• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سقوط ڈھاکہ کا ماتم چھوڑیں، بنگلہ دیش کو دل سے تسلیم کریں۔۔۔۔۔ارشد بٹ

سقوط ڈھاکہ کا ماتم چھوڑیں، بنگلہ دیش کو دل سے تسلیم کریں۔۔۔۔۔ارشد بٹ

اگر انتہا پسند ہندو ذہنیت نے پاکستان کی آزادی کو دل سے تسلیم نہیں کیا، تو پاکستان کی انتہا پسند اسلامی ذہنیت نے بنگلہ دیش کی آزادی کو نہ ماننے کا عہد کر رکھا ہے۔ ہر سال اگست اور دسمبر کے مہینوں میں انتہا پسند مذہبی گروہ، نام نہاد ھندو اور پاکستانی قوم پرست سیاسی دکاندار، عاقبت نااندیش دانشور اور خطے میں امن کے دشمن، پاکستان اور بنگلہ دیش کی آزادی پر ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر دو آزاد ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش زندہ حقیقتیں  ہیں۔ جن کو انتہا پسندوں کی سوچ اور رونا پیٹنا صفحہ ہستی سے نہیں مٹا سکتا۔

یہاں سوال بنگلہ دیش کی آزادی پر صف ماتم بچھانے والے عناصر سے ہے۔ بقول کسی کے یہ اس”رنڈی رونے” یا پانی میں مدھانی گھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے پاکستان پلٹ کر ہندوستان نہیں بن سکتا ایسے ہی بنگلہ دیش لوٹ کر پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا۔
شاید ان عناصر کی یاداشت سے مٹ چکا ھو کہ خطبہ الہٰ آباد میں مشرقی بنگال یعنی بنگلہ دیش، علامہ اقبال کے پلان کا حصہ نہ تھا۔ انہیں تو یہ بھی بھول چکا ھو گا کہ قائد اعظم نے ایک آزاد اور خودمختار مملکت متحدہ بنگال قائم کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔ آل انڈیا کانگرس کی قیادت نے ایک آزاد مملکت بنگال قائم کرنے کی مخالفت کر دی تو مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ بن گیا۔
پاکستان کا مشرقی بازو بننے کے صلہ میں مشرقی بنگال کے عوام کے ساتھ حکمرانوں کا برتاو تاریخ کا حصہ ہے۔ قرار داد پاکستان پیش کرنے والے بنگالی راہنما فضل الحق غدار ٹھہرے تو تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے دست راست حسین شہید سہروردی بھی غدار گردانے گئے۔ آزادی کے صلہ میں مادری زبان بنگالی سے محروم کر کے اردو کا تحفہ ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ بنگالی زبان کی حمایت میں احتجاج کرنے والے بنگالی طلبہ کو گولیوں سے بھونا گیا۔ بنگالی عوام کی اکثریت کو آئینی ہیرا پھیری سے مغربی اور مشرقی پاکستان میں برابری کے نام پر اقلیت بنا دیا۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے بنگالیوں سے امتیازی سلوک اور نفرت کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

بنگلہ دیش کی آزادی پر صف ماتم بچھانے والوں کی یاداشت کو مزید جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اکثریتی آبادی والے صوبے”مشرقی پاکستان” میں کس ریاستی یا حکومتی ادارے کا مرکزتھا۔ بری افواج، ایئر فورس، بحریہ۔ ان میں سے کس فورس کے ہیڈ کواٹر ڈھاکہ میں تھے۔ مسلح افواج میں بنگالی عوام کی کتنے فیصد نمائندگی تھی۔ کتنے جنرل، ائر مارشل، ایڈمرل بنگالی تھے۔ اکثریتی صوبہ کی حفاظت کے لئے 1965 کی جنگ کے دوران کتنی فوج متعین تھی، صرف ڈیڑھ بریگیڈ۔ اسلام آباد میں براجمان سول افسر شاہی میں کتنے فیصد بنگالی افسر شامل تھے۔ سیکریٹری سطح کے کتنے افسر بنگالی تھے۔ کیا سٹیٹ بینک یا کسی اور ریاستی مالیاتی ادارے کا صدر دفتر ڈھاکہ میں تھا۔ حکومتی اعلیٰ عہدے صدر، وزیر اعظم یا ان کی کابینہ کا مرکز کہاں تھا۔ کراچی، اسلام آباد یا ڈھاکہ میں۔ مختصر یہ کہ مرکزی ریاستی اور حکومتی اداروں میں بنگالی عوام کو آبادی کی بنیاد پر نمائندگی سے محروم رکھ کر کس نظریہ پاکستان، اسلامی اور قومی یکجہتی کو پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ ملک کے مغربی حصے میں اقتصادی، سیاسی اور طاقتور ملٹری اور سول اداروں کے ارتکاز سے بنگالیوں میں محرومی اور محکومی کے احساس کے علاوہ کیا پروان چڑھ سکتا تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی پر ماتم پربا کرنے، اسلام، نظریہ پاکستان اور حب الوطنی کا درس دینے والے عناصر ان حقائق کو کیسے مسترد کر سکتے ہیں۔

کیا اسلام، نظریہ پاکستان اور حب الوطنی کے نام پر ایک خطے کو کالونی اور ایک قوم کو غلام بنانا جائز تھا۔ غلام عوام کی آقا قوم کے خلاف بغاوت کو کیا نام دیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کو سقوط ڈھاکہ کہنے سے اجتناب برتا جائے۔ اب تاریخی حقائق سے آنکھیں چرانے اور تجاہل عارفانہ سے کام نیہں چلنے والا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کو دل سے مانیں ورنہ اس بات میں کیا وزن رہ جائے گا کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *