رند کے رند رہے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی۔۔۔مسکین جی

عاتکہ کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔آناً فاناً وہ کچھ ہوا تھا جس کے بارے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔وہ ان تاریک گلیوں سے نکل آئی تھی جہاں کسی تاریک گوشے میں وہ پیدا ہوئی تھی، جوان ہوئی تھی اور اسکی جوانی بیچی گئی تھی۔وہ یکدم خود کو آزاد محسوس کرنے لگی تھی۔ اب اگر کوئی اسے چھونے کی کوشش کرتا تو وہ پر پُھلا کر اڑسکتی تھی جبکہ پہلے ہر آنکھ اس کو کانٹا بن کر چبھ جانے کی استعداد رکھتی تھی اور اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ ان آنکھوں کو نوچ لیتی

ان گلیوں میں روز اسکی قیمت لگتی۔ بھاؤ تاؤ ہوتا۔بالآخر وہ اسکی عادی ہوگئی تھی۔رات گزارنا اب اس کیلئے کوئی مشکل امر نہ رہا تھا لیکن یہ بھاؤ تاؤ اسکی انا کو اب بھی گھائل کرتا تھا۔وہ خود کو زنجیروں میں بندھا محسوس کرتی۔اس کے پاس انکار کا آپشن نہیں تھا کہ یک طرفہ رضامندی ہی اس کی رضامندی شمار ہوتی۔ اس ایک انکار کے نہ ہونے سے اسکا دم گھٹتا تھا۔ اسکے دل کو کچوکے لگتے تھے…

لیکن آج وہ سب کچھ قصہ پارینہ بن گیا تھا…آج وہ آزاد پنچھی تھی..وہ زیرِ لب مسکرا رہی تھی..

اسکی آزادی کا سبب چودھری بشیر تھا۔وہ بازارحسن میں چکر لگا رہا تھا کہ یک بیک اس کی نظریں اس پر جا پڑی تھیں اور پہلی ہی نظر میں اسے پسند کر لیا تھا۔وہ پرہیز گار آدمی معلوم ہوتا تھا اس لئے اس نے عاتکہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اسے اپنی نائیکہ سے یہی معلوم ہوا تھا…

اسے کتنے ہی ہاتھوں نے ملکر تیار کیا۔زیورات میں لدی پھندی وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔عاتکہ نئی زندگی کے خواب دیکھ رہی تھی، مستقبل کے سپنے بن رہی تھی.ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا تھا کہ کوئی ان تاریک گلیوں کی  بھول بھلیوں سے نکل جاتا ورنہ اکثر لوگ تو مرتے دم تک ان میں بھٹکتے رہتے…وہ خود کو خوش قسمت سمجھ رہی تھی اور اپنے بخت پر رشک کر رہی تھی۔

رات گزر گئی۔صبح نمودار ہونے لگی۔امیدوں کا سورج طلوع ہورہا تھا۔چودھری بشیر کے چہرے پر فاتحانہ چمک تھی۔وہ چمک اسے ذرا بری نہ لگی کیونکہ یہی تو وہ لمحہ تھا جہاں وہ خود شکست کھانا چاہتی تھی۔عاتکہ اب گھر کے کاموں کیلئے اٹھنا چاہتی تھی۔ ناشتہ تیار کرنا چاہتی تھی، برتن دھونا چاہتی تھی اور چودھری کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔وہ اسکا مجازی خدا تھا اسکے سامنے جھکنا چاہتی تھی..

چودھری اسکے قریب آیا اس کے جسم پر طائرانہ نظر ڈالی اور دھیرے دھیرے بولا
“عاتکہ تم واپس کوٹھے چلی جاؤ… میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں“چودھری کے الفاظ اسکی سماعت پر قیامت بن کر ٹوٹے تھے۔وہ لرزنے لگی تھی۔سپنوں کا تاج محل ایک لمحے میں زمین بوس ہوگیا تھا اور اسکے ملبے سے صرف ایک ہی سوال کی سسک سنائی دے رہی تھی..”کیوں؟آخر کیوں؟ان سب کا مقصد کیا تھا؟“
وہ نائیکہ کی گود میں سر رکھے بیٹھی تھی..اسی نے عاتکہ کو پروان چڑھایا تھا کوٹھے کے آداب سکھلائے تھے، مردوں کو رجھانے کی ادائیں سکھائی تھیں..اس کی آواز دور سے آتی سنائی دے رہی تھی
“عاتکہ!چودھری بشیر مومن بندہ ہے۔اسے حرام کاری قطعاً پسند نہیں..وہ تمہیں اپنے لئے حلال کرنا چاہتا تھا..ایسے اللہ والے لوگ کہاں ملتے ہیں آج کل..اس نے حق مہر بھی پورا ادا کردیا ہے..اور اسی کی بدولت پہلی بار تم بھی حرام کاری سے بچی رہی ہو چاہے ایک رات کیلئے ہی کیوں نہ ہو“
نائیکہ عقیدت سے بول رہی تھی اور عاتکہ سوچ رہی تھی..
“واہ رے مومن چودھری! مجھے تو اپنے لئے حلال کر لیا پر میرے سپنوں کا کیا حساب دوگے جنہیں تم حرام کر بیٹھے ہو“

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *