مولانا طارق جمیل صاحب تنقید کی زد میں ۔۔۔۔وقاص اقبال

سوشل میڈیا   وُہ جگہ ہے جہاں اکثریت آپ کو کیبورڈ کے مجاہدین سے بھری ملے گی جن کا من پسند مشغلہ نُکتہ چینی کا ہوتا ہے جو کردار اکثر گلی محلے کی پھپو ادا کرتی ہیں اُس ہی کام کو سرانجام دینے ہمارے مجاہدین اپنی اپنی نشست سنبھالے بیٹھے ہیں اسے بدقسمتی کہیں یا پھر علم و شعور کی کمی ہر ایک اپنا دامن بچانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے خواہ وہ مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہو یا میڈیا سے، کرکٹر ہو یا سیاستدان ہر شخص غیر محفوظ  ہے۔ آج کل مجاہدین کی توپوں کا رخ مشہور و معروف عالم دین مولانا طارق جمیل صاحب کی جانب ہے جس کی وجہ گورنمنٹ کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں شرکت کرنا تھا جس کے بعد مخالفین کی جانب سے تنقید کے تیر برسنا شروع ہوگئے اور یہ حادثہ حضرت کے ساتھ نیا نہیں ہے ،وقت میں کچھ پیچھے چلے جائیں تو محترمہ کلثوم نواز مرحومہ کی نمازِ جنازہ پڑھانے پر بھی انہیں ایسی ہی کچھ مشکلات کا سامنا  تھا، اور مزے کی بات جو لوگ آج مولانا کی واہ واہ  میں مصروف ہیں وہی لوگ اُس وقت مولانا کو کوس رہے تھے حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے تو مولانا کے ایمان پر بھی خدشہ ظاہر کر دیا تھا (نعوذ باللہ) اور آج مولانا کو جن کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا یہی لوگ اُس وقت مولانا کے سب سے بڑے حمایتی تھے۔اور تنقید کرنے والوں میں اکثریت اُن لوگوں کی ہے جنہوں نے اِس موضوع پر مولانا کا بیان ہی نہیں سنا مولانا طارق جمیل صاحب نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے فرمایا”آبادی سے بڑا مسئلہ کم علمی ہے”۔
مولانا نے کہا کہ یہ تقریب اسلام آباد میں ہو رہی ہے جبکہ یہ مسئلہ پاکستان کے دیہاتوں کا ہے، وہاں اس آبادی کنٹرول پروگرام سے زیادہ اہم مسئلہ علم کی روشنی کو عام کرنا ہے،
(اسطرح مولانا نے آبادی کنٹرول پروگرام کی بھی نفی کر دی)
انہوں نے فلاحی ریاست کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی روشنی میں تین نکاتی فارمولا پیش کیا،
اول :امن و امان،
دوم : رزق و معاش کی فراوانی
اور سوم : تعلیم و تربیت۔۔۔۔۔
(اس طرح لطیف اسلوب میں انہوں نے “برتھ کنٹرول پروگرام” پر تنقید بھی کر دی، )
مولانا نے بڑے خوبصورت اسلوب میں انسانی تخلیق کے ایک مرحلے میں قدرت کی کارفرمائیوں کا ذکر کر کے شاید اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ کیا کہ جس انسان کی تخلیق ،قدرت کو مقصود ہو اسے تم کیونکر روک سکتے ہو!۔۔۔۔۔۔۔
بعض حضرات نے اس طرح کی تقریب میں مولانا طارق جمیل صاحب کے جانے پر اعتراض کیا ہے،
حقیقت جانے تو یہ مسئلہ کسی ایک مخصوص شخص یا جماعت کا نہیں یہ مسئلہ پورے معاشرے کا ہے ہر ایک چاہتا ہے کہ سامنے والے کہ منہ میں زبان بھلے اُس کی ہو پر الفاظ میرے ہوں ذہن اُس کا ہو اور سوچ میری ہو جو کہ نا مُمکن ہے ہم اپنی پسند نا پسند کسی پر مسلط نہیں کر سکتے سیاست میں سیاسی تنقید کچھ حد تک سمجھ آتی ہے پر تنقید کے زمرے میں کسی ایسے شخص کو لانا جس کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہو وہ شخص جس نے زندگی کا ایک مخصوص وقت دینِ اسلام کی تبلیغ میں وقف کردیا ہو جس کی محنت اور کاوشوں سے کئی نوجوانوں کی زندگیاں تبدیل ہوئی ہوں اُس کی ذات پر کیچڑ اچھالنا اُس کے ایمان کو ٹٹولنا سرا سر بیوقوفی اور جاہلیت ہے خُدارا وہ تمام شخصیات جو دین کا کام فرقہ واریت اور لسانیت کو بالائے طاق رکھ کر کر رہیں ہیں اُنہیں سیاست سے جوڑنا اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا بند کریں اور اِن کے ایمان کا جائزہ لینے کے بجائے تنہائی میں اپنے ایمان پر ایک نظر ڈالیں اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین شُکریہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *