گھٹیا افسانہ نمبر 9۔۔۔فاروق بلوچ

مجھے تین سال سے مفت کھانے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ اب تردد کرنے کو جی نہیں چاہ رہا. وزیر وہ بھی سینئر وزیر کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا کما لیتا ہوں کہ گھر کا خرچ کھلے ہاتھ سے چل رہا ہے. اُن کی پریس کانفرنس کے مندرجات سے لیکر کوئی بھی ایونٹ کی پلاننگ تک، الیکشن کمپین سے لیکر اُن کے قانونی کاغذات تک صرف میری رسائی اور مشاورت چلتی ہے. آج کہنے لگے کہ یونیورسٹی میں کرپشن بارے کوئی فنکشن ہے. بڑے بڑے لوگوں کو بےعزت کرنا ہے. بچے جذباتی ہو رہے ہیں آج کل، لہذا اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی بہت بےعزتی کرنا تاکہ ہماری اپنی جان چھوٹی رہے. ہمارے وزیر ملک میں اچھی شہرت، صاف دامن اور سنجیدگی کی وجہ سے مشہور ہیں. میں نے بھی کافی دیکھ بھال کر تقریر بنائی ہے. لیکن یہ والا حصہ تو اخیر ہے. اِسے کہتے ہیں جامع اور واضح موقف… وزیر صاحب بھی تمام کچھ کہتے ہوئے نہیں جھجھکے. میں لفظ بہ لفظ زیر لب وزیر صاحب کی ادائیگی پہ غور کر رہا ہوں. میں خود اپنے لکھے پہ عش عش کر اٹھا ہوں کہ “ایک بات ذہن نشین کر لیجیے کہ کرپشن اور کالے دھن میں آبادی کا بالائی حصہ ہی ملوث پایا جاتا ہے. کرپشن کا اکثریتی حصہ آبادی کے بالائی تین فیصد کی جیب میں جاتا ہے. اگر ہم کالے دھن کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے شہری ملازمین، تاجروں، پیشہ ور افراد اور صنعت کاروں کے پورے طبقے کو شامل کر لیں تب بھی یہ معاشرے کی آبادی کا تقریباً بالائی 15 فیصد پر مشتمل ہو گا. پاکستانی آبادی کے زیریں دس فیصد کے پاس چار فیصد اور بالائی دس فیصد کے پاس تیس فیصد دولت کا ارتکاز ہے. بعینہ یہی شرح کالے دھن اور کرپشن کی ہے.

ایک اہم بات، جس کو ثابت کرنا اور جھٹلانا بہرحال ناممکن ہے، کہ کرپشن اور حکمران اشرافیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے. میں نے بھکر میں سڑکیں بنانے والے ایک ٹھیکیدار سے پوچھ لیا کہ آپ نے اتنی بیکار سڑکیں کیوں بنائی ہیں، سڑک بننے کے دو ماہ بعد ہی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. ٹھیکیدار نے مجھے بتایا کہ ٹھیکے کی مالیت کے چار حصے کیے جاتے ہیں، ایک حصہ ایم این اے لے جاتا ہے، دوسرا حصہ سینیٹر لے جاتا ہے، تیسرا حصہ محکمہ کو دینا پڑتا ہے اور چوتھا حصہ مجھے ملتا ہے جو سڑک بنانے کے ساتھ ساتھ میرا منافع بھی پورا کرتا ہے. اِسی طرح انڈیا کے راجیو گاندھی کا قول بھی بہت مشہور ہے کہ انڈیا میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص بجٹ کا صرف 14 فیصد خرچ ہوتا ہے بقایا 86 فیصد بہت سے لوگوں کی جیبوں کو بھرتا ہے”. نوجوان طلبا طالبات سینئر وفاقی وزیر کے جرات مندانہ موقف پہ تالیاں بجا رہے ہیں. ساتھ بیٹھے ہوئے طالب-علم نے مجھے ابھی کہا ہے کہ بندہ تو دلیر ہے. ایسے ہی لیڈروں کی ضرورت ہے. یقین کریں بھئی ایسے دس بندے پیدا ہو جائیں ہمارے ملک کے حالات بدل جائیں گے. یقین کریں ایک بندہ آتا ہے پورے ملک کو سدھار دیتا ہے.

مجھے چھٹا گھنٹہ ہو چلا ہے بلوچستان کانفرنس کی کوریج کرتے ہوئے. بلوچوں کے بڑے دانشور اور سیاستدان بھی ہیں، ایک دو صحافی اور ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب بھی ہیں، میں تقریباً سبھی مقررین کی تمام گفتگو کی کوریج کر چکا ہوں. مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی. کون صحیح ہے کون غلط ہے. ابھی کھانے کا وقفہ ہے. بس آخری سیشن باقی ہے جس میں کوئی شاعری واعری ہو گی. مجھے ابھی لاہور بھی واپس جانا ہے. بیوی کو شاپنگ بھی کروانی ہیں. سردیاں آ رہی ہیں، اماں کے لیے شالیں خرید لوں گا. اِن تصاویر میں بلوچ عورتوں کی شالیں کیسی پیاری پیاری تھیں. ویسے بچیوں کی روتی ہوئی تصویری جھلکیاں بچوں کے باپوں کے لیے پریشان کن تھیں. لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ یہ بلوچستان کا ایشو ہے کیا آخر؟ ابھی کچھ دیر پہلے کوئٹہ میں لڑکیوں کی روتی ہوئی تصویریں دیکھائی گئیں. یہ کیا رنڈی رونا لگا رکھا ہے؟ روز نیا تماشا روز نیا پکھنڈ روز نیا سلسلہ، آخر مسئلہ ہے کیا؟ آخر کو اِس مصیبت کا نام ہے کیا؟

کبھی دیکھو تو عورتوں کو نقاب کروا کر شاہراہوں کے بیچوں بیچ لا بٹھاتے ہیں، بھئی اِس سے کیا ہو جاتا ہے؟ کوئی تو اِن جاہلوں کو بتائے کہ ایسے شاہراؤں پہ صدیوں سے لوگ آتے رہے ہیں جاتے رہے ہیں، ایسے ہی کئی لوگ اِن سڑکوں پہ احتجاج کرتے رہے کیا ہو گیا؟ کیا تاریخ کا پیہہ پیچھے کو گھوما؟ نہیں ناں؟ کیا وقت سب کو روندتا ہوا آگے کو نہیں بڑھ گیا؟ اِن بلوچ عورتوں کو دو سال بٹھائے رکھو کچھ بھی نہیں ہونا. چھ بچوں کو رلانے کی بجائے چھ سو بچوں کو یہاں سڑکوں پہ لے آؤ اُن کو رلانے کی خوب مشق کرواؤ، پھر تصویریں بنواؤ، فیس بک نہیں بلکہ ہر میڈیا کی ذینت بنوا لو، جگہ جگہ پوسٹر لگا دو، کچھ بھی نہیں ہو گا. کیا اِن کے بھائی واپس آ جائیں گے؟ یار جن لوگوں نے اِن کے پیاروں کو غائب کیا ہے وہ لوگ نجانے کہاں ہوں گے؟ یہ چول کس کس کو ڈھونڈیں گے؟ جاؤ جا کر اپنی اپنی زندگیوں کو کیوں برباد کرتے ہو جا کر اپنی زندگی تو جیو!

اچھا اگر آپ کو اپنے بچوں کی فکر ہو رہی ہے تو آپ لوگ اُس وقت کہاں تھے جب آپ کے بچے ایک ملک ایک ریاست سے ٹکرانے والی حرکتیں کر رہے تھے؟ آخر بلوچستان میں دیگر لڑکے اور مرد بھی تو رہتے ہیں آخر اُن کو غائب کیوں نہیں کیا جاتا؟ آخر وہ لوگ بھی بلوچستان میں ہی رہ رہے ہیں، اُن کی لاشیں کیوں برآمد نہیں ہوتیں؟ کیا بلوچستان میں یہی بیس بائیس ہزار لڑکے رہتے تھے، نہیں ناں؟ تو پھر باقیوں کو کیوں کوئی غائب نہیں کرتا؟ کیا کسی نے اِن عورتوں سے یہ پوچھا ہے؟ جب آپ اپنے ملک کے خلاف بولو گے تو کیا اُس مُلک کے رکھوالے آپ پہ گرفت بھی نہ کریں؟ آپ پاکستان کی وحدت کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، قوم یا زبان یا قبیلے کی شناخت کی خاطر ایک مُلک کو توڑنے اور آزاد بلوچستان کے قیام کی باتیں کرتے ہیں، کیا آپ کو پکڑنا نہیں چاہیے؟ آپ ہمارے ساتھ رہتے ہیں، اسی ملک میں رہتے ہیں، یہیں کھاتے پیتے ہانگتے موتتے ہیں، یہیں رہ رہے ہیں، یہیں کھاتے ہیں، اسی ملک میں روزگار کرتے ہیں، یہیں سکولوں کالجوں میں پڑھتے ہیں، یہیں پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں، مگر رہنا بھی اسی پاکستان میں نہیں چاہتے، بھئی کیوں؟

ماما قادر یا پتہ نہیں ماما قدیر تھا یا کوئی دوسرا ماما چاچا بھی تھا. میں نے تو اُس کا نام حامد میر کے پروگرام میں سنا تھا. وہ بھی بلوچوں کا بڑا خان بنا پھرتا ہے جبکہ بلوچ اُس کو منہ بھی نہیں لگاتے. اچھا اُس ماما صاحب نے کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد تک ریڑھی چلائی، کیا ہو گیا؟ کچھ ہوا؟ کسی کے کانوں میں جوں رینگی؟ کسی نے پوچھا بتایا کہ رولا کیا ہے؟ معاملہ کیا ہے؟ نہیں ناں؟ اب کیا ہو جائے گا؟ اُس وقت بھی تو اُس کے ساتھ عورتیں ریڑھی لگاتی رہیں، کیا کچھ فائدہ ہوا؟ جلیلہ حیدر کو بھی ہم فیس بک پر دیکھتے رہے، کیا ہو گیا؟ اُس کی بھوک ہڑتال کا کیا فائدہ ہوا؟ آرمی چیف اُس کے پاس چل کر گیا، کیا ہو گیا؟ اب بھی کچھ نہیں ہونا. بس ہمارے اعصاب پہ نیا بوجھ سوار کر دیتے ہیں. جب ہم اپنے گھر جاتے ہیں، اپنے بچوں سے ملتے ہیں، اُن کا منہ ماتھا چومنے کی کوشش کرتے ہیں تو اِن کے روتے ہوئے بچوں کے چہرے نہ چاہتے ہوئے بھی آگے آ جاتے ہیں، ایویں اِن لوگوں کی وجہ سے ہمیں بھی عجیب عجیب فیلنگ آنا شروع ہو جاتی ہیں.

اچھا حکومت بھی عجیب ہے. بھائی سیدھا سیدھا حساب کتاب لگا کر بتا دے. یہ پیسے ہیں، یہ بلوچستان سے آئے یہ بلوچستان پہ لگے. یہ خسارہ ہے یہ منافع ہے. ہمیں بتا دیں کہ اِن کے گمشدگان کہاں ہیں؟ کیسے ہیں؟ ہم اپنی حکومت کے ساتھ ہیں، جو جو بندہ دو نمبر ہے لٹکا دیں، اِن کا منہ تو بند ہو.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *