نکسل باڑی، جو مر نہ سکا!!

”نکسل باڑی مرا نہیں ہے اور نہ ہی اسے کوئی مار سکتا ہے، سینکڑوں نکسل باڑی پورے ہندوستان میں پھٹنے کو تیار ہیں“
یہ الفاظ عظیم کمیونسٹ راہنما اور نظریہ دان چارو مجمدار نے اپنی شہادت سے پہلے کہے۔نکسل باڑی تحریک جس کے بارے میں ہندوستان کے وزیراعظم نے اسے اندرونی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔اس تحریک کا پس منظر تلیگانہ کی مسلح کسان تحریک سے جا ملتا ہے، جو شروع تو جاگیرداروں کے خلاف کسان جدوجہد سے ہوئی تھی مگر پھر یہ پورے نظام شاہی استحصالی سرکار کے خلاف عوام کی تحریک بن گئی۔

اس تحریک کا آغاز ایک مسلمان عورت کی جاگیردار کے گماشتوں کے ہاتھوں آبروریزی سے ہوا، اس خاتون کو بے آبرو کرنے کے بعد اسے اور اس کے شوہر کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے نظام شاہی حیدرآباد میں پھیل گئی اور جاگیرداروں کے خلاف کسانوں نے ہتھیار ۔۔۔ لاٹھی، بھالے، ہل اور تلواریں جو ہاتھ لگا اٹھا لیا اور جاگیرداروں کے گھروں پہ حملہ کردیا گیا۔ اس تحریک کو منظم کرنے میں آندھرا مہا سبھا اور کمیونسٹ پارٹی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ جاگیرداروں کے دفاع کے لیے نظام شاہی حکومت نے رضا کاروں اور ریاستی پولیس کو بھیج دیا۔جس سے یہ جنگ ریاست مخالف جنگ میں تبدیل ہوگئی اور نظام شاہی سرکار کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اس تحریک کے حاصلات یہ ہوئے کہ 2500 گاؤں پر مشتمل کمیونز تشکیل دیے گئے۔ بے زمین کسانوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں اور جاگیرداروں کو ہر طرح سے زمین سے محروم کردیا۔ بعد میں انڈین سرکار نے حیدرآباد پہ قبضے کے بعد اس کمیون سسٹم پہ شب خون مارا اور اسے خون میں نہلا دیا۔ یہ تحریک کسانوں کی تمام تحریکوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی۔

1964 میں کمیونسٹ پارٹی میں تقسیم ہوئی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ تشکیل پائی، سی پی آئی ایم پارلیمانی طریقہ کار سے انقلابی جدوجہد پہ یقین رکھتی تھی اور الیکشن میں حصہ لینے کی حامی تھی۔1966 میں اس کی ترمیم پسندانہ پالیسیوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جنوبی ہند اور بنگال اوڑیسہ کے کمیونسٹوں نے سلیگری گروپ تشکیل دیا۔ اس گروپ کی اعلٰی قیادت میں چارو مجمدار، جنگل سنتھل، کانو سانیال، تربھینی کانو، سبحان، علی گورکھا اور تلکا ماجھی تھے۔یہ لوگ چیئر مین ماو زے تنگ کے فلسفہ عوامی جنگ پہ یقین رکھتے تھے۔ 1966 میں سلیگری گروپ نے کسانوں میں شدومد سے کام کرنا شروع کردیا،اور کسان کمیٹیوں کی تشکیل کا کام شروع کردیا۔ اسی سال کسانوں کا کنونشن ہوا جو مسلح انقلاب کے لیے ایک سگنل کی مانند تھا۔اسی کنونشن کے بعد انقلابی کسان کمیٹی تشکیل پاگئی۔ 3 مارچ 1967 کو نکسل باڑی کے مقام پہ بے زمین کسان نے ایک احاطہ زمین پہ قبضہ کرلیا اور اس کے گرد سرخ سوشلسٹ پرچموں کی چار دیواری تشکیل دے دی۔ جتے دار یا جاگیرداروں نے اپنے مسلح گرگے کسانوں سے لڑنے کے لیے بھیجے مگر کسانوں نے ان کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ ترمیم پسند یونا ئیٹڈ فرنٹ کی سرکار نے بے زمین کسانوں کو زمین کی اصلاحات کا لولی پاپ دینے کی کوشش کی لیکن انقلابی کمیٹی نے اس کا جواب ایسے دیا کہ کسان پنچائیتیں تشکیل دی جانے لگیں اور جتے داروں کی زمینوں پہ قبضہ شدومد سے ہونا شروع ہوگیا۔ ترمیم پسندوں کو دکھانے کے لیے سلیگری سب ڈویژن میں ایک شاندار عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا جس میں سرخ پرچموں کے سائے میں کسانوں کے لبوں پہ ایک ہی نعرہ تھا ”آگے بڑھو مسلح کسان انقلاب کی جانب“۔

ترمیم پسندوں پہ سکتہ طاری تھا۔ اصل تصادم کی ابتدا اس وقت ہوئی جب کھیری باڑی کے رہائشی بے زمین کسان بگل سنتھل کو مقامی جاگیردار کے گرگوں نے بےدردی سے مارا اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا۔ اس واقعہ پہ کسان کمیٹی کی پنچائیتوں کی ہنگامی کانفرنس منعقد ہوئی اور زمینوں کی اصل حق داروں کی طرف واپسی کے عمل کو شروع کرنے کا متفقہ فیصلہ ہوا۔ شدید تناؤ کی فضا قائم ہوگئی۔ عوامی عدالتیں معرض وجود میں آچکی تھیں جو فیصلہ دینے میں خود مختار تھیں۔ جاگیردار علاقہ چھوڑ کر فرار ہوگئے اور ان کے اسلحہ پہ مزدوروں اور کسانوں نے قبضہ کرلیا۔ ترمیم پسند جیوتی باسو جو بورژاوازی کے اک گماشتہ کے سوا کچھ نہیں تھا اس نے پولیس ایکشن کا حکم دیا۔ 25مئی کو اس حکم کی وجہ سے 9 عورتیں اور بچے شہید ہوگئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایکشن ایک پولیس انسپکٹر کے قتل کا شاخسانہ تھا۔

جون کے مہینے میں یہ مسلح کسان انقلاب اور شدت اختیار کرگیا اور نکسل باڑی، کھیری باڑی اور پھانسیدوا کے علاقے مزدوروں اور کسانوں کے دیسی اسلحہ کی کھنک سے گونجنے لگے۔ مزدوروں اور بے زمین کسانوں نے جتے داروں کو نکال باہر کیا اور ساری زمین کو برابری کی بنیاد پہ تقسیم کردیا، چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدور بھی ان کی مدد کو آن پہنچے۔ مگر 19جولائی کو نیم فوجی دستے علاقہ میں پہنچ گئے سینکڑوں لوگوں کو شہید کردیا گیا، ہزاروں زخمی تھے، اور ہزاروں ہی غائب کردیے گئے۔ کمانڈر کامریڈکانو سانیال اور سنتھل قبیلے سے کامریڈ جنگل سنتھل گرفتار ہوگئے، کامریڈ چارو مجمدار زیر زمین چلے گئے، کامریڈ علی گورگھا، کامریڈ سبحان، کامریڈ تلکا ماجھی اور کامریڈ تریبھینی کانو کو بےدردی سے شہید کردیا گیا۔
مگر نکسل باڑی مرا نہیں تھا اور نہ ہی عوامی جدوجہد کو طاقت کے بے دریغ استعمال سے پسپا کیا جاسکتا تھا۔ یہ تشدد بھی اس تحریک کو تاریخ میں دوام بخشنے کا ایک بہانہ تھا۔

28 جون 1967 کو ریڈیو بیجنگ سے نشر ہوا کہ ”ہندوستان کے ضلع د ارجلنگ میں کسانوں کے مسلح انقلاب کا آغاز ہوگیا جس کی قیادت بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے انقلابی کررہے ہیں، یہ بھارتی عوام کی انقلاب کے لیے زبردست چاہ کا اظہار ہے“۔ادھر کلکتہ میں ترمیم پسندوں کے اپنے ساتھی جو ان کی حکمت عملیوں سے متنفر تھے۔ انہوں نے زبردست کمپین شروع کردی اور پورے کلکتہ میں ایک ہی نعرہ گونجنے لگا ”قاتل اجے مکھرجی استعٰفی دے“۔کلکتہ کی  دیواریں ترمیم پسندوں کے خلاف جذبات سے بھرگئیں۔ ادھر بھی شدید ایکشن ہوا اور ترمیم پسندوں نے اپنی پارٹی سے بڑی تعداد میں ایسے کامریڈوں کو نکال باہر کیا جو نکسل باڑی کی حمایت میں کھڑے تھے۔ دارجلنگ اور سلیگری ڈویژنز کمیٹیاں تحلیل کردی گئیں اور کلکتہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ پولیس ایکشن بھی ہوا اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ سرمایہ داروں نے ترمیم پسندوں کے ساتھ مل کر مسلح انقلاب کو پامال کرنے کی کوشش کی اور پھر خوشیاں بھی منائیں کہ نکسل باڑی مر گیا۔ اس کی موت ہوگئی ہے۔

مگر نکسل باڑی مرا نہیں تھا اور نہ ہی مرسکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سری کاکولم، ہندوستان کا ینان بھی وجود میں آیا۔ جہان دو اساتذہ نے کسانوں کے مسلح انقلاب کو برپا کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بربھوم آندھراپردیش، لکھم پور اور کھیری اترپردیش، گوپی اور بلاوو پور اوڑیسہ، مشاہری بنگال کی یہ تمام تحریکیں نکسل باڑی سے ہی متاثر ہو کر وجود میں آئیں۔دکھشن دیش نامی ماو اسٹ گروپ نے بہار میں ماواسٹ کمیونسٹ سنٹر آف انڈیا تشکیل دیا،اور آندھراپردیشں میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ لینن اسٹ پیپلز وار گروپ عوامی جنگ لڑنے میں مصروف تھا۔ آخرکمیونسٹ راہنماؤں کے باہمی اتفاق کی بنا پر مذاکرات ہوئے اور 2004 میں ماواسٹ کمیونسٹ سنٹر اور پیپلز وار گروپ کا اتحاد تشکیل پا گیا، اور اتحاد کا نام کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماواسٹ رکھا گیا۔ اور کامریڈ کشن جی کو اس کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ ایک تخمینہ کے مطابق اس کے ریگولر ممبران کی تعداد ایک لاکھ ہے، اور کیڈرز بیس ہزار سے زائد ہیں۔
آج یہی نکسل وادی بھارتی ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ فکر چارو مجمدار کو زوال نہیں آیا۔ وہ زندہ ہے اور انقلابیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آج نکسل وادیوں کا انڈیا کے 632 اضلاع پہ غیر سرکاری طور پہ کنٹرول ہے اور ریاست ان کے خلاف بے بس ہے، کیونکہ پسماندہ طبقات، دلتوں، آدھی واسیوں اور قبائیلیوں کی مکمل حمایت ان کے ساتھ ہے۔

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *