا رہے گا۔

واللہ جب دل نہایت اداس اور پریشان ہوتا ہے تب میں یوں اللہ سے باتیں کرکے جی بہلاتا ہوں اور واللہ میرا رب میرا سب سے بہترین دوست اور غمگسار ہے جو مجھے ایسے مطمئن کردیتا ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو, اللہ مجھ سے ایسے گپ شپ کرتا ہے جیسے آج میں آپ کے آگے پیش کررہا ہوں کہ میرا اللہ سے صرف اتنا سا سوال تھا کہ

“یااللہ تو ہی بتا کہ ہم کیا کریں اور فساد و شرارت سے کیسے محفوظ رہیں اور جو فسادی اور شرارتی ہیں ان کی پہچان کیسے کریں اور تو ان سے کیسے پیش آئے گا روز آخرت جو تیری زمین پر باوجود تیرے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے امتی ہونے کے تیرے بندوں کا نقصان چاہتے ہیں, ان کا جینا دوبھر کرتے ہیں, فساد برپا کرتے ہیں, اکساتے اور بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں اور جانداروں اور بے جانوں پر ظلم کرتے ہیں کہ ان کا تکبر اور ان کی انا کی تسکین کا بس یہی ذریعہ ہے؟”

تو اللہ نے مجھے سب کچھ بتادیا اور سمجھا دیا جو میں اوپر من وعن بیان کر چکا جیسے مجھے اللہ نے سمجھایا۔

یااللہ تیری رحمت اور محبت کا طالب ہوں بس اسی طرح کرم کیئے رکھنا۔ آمین۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *