گھٹیا افسانہ نمبر 10۔۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

“آپ بہت عجیب گفتگو کرتے ہیں بائی  دا وے”
“مطلب کیسے”
“مجھے لگتا ہے کہ آپ کے آرگومنٹس بہت چھوٹے اور عجیب طرح کے ہوتے ہیں”
“چلیں کوئی مثال ہی دے دیں حضور”
“مثال کیا دوں سب کچھ آپ کے سامنے ہے آپ لمبی لمبی بحث شروع کر دیں گے آپ سے باتوں میں جیتنا ممکن نہیں ہے سب یہی کہتے ہیں”
“سب کی چھوڑیں اپنی اپنی بات کر لیتے ہیں”
“سر یقین کریں میں بحث نہیں کرنا چاہتا سیریسلی”
“اب تک ہوئی گفتگو میں دیکھ لیں کس کا کہا فقرہ سب سے طویل تھا”

گھٹیا افسانہ نمبر 9۔۔۔فاروق بلوچ
“مطلب آپ کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے ہر بات کی وجہ ہوتی ہے ہم چپ ہو جاتے ہیں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سمجھ نہیں رہے یا آپ کی بات سے متفق نہیں ہو گئے ساری دنیا تم پہ باتیں کرتی ہے، یار میں کوئی تمہارا دشمن نہیں”
“تم مجھ پہ الزام لگانے جا رہے ہو مجھے ایک مثال پوچھنے پہ طویل بحثوں کا شوقین کہہ رہے ہو”
“سر مجھے یہ بتائیں کہ پوری دنیا بیوقوف ہے صرف آپ سمجھدار ہیں”
“جی بالکل”
“بس پھر بحث ہی ختم جب دنیا ساری کھوتے کی بچی اور آپ سمجھدار ترین فرد ہیں، قصوروار بھی ہم ہیں”
“صہیب کیسی گفتگو کر رہے ہو، میں نے تو بحث شروع ہی نہیں کی ختم بھی تم کر رہے ہو”
“سر مان لیا آپ کا کوئی قصور نہیں، قصوروار ہے ساری کی ساری دنیا”
“میرا قصور یہ ہے کہ مڈل کلاسیا ہوں کوئی آگے پیچھے ہے نہیں اوپر سے بولتا بھی بہت ہوں”
“یہی بعینہ    وجہ ہے کہ تم وہ بھی بولتے ہو جو دوسرے نہیں بولتے تمہارا  مذاق بھی لوگ سیریس لیتے ہیں”
“تو اِس میں میرا کیا قصور”
“یار سمجھنے کی کوشش کرو”
“یار صہیب میں نے کبھی کہا کہ لوگ بیوقوف ہیں میری بات نہیں سمجھتے، اب لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تو تم مجھے کیوں لتاڑ رہے ہو”
“یہی باتیں تو عجیب ہیں”
“آپ کے گھر بندے ساری رات بیٹھے رہے وہ جانے سے قطعی منکر تھے وہ اپنے پیسے لیکر اٹھتے اگر میں وہاں نہ ہوتا، لیکن میں نے تو آپ کو کوئی گلہ طعنہ یا مذاق نہیں بنایا لیکن آپ کو میرے حالات کہ بہت فکر ہو رہی ہے، آپ کی بیوی کی تصاویر ایک فیک فیس بک آئی ڈی نے شیئر کر دیں، میں نے ہی وہ آئی ڈی ہیک کروا کر وہ سب چھپایا، کیا کسی کے سامنے یا آپ کے سامنے ذکر کیا، نہیں کیونکہ میں بدلحاظ نہیں ہوں، کیا میرے معاملات آپ کے معاملات سے زیادہ پیچیدہ ہیں، کیا آپ کو کسی نے کہا ہے کہ آپ میرے حالات کو سلجھاؤ، آپ دراصل غلط گفتگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں”
“میں ایسے کوئی بےبنیاد بات کیوں کروں گا”
“آپ کا دماغ نیچے نہیں آ رہا، آپ کے پاس دس آنے آ گئے ہیں آپ نے ہزار سی سی خرید لی ہے، آپ یا تو اپنی کم فہمی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں یا پھر اپنے رتبے میں پیسوں کی وجہ سے اضافہ کرنے کے لیے مجھ پہ حاوی ہونے کی حرکت کر رہے ہیں”
“مرضی ہے یار”…. میں نے روک دیا ہے. صہیب کی بلاوجہ واٹ لگ جانی ہے، میں نے پھر بتا دینا ہے بڑا آیا مرضی بتانے والا… مجھے کسی کے مسئلے سے کوئی سروکار نہیں ہے، لوگ کیا ہیں لوگ کیسے ہیں لوگ کیوں ہیں لوگ کہاں ہیں، مجھے کیا پڑی ہے، ہر بندہ اپنا ذمہ دار ہے، مجھے ایسے  بلاوجہ کسی کا ماما چاچا بننے کا کوئی شوق نہیں، لیکن بہتوں کو بہت شوق ہوتا ہے، اپنی سُوپرمیسی جگانے کا یا پھر دوسروں کو جھکانے کا… لیکن میری حالت  ذرا مختلف ہے، اَپُن نہ تو کسی کو بڑا مانتا ہے اور نہ کسی کے نیچے لگتا ہے. اپنا کھاتا ہے، اپنا پہنتا ہے، اپنا پیتا ہے، پھر کس لیے کسی کو معشوق یا مالک بنایا جائے. مجھے جو میری اوقات بتائے گا تو خاموش رہوں گا، تنگ کرے گا تو سنوا دوں گا، مزید تنگ کرے گا تو پھاڑ دوں گا. صہیب میرے اصول سے واقف ہے لہذا میرے کہنے پہ موضوع بدل گیا ہے. بات بھی ٹھیک ہے، تم کون سا مجھے پال رہے ہو جو تمہارے سوالوں کا جواب دیتا رہوں.

میں سال کی پینتالیسویں اور رواں ہفتے کی تیسری لڑائی کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں. ایویں بےبنیاد بحث اور پھر لڑائی اور پھر بلاک….. نئی تڑیاں نئے معاہدے نئی شرائط کے ساتھ دوبارہ شروع…. مجھ سے نہیں ہو رہا یہ سب مگر مسرت اڑی بیٹھی ہے. مجھ سے سوال کیا کہ بھلے محبت غیر مادی نہیں لیکن یہ ایک ایسی مادی چیز ہے جسے کے لیے ہم چند مخصوص افراد پر ہی انحصار کرتے ہیں. اسے کیا نام دیں گے. میرا خیال ہے مختصر سا جواب دیکر جان چھڑوا لوں. میں نے کہانی ڈالی کہ دو ضرورتوں کا نام محبت ہے. بس تڑپ اٹھی ہے. اپنے کھودے کنویں میں جا گرا ہوں. مجھے کہتی ہے اچھا بھائی پھر آپ اگلے ہفتے مت آئیں اور اپنی ضرورت کہیں اور سے پوری کرنے کی کوشش کریں. لخ لعنت میری کہاں کی بات کو کہاں لے گئی ہے. اب نئی مصیبت…. میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ دوسرا کہیں سے محبت والی ضرورت پوری نہیں ہو رہی، بار بار پوچھا ہے، مارکیٹ میں مندی ہے. میں نے جان بوجھ کر  ذرا مصالحہ لگا دیا تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہو اور میں موضوع بدل لوں. کہتی ہے جب طلب ہو گی تو رسد بھی بڑھ جائے گی. مارکیٹ میں گھومتے رہیں. اب کیا کہوں اسے. بہرحال جواب تو دینا ہے تسلی تو کروانی ہے. کچھ تفصیل سے سمجھانا پڑے گا اب کہ رسد تو ہوتی ہے. بلاشبہ ہوتی ہے. اب تم چھوڑ جاؤ گی تو میں بھی سب کچھ چھوڑ دوں گا. اب کوئی تمنا باقی ہی نہیں. کسی کی ضرورت اب رہی نہیں. سچ کہہ رہا ہوں مسرت. دوسرے تعلق بنا کر کیا ملے گا. کیا رہتا ہے جو دیکھنا ہے. لگتا ہے میری بات اثر کر جائے گی. مگر کہنے لگی کہ ضرورت ہوتی ہے مسٹر ایک مہینہ انتظار کرو. خودہی تلاش کرنے نکل پڑو گے کہ اب کوئی ہونا چاہیے. کاش واٹس ایپ پہ یہ دو نیلے نشان نہ لگتے تو میں نے موبائل کا ایئرپلین موڈ آن کر دیتا.

“کیا حال ہیں”، میری توجہ ڈرائیونگ پہ مرکوز ہے، آج رش روٹین سے زیادہ ہے. اب بارہ ربیع الاول پہ ایسا رش تو ہوتا ہی ہے. خیر کار آہستہ آہستہ آگے بڑھانے کی کوفت طاری ہو رہی ہے، میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے انیلا کے ساتھ یوں کار میں دیکھ لے.
“ٹھیک ہوں کوئی لفٹ ہی نہیں آجکل کیا چکر ہے”، انیلا ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھتے بیٹھتے بول رہی ہے، کپڑے درست کرکے اب مجھے دیکھ رہی ہے مگر میرا چہرہ بدستور سڑک پہ ہے.
“اچھا ہوں، بس گزر رہی ہے یار، وقت ہی نہیں ملتا، ویسے کہاں جا رہی ہو”، کیونکہ مجھے تو یہ ایویں سڑک کے کنارے کھڑی مل گئی ہے.
“جہاں لے جاؤ”
“نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے”
“ابے چل میرا دل امڈ رہا ہے قسم سے جَل رہی ہوں”
“نہ جگہ ہے نہ وقت ہے نہ موڈ ہے، انیلا میں نامرد ہوتا جا رہا ہوں”
“رہنے دو تم نہ بوڑھے ہو سکتے ہو نہ ہی نامرد”
“اچھا اب بتاؤ بھی”
“یار مجھے ہزار تو دے دو قسم سے حالات ٹائٹ ہیں”
” تمہارے حالات کیوں ٹائٹ ہیں، ابھی کسی کو ہاتھ دے ہزار کیا دو ہزار کما لے”
“ہزار کوئی نہیں دیتا تم دو کی بات کر رہے ہو”
” آج کل تو بازار میں رش بھی بہت ہے”
” یار میرا بیٹا ہسپتال میں ہے پچھلے دو ماہ سے، پِتے میں پتھری پڑ گئی ہے، چھ ملی میٹر سے کچھ زیادہ ہے، پتھر کی نوک لگنے کی وجہ سے جگر زخمی ہو گیا ہے اور پیپ پڑ گئی ہے، قسم سے کل میں نے گیارہ بندے بُھگتائے ہیں تب جا کر اُس کے ٹیسٹوں کے نو ہزار ہو سکے تھے، مجھے کم از کم ایک لاکھ روپے ان پندرہ دنوں میں چاہئیں اگر سو بندے بھی بھگتا لو پھر بھی لاکھ نہیں ہونا”
” کس ڈاکٹر کے پاس ہے تیرا بیٹا”، میں نے کہانی ڈالی ہے.
“ڈاکٹر، وارڈ بوائے، اٹینڈنٹ، فارمیسی اور لیبارٹری والے سب کو بھگتا چکی ہوں، ہنڑ ہزار دیندا ایں یا میں جاواں”، اُس نے ڈاکٹر کا نام بتا کر ساری کہانی سنا دی ہے. میں نے ہزار دیکر اُس کو اتار دیا ہے. میری کار سیدھا کلینک میں داخل ہو چکی ہے. انیلا کے بتائے ہوئے بیڈ نمبر پہ بتائے ہوئے نام کا گیارہ بارہ سالہ بچا ڈھیر ساری نالیوں میں الجھا بےہوش پڑا ہے. ساتھ ایک ملگجی رنگ کا ادھیڑ عمر بندہ بیٹھا ہے شاید انیلا کا خاوند ہو. مجھے انیلا کے ساتھ ہونے والی گفتگو یاد آ رہی ہے.

” تمہارا بیٹا ہسپتال میں زندگی موت کی جنگ لڑ رہا ہے اور تم میک اپ کر کے پھر رہی ہو”
” جی سیال صاحب یہ میک اپ گاہکوں کے لیے کیا ہوا ہے”
” بہت ظالم ہو یار”
” ظالم میں نہیں ہوں یہ مرد ہیں”
” مطلب کیا ہے؟ تم خود جاتی ہو وہ کون سا زبردستی تمہیں لے جاتے ہیں، ہزار نہیں تو کچھ نہ کچھ تو دیتے ہوں گے”
“اُن کو بیمار بیٹے کی ماں میک اپ کے بغیر عورت نہیں چاہیئے، اُن کو اپنے پیسوں کا بہترین بدلہ چاہئیے، مزے کرواتی ایک میک اپ والی عورت چاہیے”.۔۔۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *